حالیہ گمشدگیوں میں حکومت کے لیے اہم پیغام ہے: فرحت اللہ بابر

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کے ایوانِ بالا میں پاکستان پیپلرز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر فرحت اللہ بابر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں گذشتہ چند دنوں کے دوران لاپتہ ہونے والے سوشل میڈیا کے سرگرم کارکنوں کی بازیابی کے حوالے سے وزیرِ داخلہ کی یقین دہانی کے 36 گھنٹوں بعد ایک اور شخص کا اٹھا لیا جانا پارلیمان، وزیر اور حکومت کے لیے ایک اہم پیغام تھا۔

جمعے کے روز سینٹ کے اجلاس میں سینیٹر فرحت اللہ بابر نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’پارلیمان نوٹس لیتا ہے، فاضل وزیر یقین دہانی کراتے ہیں اور 36 گھنٹوں کے اندر ایک اور شخص کو اٹھا لیا جاتا ہے، پھرچھوڑ بھی دیا جاتا ہے تو اس میں کوئی پیغام ہے۔‘

٭ اسلام آباد سے لاپتہ پروفیسر کی جلد بازیابی کی ہدایت

٭ لاپتہ بلاگرز: انسانی حقوق کے کمیشن کا وزارتِ داخلہ کو نوٹس

واضح رہے کہ پروفیسر سلمان حیدر سمیت چار سماجی اور سوشل میڈیا کارکنان کی گمشدگی کے بعد چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے اسلام آباد سے ایک اور سماجی کارکن ثمرعباس کے لاپتہ ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے وزارتِ داخلہ سے جواب طلب کیا تھا۔

جس کے بعد توقع کی جارہی تھی کہ وزیرِ مملکت برائے داخلہ امور بلیغ الرحمان جوابدہی کے لیے جمعے کو سینیٹ میں پیش ہوں گے لیکن وہ غیرحاضر رہے۔

چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے کہا کہ اس موقع پرمیں پارلیمان کے دونوں ایوانوں کی جانب سے واضح بیان دوں گا کہ’پارلیمان کسی فرد، گروہ یا ریاستی عہدیدار کی اس طرح کی دھمکیوں پر کان نہیں دھرتی۔‘

سینیٹر فرحت اللہ بابر نے مالاکنڈ لاپتہ افراد کیس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’مالاکنڈ حراستی مرکز سے 35 لوگ لاپتہ ہوئِے اورسپریم کورٹ نے کہا کہ ان میں سے صرف سات افراد کو پیش کیا گیا۔ سپریم کورٹ نے نشاندہی بھی کردی کہ اس کے پیچھے کون لوگ ہیں پھر بھی کچھ نہ ہوا اور بلوچستان میں لاپتہ افراد کی مسخ شدہ لاشیں ملیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انھوں نے کہا کہ’میں سمجھتا ہوں کہ اب وقت آگیا ہے کہ یہ سینیٹ، پارلیمان اپنی ذمہ داری پوری کرے۔‘

لاپتہ افراد کے متعلق ایوان میں بات کرتے ہوئے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ ’انصاف کی تیز اور ارزاں فراہمی کے لیے کچھ عرصہ پہلے بننے والی ایک کمیٹی کی کچھ سفارشات میں سے ایک لاپتہ افراد سے متعلق بھی تھی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ان سفارشات پر مبنی ایک بل انٹیلیجنس اور سکیورٹی اداروں کو پارلیمان کے قانون کے تحت لانے سے متعلق تھا۔ آپ نے حکم دیا تھا کہ حکومت 60 دن کے اندر یا تو یہ بتائے کہ وہ یہ قانون سازی کیوں نہیں کرسکتی۔‘

انھوں نے چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ نے کہا تھا کہ اس بل پہ موجود اعتراضات پر پارلیمان میں بحث ہو اور اگر 60 دن کے اندر حکومت یہ نہ کرسکی تو پھر تمام پارلیمانی لیڈر اُسی بل کو دستخط کر کے ’پرائیویٹ بل‘ کے طور پرسینیٹ سے پاس کرائیں گے۔ 60 دن سے زیادہ گزر گئے ہیں تو اب میری آپ سے گزارش ہے کہ اس میں مزید تاخیر نہ کی جائے کیونکہ پہلے بلوچستان، فاٹا، سندھ سے لوگ پراسرار طریقے سےغائب ہو رہے تھے اب اسلام آباد سے ہو رہے ہیں۔‘

جواب میں چیئرمین سینٹ رضا ربانی نے کہا کہ ’آپ پارلیمانی لیڈرز سے بات کر کےاس بل کو پیش کریں۔‘

سینیٹ کی آئندہ کارروائی منگل 17 جنوری تک ملتوی کر دی گئی۔

اسی بارے میں