پاناما کیس: ’جھوٹ بولنے پر‘ حزب مخالف کی وزیراعظم نواز شریف کے خلاف تحریک استحقاق

نواز شریف تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پارلیمنٹ میں موجود پاکستان کی حزب مخالف کی جماعتوں نے پاناما لیکس کی دستاویزات سے متعلق سپریم کورٹ میں درخواستوں کی سماعت کے دوران وزیرِاعظم کی طرف سے مبینہ طور پر جھوٹ بولے جانے پر قومی اسمبلی سیکرٹیریٹ میں تحریک استحقاق جمع کروائی ہے۔

قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کی سربراہی میں جمع کرائی گئی اس تحریک استحقاق میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ میں ان درخواستوں کی سماعت کے دوران وزیراعظم کی جانب سے ایوان میں کی جانے والی تقریر کو عدالتی کارروائی کا حصہ نہ بنانے سے متعلق ان کے وکیل نے عدالت میں درخواست جمع کرائی، جو ایوان کا وقار مجروح کرنے کے مترادف ہے۔

’وزیر اعظم نے غلط بیانی نہیں کی تو استثنیٰ کیوں مانگ رہے ہیں‘

تحریک استحقاق وزیر اعظم پر کب کب

اس تحریک استحقاق میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایوان کا اجلاس طلب کرکے اس معاملے پر بحث کروائی جائے۔

سید خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ جب نواز شریف نے اپنی تقریر میں کہا ہے کہ اُن کے پاس پانامالیکس سے تمام شواہد موجود ہیں تو پھر پارلیمنٹ میں کی گئی تقریر پر استثنیٰ کیوں مانگ رہے ہیں۔

واضح رہے کہ حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے بھی وزیر اعظم کی طرف سے مبینہ طور پر عدالت میں جھوٹ بولنے سے متعلق قومی اسمبلی میں تحریک استحقاق جمع کروائی تھی تاہم قومی اسمبلی کے سپیکر نے اس قرارداد کو ایوان میں پیش کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔

امکان ہے کہ آئندہ ہفتے شروع ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں یہ تحریک استحقاق ایوان میں پیش کی جائے گی۔

واضح رہے کہ پانامالیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران وزیر اعظم کے وکیل مخدوم علی خان نے موقف اختیار کیا تھا کہ پارلیمنٹ میں ہونے والی کارروائی کو کسی بھی عدالت میں شہادت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔

اُنھوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 66 کے تحت پارلیمنٹ میں ہونے والی کارروائی کو استثنیٰ حاصل ہے۔

جمعرات کے روز ان درخواستوں کی سماعت کے دوران جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں قائم ہونے والے اس پانچ رکنی بینچ میں شامل جسٹس اعجاز افضل کا کہنا تھا کہ ان درخواستوں میں وہی دستاویزات بطور شواہد تسلیم کی جائیں گی تو تصدیق شدہ ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ محض مفروضوں پر اتنے مقدمات میں فیصلے نہیں دیے جاسکتے۔

مخدوم علی خان نے اپنے دلائل میں کہا کہ آف شور کمپنیاں بنانا جرم نہیں ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ریاست پاکستان نے بھی ٹیکس سے بچپنے کے لیے نیوریارک اور پیرس میں روز ویلٹ ہوٹل چلا رہی ہے۔ اس پر بینچ میں موجود جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ عدالت کے سامنے آف شور کمپنیوں کا معاملہ نہیں ،نااہلی کا معاملہ ہے اور عدالت غیر متنازع دستاویزات حاصل کرنے کے لیےکوشاں ہے۔

بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہ آف شور کمپنیاں بنانا غیر قانونی نہیں ہے البتہ غیر قانونی رقم کو چھپانے کے لیے آف شور کمپنیاں بنانا غیر قانونی ہے۔

مخدوم علی خان نے اس مقدمے میں اپنے دلائل مکمل کر لیے ہیں اور جمعے کے روز جماعت اسلامی کے وکیل اپنے دلائل شروع کریں گے۔

اسی بارے میں