ایک قدم آگے اور دو قدم پیچھے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان میں اقلیتوں خصوصاً غیرمسلم آبادی کے حقوق دلانے کی باتیں سب کرتے چلے آ رہے ہیں لیکن اس جانب عملی اقدامات کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اکثر حکومتوں کو اقلیتوں کو ان کے حقوق دینے کی پاداش میں اپنی مقبولیت کھونے کا خوف ہوتا ہے۔

اگر پچھلے تین چار ماہ پر نظر دوڑائیں تو حالات قدرے بدلے بدلے محسوس ہو رہے تھے لیکن وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ واضح ہونے لگا ہے کہ شاید وہ ایک قلیل وقتی حسنِ اتفاق تھا۔ زمینی حقائق میں ان تبدیلوں سے کوئی خاص اثر نہیں پڑا ہے۔ ایک قدم آگے اور دو پیچھے ہی لیے جا رہے ہیں۔

٭ پشاور: ہندو مردے جلانے کے بجائے دفنانے لگے

٭یہ ٹرین اچھی ہے، مگر ہمیں تخفظ چاہیے!

ہندو میریج بل، ڈاکٹر عبدالسلام کا نام اسلام آباد کی یونیورسٹی کے ایک شعبے کو دینا اور پھر مذہب کی جبری تبدیلی کو روکنے سے متعلق سندھ میں قانون سازی (جو اگر اب معلق یا معطل ہوگئی ہے) اور وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے غیرمسلموں کے بارے میں حوصلہ افزا بیانات نے امید بڑھائی کے شاید مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو ستر سال سے جاری پرانی غلطیاں درست کرنے کا خیال آگیا ہے۔

وزیر اعظم نواز شریف نے حالیہ دنوں میں کئی ایسے بیانات دیے ہیں جن کا بظاہر مقصد اقلیتوں کو یقین دلانا ہے کہ ان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا۔ ’میں محض مسلمان پاکستانیوں کا نہیں اقلیتوں کا بھی وزیر اعظم ہوں، بہت جلد پاکستان کو اقلیت دوست ملک کے طور پر دیکھا جائے گا۔‘

سال 1998 کی مردم شماری سے معلوم ہوا کہ پاکستان میں 95 فیصد آبادی مسلمان ہے۔ غیرمسلم آبادی لگ بھگ پانچ فیصد حصے پر مشتمل ہے جن میں عیسائی، ہندو، پارسی/آتش پرست، سکھ، بدھ مت اور دیگر افراد شامل ہیں۔

چونکہ پاکستان کی غیرمسلم اکثریت صوبہ سندھ میں رہتی ہے لہذا اکثر تبدیلیاں وہیں دیکھی جا رہی ہیں۔ مذہب کی جبری تبدیلی کا سندھ اسمبلی سے منظور بل قانون تو اب تک نہیں بن سکا اور غائبانہ دباؤ کے تحت صوبے میں حکمران جماعت پیپلز پارٹی بظاہر بیک فٹ پر چلی گئی ہے۔ مذہبی جماعتوں کے دباؤ کے تحت اب اس بل میں ترمیم پر غور ہو رہا ہے، لیکن اس بل نے بھی حکمرانوں کی نیک نیتی تو ظاہر کر دی لیکن ان کی اصولوں پر ڈٹے رہنے کی کمزوری بھی عیاں کر دی۔

پاکستانی سیاست کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتیں ظاہری طور پر تو لیبرل اور ترقی پسند ہوتی ہیں اور دل سے بھی شاید ہوں لیکن مصلحتی سیاست انھیں اسے عملی شکل دینے سے روکتی ہے۔ نواز شریف فوجی آمر جنرل ضیا الحق کے زیر اثر ابتدا میں قدرے قدامت پسند سیاستدان رہے لیکن بےنظیر بھٹو کی موت کے بعد ان کی سوچ میں تبدیلی آئی۔ وہ اپنے آپ کو اقلیتوں کا دوست اور عملی انسان ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ان اچانک تبدیلیوں کی وجوہات کیا ہوسکتی ہیں؟

بعض ماہرین اسے پشاور سکول حملے کے بعد حکومتی پالیسی میں آنے والی تبدیلی سے جوڑتے ہیں۔ ان کے خیال میں یہ ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تیار کیے گئے قومی ایکشن پلان کا حصہ ہے، لیکن بعض اسے کچھ عالمی خصوصا اقوام متحدہ کے دباؤ کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ عالمی امداد اور اپنی ایک مہذب ملک کے طور پر حیثیت برقرار رکھنے کے لیے چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے بھی قانون سازی کرنی پڑتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

لیکن بعض تجزیہ نگار اس ہلچل کے پیچھے ہمسایہ ملک انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کا دباؤ بھی مانتے ہیں لیکن حکمراں مسلم لیگ (ن) کے اقلیتی نشست پر منتخب رکن قومی اسمبلی اور پاکستان ہندو کونسل کے سربراہ ڈاکٹر رمیش وانکوانی اس سے متفق نہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے انھوں نے کہا کہ ’اس صورتحال کا جو اثر انڈیا میں لیا جا رہا ہے وہ غلط ہے کہ یہ سب کچھ مودی یا ٹرمپ کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ یہ باتیں حکومت میں آنے سے پہلے سے پارٹی منشور میں تھیں اور نواز شریف عملی شخص ہیں۔ سندھ میں بل کی واپسی سے وہ عناصر مضبوط ہوئے ہیں جو ان تبدیلیوں کے مخالف ہیں۔ انھیں (حکومتوں) کو یہ پہلے دیکھ لینا چاہیے کہ جو کام وہ کریں اسے ریورس نہیں کیا جانا چاہیے۔‘

خود ڈاکٹر رمیش ہندو میرج بل کافی مشکل سے تین سال کی کوششوں کے بعد پارلیمان سے منظور کروانے میں کامیاب ہوئے۔ ’میں نے تین سال ہندو بل کے لیے محنت کی اگرچہ یہ تین دن کا کام تھا۔ میرے خیال میں تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر اس کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’مثبت تبدیلی کی جانب یہ اب تک زبانی حد تک پیش رفت ہے اور جب ان پر عمل درآمد ہوگا تو تب حقیقی تبدیلی آئے گی۔ ابھی تک میں بحیثیت ہندو رہنما نہیں سمجھتا کہ یہ اتنا آسان ہے کہ ہمارے تمام حقوق مل پائیں۔‘

جبری مذہب کی تبدیلی کے بل کی واپسی سے ان کا کہنا تھا کہ یہ ثابت ہو گیا کہ سیاسی جماعتیں مذہبی جماعتوں کے دباؤ میں رہتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بل کی واپسی سے ان کی برادری کے لیے مزید مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔

سیاسی جماعتیں ووٹ کی یرغمال رہی ہیں۔ پاکستان میں عام انتخابات میں ایک سال کا وقت رہ گیا ہے۔ ایسے میں یہ انتخابات ایک ایسے وقت آ رہے ہیں جب مذہبی اقلیت کے ووٹروں کی تعداد 30 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق سندھ کے 13 اور پنجاب کے دو اضلاع میں ان کی تعداد کلیدی اہمیت اختیار کرگئی ہے جو وہاں کے انتخابی منظر نامے کو تبدیل کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکی ہے۔ تازہ قانون سازی شاید انہیں ووٹروں کی حمایت حاصل کرنے کی ایک کوشش ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں