لاپتہ بلاگرز کی فوری بازیابی قومی مفاد میں ہے، ایچ آر سی پی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایچ آر سی پی کے بقول لاپتہ ہونے والے بلاگرز نے اگر کچھ غلط کیا بھی ہے تو تب انہیں اس طرح اٹھانا غلط ہے

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے گزشتہ دنوں کئی بلاگرز کے لاپتہ ہونے کے بعد، سول سوسائٹی کے سرگرم کارکنوں میں عدم تخفظ کے احساس پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے لاپتہ بلاگرز کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔

سنیچر کو جاری ہونے والے ایک بیان میں ایچ آر سی پی کا کہنا تھا کہ 'حکام یقینا چار بلاگرز کے لاپتہ ہونے کے بعد پیدا ہونے والے عدم تحفظ کے ماحول سے آگاہ ہیں۔'

'بےچینی صرف چار بلاگرز کے لاپتہ ہونے کے بعد نہیں بلکہ ان بلاگرز کے خلاف آن لائن غلط مہم سے بھی پھیل رہی ہے۔'

ایچ آر سی پی کا کہنا تھا کہ جنہوں نے بھی یہ کام کیا ہے، انہوں نے پاکستان کی کوئی خدمت نہیں کی بلکہ پاکستان کے تشخص کو خراب کیا اور اب پاکستان کا شمار ایسے ملکوں میں ہونے لگا ہے جہاں سائبر سپیس میں اپنی رائے کا اظہار کرنے والے غیر محفوظ ہو گئے ہیں۔

تنظیم کا کہنا تھا کہ ریاست اور حکومت کو ان وجوہات پر غور کرنا چاہیے جس کے باعث ان بلاگرز کے لاپتہ ہونے پر سکیورٹی ایجنسیوں پر انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK
Image caption وزیرداخلہ کی یقین دہانی کے باوجود پروفیسر سلمان حیدر کو ابھی تک بازیاب نہیں کرایا جا سکا

ایچ آر سی پی کے بقول لاپتہ ہونے والے بلاگرز نے اگر کچھ غلط کیا بھی ہے تو تب انہیں اس طرح اٹھانا غلط ہے اور اگر واقعی ایسا ہے تو قانون پر عمل کیا جائے اور عدالتوں کو ان کیسوں کی سماعت کا موقع ملنا چاہیے۔

'بغیر کسی تاخیر کے ان بلاگرز کی بازیابی سب کے مفاد میں ہے۔ اور یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ قومی مفاد اسی میں ہے کہ قانون کا احترام کیا جائے اور طریقہ کار پر عمل کیا جائے۔'

ایچ آر سی پی نے حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ سول سوسائٹی کے سرگرم کارکنوں اور بلاگرز کو یقین دلائے کہ حکومت ان کے حقوق کی خلاف ورزی کو روکنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور انہیں ایسا پرامن ماحول فراہم کرنے کی بھی جس میں رائے کا اظہار ممکن ہو۔

خیال رہے کہ چار سماجی اور سوشل میڈیا کارکنان سلمان حیدر، عاصم سعید، وقاص گورایہ، اور احمد رضا کی گمشدگی کے بعد اب ایک اور سماجی کارکن ثمر عباس لاپتە ہو گئے ہیں۔