’بلاگرز پر مقدمات قائم کرنے کی خبروں میں صداقت نہیں ہے‘

چوہدری نثار علی خان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بیان کے مطابق منفی پراپیگنڈے اور غلط معلومات کی تشہیر سے لاپتہ بلاگرز کے اہلِ خانہ کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے

پاکستان کے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے لاپتہ ہونے والے بلاگرز پر مقدمات قائم کرنے کے حوالے سے میڈیا رپورٹس اور سوشل میڈیا پر جاری پراپیگنڈے کا نوٹس لیا ہے۔

وزارت داخلہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بلاگرز پر مقدمات قائم کرنے کی خبروں میں قطعاً کوئی صداقت نہیں ہے۔

’توہین مذہب کے الزامات کا مقصد عوام کی ہمدردانہ رائے کو متاثر کرنا‘

لاپتہ بلاگرز کی فوری بازیابی قومی مفاد میں ہے، ایچ آر سی پی

لاپتہ بلاگرز: انسانی حقوق کے کمیشن کا وزارتِ داخلہ کو نوٹس

اس مہم کے حوالے سے بیان جاری کرتے ہوئے وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا کہ بعض عناصر کی جانب سے اس معاملے میں غلط معلومات کی تشہیر کا مقصد معاملے کو مزید الجھانا ہے۔

بیان کے مطابق منفی پراپیگنڈے اور غلط معلومات کی تشہیر سے لاپتہ بلاگرز کے اہلِ خانہ کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

وزیرِداخلہ نے لاپتہ افراد کے خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت حکومت کی تمام تر توجہ بلاگرز کی باخیریت بازیابی ہے۔

گذشتہ دو ہفتوں کے دوران سوشل میڈیا پر سرگرم پانچ بلاگرز اور سماجی کارکن وقاص گورایہ، عاصم سعید، احمد رضا، سلمان حیدر اور ثمر عباس لاپتہ ہو گئے تھے۔

جبری گمشدگی کا شکار ہونے والے بلاگرز اور سماجی کارکنوں کے خلاف سوشل میڈیا پر جاری مہم سنگین شکل اختیار کر چکی ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سایٹ ٹویٹر اور فیس بک پر ان کے مبینہ اکاؤنٹس کی بعض پوسٹس شیئر کرتے ہوئے ان پر توہین مذہب کا الزام عائد کیا جا رہا ہے ۔

تاہم وقاص گورایہ اور سلمان حیدر کے اہل خانہ نے گذشتہ روز نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے توہین مذہب کے الزامات کو رد کیا تھا۔

ان بلاگرز کے اہل خانہ نے وزیر اعظم نواز شریف، وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان سے لاپتہ ہونے والے بلاگرز کی بازیابی کا مطالبہ کیا تھا۔

لاپتہ بلاگرز کے اہلِ خانہ کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر جاری مہم سے ان کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں