وزیر اعظم نے کوئی غلط بیانی نہیں کی تو پھر استثنیٰ کیوں مانگ رہے ہیں: سپریم کورٹ

Image caption درخواستوں کی سماعت 13 جنوری کو پھر ہوگی اور وزیراعظم کے وکیل اپنے دلائل جاری رکھیں گے

پاناما لیکس کی دستاویزات سے متعلق سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے بینچ نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی میں وزیر اعظم نے کوئی غلط بیانی نہیں کی تو پھر وہ اس بارے میں استثنیٰ کیوں مانگ رہے ہیں۔

عدالت عظمیٰ کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کی تقریر کو محض ایک بیان کے طور پر نہیں لیا جاسکتا کیونکہ اُن کی تقریر ہی عدالتی کارروائی کی بنیاد ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق پیر کے روز جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے پاناما لیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی۔

وزیر اعظم کے وکیل مخدوم علی خان نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اگر ہم استنثی نہ بھی مانگیں تو پھر بھی عدالت کو قانون کے مطابق ہی فیصلہ کرنا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 66 پارلیمنٹ میں کی گئی کارروائی کو تحفظ فراہم کرتا ہے اور اسے عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ اُنھوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں محض ججز کے رویے کو زیر بحث نہیں لایا جاسکتا۔

مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ محض پارلیمنٹ میں کی گئی تقاریر پر کسی شخص کو نااہل قرار نہیں دیا جاسکتا۔

بینبچ میں موجود جسٹس اعجاز الا احسن نے وزیر اعظم کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا وہ میاں نواز شریف کی تقریر کی تردید کر رہے ہیں؟

جس پر مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ وہ اس کی تردید تو نہیں کر رہے البتہ عدالت کو اس معاملے میں آئین کے آرٹیکل 66 کو سامنے رکھنا ہوگا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پہلے تو اُن کے موکل نے کہا تھا کہ وہ اس بارے میں کوئی استثنی نہیں لیں گے اور اب آپ استثنی کی بات کرر ہے ہیں۔ جس پر وزیر اعظم کے وکیل کا کہنا تھا کہ اگر استثنی نہ لینے کی بات بھی کریں تو پھر بھی عدالت کو آئین کو دیکھنا ہوگا۔

اُنھوں نے کہا کہ استثنی پارلیمنٹ کو حاصل ہے اور وہی اس کو ختم کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔

بینچ میں موجود جسٹس عظمت سعید نے استفسار کیا کہ کیا پارلیمنٹ میں بولے گئے جھوٹ پر آئین میں نااہلی سے متعلق واضح کیے گئے قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا جس پر وزیر اعظم کے وکیل کا کہنا تھا کہ انڈین سپریم کورٹ میں ایسے فیصلے موجود ہیں جن پر اس بارے میں قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا۔

جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ کیا پارلیمنٹ میں غلط بیانی کرنے پر بھی استحقاق کا معاملہ اُٹھایا جاسکتا ہے۔

مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ اُن کے موکل نے کوئی غلط بیانی نہیں کی اور اگر کی بھی ہے تو پھر بھی وزیر اعظم کو آئین کے تحت استثنی حاصل ہے۔

بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ عدالت کے سامنے وزیر اعظم کی تقاریر کو بنیاد بناتے ہوئے اُن کی نااہلی کا معاملہ نہیں ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ تقاریر ضمنی مواد اور دستاویزات ہیں اور عدالت نے فیصلہ شواہد کی بنا پر کرنا ہے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ ان تقاریر سے محض معاملے کا اندازہ لگانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

ان درخواستوں کی سماعت منگل کے روز پھر ہوگی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں