’اسلام آباد نیو ایئرپورٹ پر آلات کی ٹیسٹنگ کا آغاز‘

اسلام آباد نیا ہوائی اڈہ تصویر کے کاپی رائٹ CAA Pakistan
Image caption اسلام آباد کے نیِ ہوائی اڈے کا ٹرمینل

پاکستانی دارالحکومت کے لیے بنائے جانے والے ہوائی اڈے کا تعمیراتی کام جنوری کے آخر تک مکمل ہو جائے گا۔ اس وقت عمارتیں مکمل ہو چکی ہیں، آلات کی تنصیب کا کام جاری ہے اور کچھ آلات کی ٹیسٹنگ فروری میں شروع کر دی جائے گی۔

یہ بات سیکرٹری ایوی ایشن ڈویژن عرفان الہٰی نے بی بی سی سے خصوصی انٹرویو میں بتائی۔

انھوں نے بتایا کہ ’ہمارا ہدف 14 اگست کو اس کا افتتاح کرانے کا ہے۔‘

عرفان الہٰی نے بتایا کہ ’ہوائی اڈے کی متعلقہ سہولیات پر بھی کام ساتھ ساتھ جاری ہے۔ پانی، سڑکیں، بجلی اور گیس ان پر بھی ساتھ ساتھ کام ہو رہا ہے۔‘

Image caption سیکرٹری ایوی ایشن محمد عرفان الٰہی نے بتایا کہ نئے ہوائی اڈوں کی تعمیر کے لیے بھی کام جاری ہے۔

اسلام آباد کے ساتھ جوڑنے کے لیے انھوں نے بتایا کہ ’ہم دو مقامات سے بسیں چلائیں گے۔ جو نجی شعبہ چلائے گا۔ یہ اسلام آباد اور راولپنڈی سے چلائی جائیں گی۔‘

اس مقصد کے لیے اشتہارات دیے جا رہے ہیں تاکہ ٹرانسپورٹر اس روٹ پر بسیں چلا سکیں۔

عرفان الہٰی نے مزید بتایا کہ ’دو روٹ مارچ تک مکمل ہو جائیں گے۔ تیسرے روٹ کی منصوبہ بندی چل رہی ہے جو سیدھا ہوائی اڈے تک جائے گا۔ اسی روٹ میں میٹرو بھی چل سکتی ہے اور ٹرین بھی چلائی جا سکے گی۔‘

سیکرٹری ایوی ایشن نے بتایا کہ ’اس کا راستہ گولڑہ موڑ سے ہوتا ہوا کوکاکولا فیکٹری کے ساتھ سے ہوتے ہوئے سیدھا نئے ایئر پورٹ تک جائے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Aftab Gillani
Image caption نیا ہوائی اڈہ ڈبل ڈیکر ایئربس A380 کے لیے پاکستان کا پہلا موزوں ہوائی اڈہ ہو گا

اسلام آباد ایئرپورٹ کے حوالے سے یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اس پر 15 ایئر برج ہوں گے یعنی پندرہ طیاروں کے ٹرمینل کے ساتھ اترنے اور سوار ہونے کی گنجائش ہو گی۔

اس کے علاوہ 15 طیاروں کے لیے ریمورٹ پارکنگ کی گنجائش ہو گی جو کے کل ملا کر 30 طیاروں کی گنجائش بنتی ہے۔

اس سوال پر کہ اس ایئرپورٹ کے رن وے دونوں بہت قریب ہیں ایوی ایشن ڈویژن نے وضاحت کی کہ دو رن وے ہونا ایک نعمت ہے اور جیسا کہ لاہور میں دو رن وے ہیں جو کہ بیک وقت کبھی بھی استعمال نہیں کیے جاتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFtab Gillani
Image caption نئے ہوائی اڈے کا تعیراتی کام جنوری کے آخر میں مکمل ہوجائے گا۔ یہ تصویر اگست 2016 میں لی گئی۔

وضاحت میں مزید بتایا گیا کہ دونوں رن وے اکٹھے ان ملکوں میں استعمال ہوتے ہیں جہاں ہر 30 سیکنڈ کے بعد ایک پرواز آتی جاتی ہے جو معاملہ یہاں ہر نہیں ہو گا مگر ایک رن وے کی عدم دستیابی یا اس پر کسی ایمرجنسی کی صورت میں دوسرا رن وے پروازوں کو بحال رکھ سکے گا۔

یاد رہے کہ اس نئے ہوائی اڈے کے منصوبے پر سوچ بچار کا آغاز 1984 میں شروع کیا گیا تھا جس پر عملی کام 2005 میں ہی شروع ہو سکا جو التوا کا شکار ہوتا ہوتا 2017 تک پہنچ گیا ہے۔

اس کے علاوہ سیکرٹری ایوی ایشن کے مطابق گلگت کے لیے ایسے ہوائی اڈے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر کام ہو رہا ہے جس پر جیٹ طیارے لینڈ کر سکیں جبکہ اس کے علاوہ مظفرآباد، راولاکوٹ، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان چترال اور گلگت کے لیے فیزیبلٹی تیار کی جا رہی ہیں کہ کیسے ان کو بہتر کیا جا سکتا ہے۔

اس ہوائی اڈے کا سنگِ بنیاد جنرل پرویز مشرف نے رکھا تھا اور 14 اگست کو اس کی تکمیل پر وزیراعظم نواز شریف اس کا افتتاح کریں گے۔

اسی بارے میں