ویرو کوہلی: جبر کے نظام کی باغی

ویرو کولھی
Image caption ویرو کولھی نے کئی سال تک خاندان سمیت زمینداروں کے پاس کام کیا اور ایک دن ذہن پر پڑی غلامی کی زنجیر توڑ دی

دو کمروں پر مشتمل گھر میں سے اے بی سی ڈی پڑھنے کی آواز گونج رہی ہے جبکہ کوہلی کمیونٹی کے روایتی رنگ برنگے لباس میں تقریباً 60 برس کی عمر کی خاتون کمرے کے باہر پیالے سے چائے کی چسکیاں لے رہی ہیں۔

ان کے چہرے پر اطمینان اور آنکھوں میں گہرائی واضح طور پر عیاں تھی۔

٭ موت سے زندگی کا سفر

٭ ’معذوری زندگی نہیں، زندگی کا حصہ ہے‘

حیدرآباد کے قریب پھلیلی نہر کے کنارے پر واقع یہ اسی ویرو کوہلی کا گھر ہے، جس نے کئی برس جبری مشقت میں گذارنے کے بعد بالاخر اس سے چھٹکارہ حاصل کرلیا۔

انھیں گذشتہ برس دسمبر میں انسانی حقوق کے صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا اور اس سے قبل انھیں امریکہ میں غلامی کے خلاف 'فریڈرک ڈگلس فریڈم' ایوارڈ دیا گیا تھا۔ ویرو نے گھر کا ایک کمرہ کسانوں کے بچوں کی تعلیم کے لیے وقف کر رکھا ہے۔

ویرو کوہلی کا کہنا ہے کہ تعلیم کے بغیر وہ اندھے ہیں اور زمیندار کو اس کی برتری حاصل ہے۔ 'زمیندار دیتا 500 روپے اور لکھتا 1000 روپے ہے، اسی وجہ سے وہ قیدی بناکر بیٹھا ہے۔'

Image caption ویرو کوہلی کا کہنا ہے کہ زمیندار دو وجوہات کے باعث کسانوں کو قید میں آجاتے ہیں، ایک حساب کتاب میں کیونکہ کسان پڑھے لکھے نہیں ہیں دوسرا اس کی نظر جوان بچیوں پر ہوتی ہے

گلوبل سلیوری انڈیکس 2013 کے مطابق پاکستان میں 20 لاکھ سے زیادہ لوگ غلامی کی زندگی گزارتے ہیں۔ ان میں زرعی زمینوں پر کام کرنے والے کسان خاندان بھی شامل ہیں۔ سندھ کے میر پورخاص ڈویژن میں جبری مشقت کے واقعات زیادہ پیش آتے ہیں جہاں کے بیشتر کاشتکار ہندو شیڈیول کاسٹ سے تعلق رکھتے ہیں۔

ویرو کوہلی نے کئی سال تک خاندان سمیت زمینداروں کے پاس کام کیا اور ایک دن ذہن پر پڑی غلامی کی زنجیر توڑ دی۔ ان کے بقول عمرکوٹ میں زمیندار کے پاس 2 سال کام کیا لیکن زمیندار نے حساب کتاب کے علاوہ اناج دینے سے صاف انکار کردیا اور انھیں کہیں آنے جانے کی بھی اجازت نہیں تھی۔ 'میں نے سوچا کہ اب یہاں نہیں رہنا۔'

'ایک روز میں نے شوہر سے کہا کہ میں یہاں سے نکل جاؤں گی۔ اس نے کہا کہ ہمارے پاس کرایہ تک نہیں ہے تم کہاں جاؤ گی کہیں کھو نہ جاؤ۔ میں نے کہا کوئی پرواہ نہیں۔ میں اپنے بھائیوں کے پاس پہنچ کر انھیں کہوں گی کہ زمیندار کا قرضہ ادا کرو۔'

ایک روز دوپہر کو انھوں نے کام دار کی نظروں سے بچ کر راہ فرار اختیار کی اور سورج کی تپش میں بغیر چپل کئی میل کا سفر پیدل طے کرکے کنری شہر پہنچیں جہاں جان پہچان والوں کے ذریعے بھائیوں تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئیں۔

'میرے بھائی اپنے مال مویشی بیچ کر 20 ہزار روپے لے کر زمیندار کے پاس پہنچے تاکہ خاندان کے دوسرے لوگوں کو رہا کرائیں لیکن زمیندار نے یہ کہہ کر انکار کیا کہ قرضہ چار لاکھ روپے ہے اس کے ساتھ یہ بھی مطالبہ کیا کہ ویرو کہاں ہے اس کو ہمارے حوالے کرو تاکہ اس کو گولی مار دیں۔'

Image caption ویرو کوہلی کو ایوارڈ سے جو رقم ملی اس میں سے دو کمروں پر مشتمل گھر بنوایا جس کا ایک کمرہ سکول کے حوالے کیا جبکہ نصف رقم جبری مشقت سے رہا ہونے والے کسانوں کے لیے وقف کردی

ویرو کا بھائی اسے لے کر ماتلی میں جبری مشقت سے رہائی پانے والے کسانوں کے کیمپ میں لےکر آیا جہاں انسانی حقوق کے کمیشن نے انھیں ایس ایس پی عمرکوٹ کے لیے ایک خط لکھا۔ وہ یہ خط لے کر رات کو چھپتے چھپاتی عمرکوٹ پہنچیں لیکن ایس ایس پی چھٹی پر تھا۔ انھوں نے دو دن دفتر کے احاطے میں ہی گذار دیے۔ بالاخر ایس ایس پی سے ملاقات ہوئی اور وہ ان کے ساتھ روانہ ہوا۔

