نیب: پلی بارگین کیوں اور کیسے؟

نیب لوگو

پلی بارگین سے متعلق نیب آرڈیننس کی شق 25 دو حصوں پر مشتمل ہے جسے 2002 میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں نیب آرڈیننس میں شامل کیا گیا تھا۔

یہ قانون وائٹ کالر جرائم سے متلعق ہے جو مالی بدعنوانی میں ملوث افراد سے رقم واپس لینے کے بارے میں نیب کے چیئرمین کے اختیارات کے بارے میں ہے۔

یہ قانون دو حصوں پر مشتمل ہے۔ اس قانون کی شق ’اے‘ رضاکارانہ واپسی سے متعلق ہے، جس کے تحت اگر کسی شخص کے خلاف بدعنوانی کے الزامات ہیں اور یہ معاملہ ابھی انکوائری تک ہی محدود ہے تو اس میں ملزم کے پاس آپشن ہے کہ وہ انکوائری کے دوران کسی بھی مرحلے میں رضاکارانہ طور پر رقم واپس کر سکتا ہے جس کے بعد اسے کسی قانونی کارروائی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ تاہم اس کے لیے نیب کے چیئرمین کی منظوری لینا ضروری ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق بہت سے سرکاری افسران اور دیگر افراد خود پر لگائے گئے الزامات کو انکوائری کی حد تک ہی ختم کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور ہزاروں ایسے مقدمات کو ملزمان کی طرف سے رضاکارانہ واپسی کے بعد انکوائری کی حد تک داخل دفتر کر دیا گیا ہے۔

نیب ارڈیننس ایکٹ کی شق 25 کا ’بی‘ حصہ پلی بارگین سے متعلق ہے جس میں اگر کوئی معاملہ انکوائری سے تفتیش کے مرحلے تک پہنچ گیا ہے تو اس مرحلے میں کسی بھی موقعے پر ملزم رقم واپس کرنے پر راضی ہو جاتا ہے۔

چیئرمین نیب کی حتمی منظوری کے بعد یہ معاملہ عدالت میں بھجوایا جاتا ہےاور عدالتی منظوری کے بعد ملزم سے رقم کی ادائیگی کے لیے کہا جاتا ہے۔

نیب کے سابق ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل ذوالفقار بھٹہ کے مطابق یہ چیئرمین نیب کی صوابدید پر ہے کہ وہ ملزمان کی طرف سے کتنی رقم کی رضاکارانہ واپسی پر مطمئن ہوتے ہیں۔ یعنی یہ کہ ملزمان پوری رقم ادا کریں گے یا پھر رقم کے کچھ حصے کی ادائیگی کے بعد معاملہ ختم کر دیا جائے۔

تفتیش کے مرحلے میں اگر ملزم کی پلی بارگین منظور ہو جاتی ہے تو اس کو قانونی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس میں اگر وہ سرکاری ملازمت میں ہے تو اس کو نوکری سے ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ کوئی بھی عوامی عہدہ نہیں رکھ سکتا اور نہ ہی ایک خاص مدت کے لیے الیکشن لڑنے اور بینکوں سے قرض لینے کا اہل ہو سکتا ہے۔

تفتیش کے مرحلے میں پلی بارگین ہونے کے بعد اس معاملے کی تفتیش کرنے والے افسر کو بھی کچھ حصہ ملتا ہے۔

نیب میں تعینات ایک تفتیشی افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ اگر نیب کے اہلکار سرکاری ٹھیکوں میں ہونے والی خردبرد کا پتہ چلاتے ہیں تو برآمد ہونے والی رقم میں سے 25 فیصد نیب کے اکاؤنٹ میں چلاجاتا ہے۔

تفتیشی افسر کے مطابق اس رقم سے نہ صرف تفتیشی افسران کو کارکردگی کی بنیاد ہر تین سے چار اضافی تنخواہیں مل جاتی ہیں بلکہ اس کے علاوہ نیب میں کام کرنے والے اہلکاروں کے بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے بھی رقم خرچ کی جاتی ہے۔

تفتیشی افسر کے مطابق جس شخص نے عوام کا پیسہ لوٹا ہے تو اس سے جتنی بھی رقم برآمد ہوگی وہ ساری رقم متاثرہ افراد میں تقسیم کر دی جاتی ہے۔

ذوالفقار بھٹہ کے مطابق سندھ ہائی کورٹ نے ریکوری کے دوران نیب کے تفتیشی اہلکاروں کے لیے رقم لینے کو خلاف قانون قرار دیا تھا جس کے بعد اس رقم کو ’فلاح وبہبود‘ کا نام دیا گیا ہے۔

نیب کے سابق ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل کے مطابق ڈبل شاہ کیس میں رقم کی ریکوری کے دوران نیب کے تفیشی اہلکاروں نے کروڑوں روپے حاصل کیے تھے جبکہ یہ پیسہ عوام کا تھا اور متعدد متاثرہ افراد ابھی تک رقم کی واپسی کے منتظر ہیں۔

پنجاب کے وسطی علاقے وزیر آباد کے رہائشی ڈبل شاہ کے نام سے معروف ایک شخص نے لوگوں سے رقم کو ایک مہینے میں دگنا کرنے کا لالچ دے کر اربوں روپے لوٹے تھے۔ متاثرہ افراد میں سرکاری اہلکار بھی شامل ہیں۔

مبصرین کے مطابق قومی احتساب بیورو میں پلی بارگین کے قانون کو نہ صرف عدالتوں میں بلکہ سیاسی جماعتوں کی طرف سے بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے تاہم ابھی تک اس قانون میں ترمیم لانے کے لیے کوئی عمل اقدام نہیں کیے گئے۔

اسی بارے میں