قومی احتساب بیورو بدعنوان عناصر کی معاونت کر رہا ہے: سپریم کورٹ

Image caption سابق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے پلی بارگین سے متعلق چیئرمین نیب کے اختیارات کو معطل کر رکھا ہے

پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے کہا ہے کہ قومی احتساب بیورو ملک میں بدعنوان عناصر کا سہولت کار بنا ہوا ہے جس کی وجہ سے بدعنوانی کو جڑ سے اُکھاڑنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

یہ ریمارکس سپریم کورٹ کے جج جسٹس شیخ عظمت سعید نے پیر کے روز قومی احستاب بیورو کے 'پلی بارگین' کے اختیار سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران دیے۔

٭ نیب: پلی بارگین کیوں اور کیسے؟

٭ مشتاق رئیسانی کو دو ارب میں چھوڑنے کے فیصلے کا دفاع

٭ بدعنوانی کا الزام: بلوچستان کے سیکریٹری خزانہ گرفتار

سماعت کے دوران اُنھوں نےکہا کہ 250 روپے لینے والے نچلے گریڈ کے اہلکار کو پکڑ کر جیل بھیج دیا جاتا ہے جبکہ اربوں روپے کی کرپشن کرنے والے شخص کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔

جسٹس شیخ عظمت سعید نے نیب کے پراسیکیوٹر جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اُن کا ادارہ اخبارات میں 'کرپشن کر لو اور کرپشن کرالو کے اشتہارات' کیوں نہیں دیتا؟

اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے عدالت کو بتایا کہ نیب پلی بارگین سے متعلق اختیارات کے قانون کا غلط استعمال کر رہا ہے جس پر نیب کے پراسیکیوٹر جنرل وقاص ڈار کا کہنا تھا کہ ان کا ادارہ قانون کے مطابق ہی کام کررہا ہے اور یہ قانون نیب نے خود نہیں بنائے بلکہ پارلیمنٹ نے بنائے ہیں اس لیے نیب تو قانون کے مطابق ہی کام کرے گا۔

نیب کی پلی بارگین کے بارے میں از خود نوٹس کی سماعت کرنے والے بینچ کے سربراہ جسٹس امیر ہانی مسلم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ قوانین نیب نے نہیں بنائے لیکن وہ اس قانون کا غلط استعمال ضرور کر رہا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ کسی بااثر آدمی کو نہ پکڑنا اس کی واضح مثال ہے۔

Image caption بلوچستان کے سیکریٹری خزانہ مشتاق رئیسانی کی بدعنوانی کا مقدمہ میں نیب کی پلی بارگین کے فیصلے پر تنقید کی گئی تھی

نیب کے پراسیکیوٹر جنرل کا کہنا تھا کہ ماتحت عدالتوں کے حکم پر بھی ملزمان سے رقوم کی واپسی کے لیے پلی بارگین کی جاتی ہے جس پر بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ وہ ایسے عدالتی فیصلوں کو چیلنج کیوں نہیں کرتے۔

عدالت نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ وہ نیب کے قانون کی شق-25 کے بارے میں وفاق کا موقف ایک ہفتے میں پیش کریں جو پلی بارگین سے متعلق نیب کے چیئرمین کے اختیارات کی وضاحت کرتا ہے۔

عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ اس معاملے کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے سامنے رکھنے کے لیے چیف جسٹس کو لکھیں گے۔

واضح رہے کہ سابق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے پلی بارگین سے متعلق چیئرمین نیب کے اختیارات کو معطل کر رکھا ہے۔

بلوچستان کے سیکریٹری خزانہ مشتاق رئیسانی کی بدعنوانی کا مقدمہ نیب میں زیر سماعت تھا جس میں نیب نے اُن سے پلی بارگین کی تھی۔ مشتاق رئیسانی کی پلی بارگین پر ملک کے کئی حلقوں نے نیب کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

اسی بارے میں