'مرد تو زمیندار کے تشدد اور ڈر سے بھاگ گئے تھے صرف خواتین اور بچے کھیتوں میں کام کر رہے تھے، ایس ایس پی نے کہا اپنا گھر دکھاؤ۔ وہاں آیا تو آٹا تک دستیاب نہیں تھا کچھ جلی ہوئی بھوسے والی روٹیاں تھیں اس نے کہا کہ تم یہ کھاتے ہو۔ ہم نے بتایا کہ یہ بھی مشکل سے ملتی ہے، اس نے 45 افراد کو رہا کرا کے بودر تھانے کے حوالے کیا تاکہ بیانات قلمبند ہوں۔'

درد و تکلیف بیان کرتے ہوئے ویرو کے چہرے پر کرب آیا اور اس کے بعد آنکھوں میں آنسو آگئے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ تکلیف اب بھی انہیں ستاتی ہے اور انھیں دکھ ہوتا ہے۔

'ایس ایچ او نے مجھے دو روز تک تشدد کا نشانہ بنایا اور کہا کہ زمیندار کے پاس واپس جاؤ میں نے کہا کہ اگر مجھے یہاں مار بھی ڈالو تو بھی واپس نہیں جاؤں گی۔ بالاخر انھیں مجھے چھوڑنا پڑا۔

ویرو کوہلی محنت مزدوری کرتے ہوئے ساتھ میں دیگر کسانوں کی رہائی کے لیے بھی کوششیں کرتی رہیں۔ اس طرح انھوں نے 400 کسان رہا کروائے۔ کسانوں کے لیے کام کرنے والی تنظیم 'گرین رورل ڈوہلپمنٹ ارگنائزیشن' نے انہیں فریڈرک ڈگلس فریڈم ایوارڈ کے لیے نامزد کیا۔

Image caption کسانوں کے مسائل ویرو کو سیاسی میدان میں لے آئے اور انھوں نے گذشتہ عام انتخابات میں حصہ لیا۔ انھیں چھ ہزار ووٹ ملے

ویرو کوہلی کو ایوارڈ سے جو رقم ملی اس میں سے دو کمروں پر مشتمل گھر بنوایا جس کا ایک کمرہ سکول کے حوالے کیا جبکہ نصف رقم جبری مشقت سے رہا ہونے والے کسانوں کے لیے وقف کردی۔

ویرو کوہلی کا کہنا ہے کہ زمیندار دو وجوہات کے باعث کسانوں کو قید میں آجاتے ہیں، ایک حساب کتاب میں کیونکہ کسان پڑھے لکھے نہیں ہیں دوسرا اس کی نظر جوان بچیوں پر ہوتی ہے۔

'غریبوں کی کچھ بیٹیاں حسین بھی ہوتی ہیں۔ وہ کوئی اچھی لڑکی دیکھ کر اس پر نظر رکھتا ہے، اگر وہ خود نہیں تو اس کا بیٹا یا کام دار نظر رکھتا ہے بعد میں وہ اس کو اٹھاکر لے جاتے ہیں کبھی کبھار تو مذہب بھی تبدیل کردیتے ہیں۔'

اس وقت حیدرآباد اور عمرکوٹ میں جبری مشقت سے رہائی پانے والے کسانوں کے تین کیمپ موجود ہیں، جن میں تعلیم اور صحت سے لیکر پینے کے پانی کی کوئی سہولت دستیاب نہیں۔ حیدرآباد کے مضافات میں 'آزاد کیمپ واقع ہے جہاں ہر کسان ظلم و جبر کی ایک کہانی ساتھ لیے چلتا ہے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
’دوسروں کی زندگی بدلنے کا مشن‘
اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
’زندگی سے مایوسی اور پھر کامیابی کا سفر

ویرو کوہلی ان کیمپوں کے کسانوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں، دو روز قبل بھی ایک کسان اجمل بھیل کی بیوی سامو بھیل نے انہیں بتایا کہ

ان کے شوہر پر اغوا کا جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ضمانت کے لیے ان کے پاس وسائل نہیں ہیں۔ رسولی کے باعث وہ کام نہیں کرسکتیں جبکہ 12 سال کا بیٹا کام پر جاتا ہے جس سے گھر چل رہا ہے۔

کسانوں کے مسائل ویرو کو سیاسی میدان میں لے آئے اور انھوں نے گذشتہ عام انتخابات میں حصہ لیا۔ انھیں چھ ہزار ووٹ ملے۔ ویرو کوہلی کے مطابق انتخابی مہم کے دوران ان پر حملے کروائے گئے لیکن وہ ڈری نہیں۔ پھر 2 کروڑ روپے کی پیشکش کی گئی جو انھوں نے مسترد کردی۔

انتخابات کے بعد ان پر مقدمات کی بھر مار ہوگئی اور انھیں دو بار جیل جانا پڑا۔ بالاخر بدھ کو عدالت نے انھیں باعزت بری کردیا۔ ویرو کا کہنا ہے کہ وہ وڈیروں سے خوفزدہ تھیں اور نہ سیاست دانوں سے ڈرتی ہیں اس لیے دوبارہ بھی انتخابات میں حصہ لیں گی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں