گذشتہ سال پاکستان میں آٹھ سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے: وزارت داخلہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کی وفاقی وزارتِ داخلہ کی جانب سے سینیٹ میں پیش کیے جانے والے اعداد وشمار کے مطابق 2016 میں گذشتہ تین سالوں کے مقابلے میں دہشت گردی کے سب سے کم واقعات پیش آئے ہیں۔

جمعرات کو ایون بالا یعنی سینیٹ میں وزارت داخلہ کی جانب سے تحریری طور پر پیش کے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق 2016 میں دہشت گردی کے 785 واقعات میں 804 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ2015 میں ایسے واقعات کی تعداد 1139 تھی جن میں 838 افراد ہلاک ہوئِے تھے۔

وزارت داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق 2013 سے2017 کے دوران دہشت گردی کے مجموعی طور پر 5321 واقعات پیش آئے جس میں 4613 افراد ہلاک جبکہ 12188 زخمی ہوئے۔

نامہ نگار شمائلہ خان کے مطابق ملک میں دہشت گردی کے لیے فنڈنگ کرنے والے ذرائع سے متعلق ایک سوال پر بتایا گیا کہ ’اس قسم کی فنڈنگ کے ذرائع سے متعلق سو فیصد معلومات حاصل کرنا مشکل ہے تاہم اندازے کے مطابق فنڈز کی فراہمی کے لیے جن عام ذرائع کی نشاندہی کی گئی ہے اُن میں بھتہ وصولی، بعض غیر ملکی حساس اداروں اور پاک افغان سرحد پر سرگرم عمل منشیات فروش شامل ہیں۔‘

اس پر بلوچستان سے سینیٹر سردار محمد اعظم موسیٰ خیل نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ملک میں 31 ایجنسیاں ہیں، پھر بھی ہم کہتے ہیں 'اندازے' کے مطابق۔ حقائق اور اعداد و شمار کیوں نہیں بتا سکتے؟ اتنی ایجنسیوں کو ہم پال رہے ہیں اس کے باجود ہم اندازے سے حکومت کو چلا رہے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

جس پر وزیرِ مملکت برائے داخلہ امور بلیغ الرحمان نے دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’دراصل فنڈنگ کہاں سے آرہی ہے اُس کا نشان نہیں چھوڑا جاتا تو کئی دفعہ اُس تک پہنچنا ممکن نہیں رہتا، البتہ جو یہ 'اندازے' ہیں اس میں کچھ انٹیلی جنس کے بھی اندازے شامل ہیں۔'

واضح رہے کہ ملک میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کی ذمہ داری وزارتِ داخلہ کے سپرد ہے۔

وزیرِ مملکت برائے داخلہ امور نے مزید کہا: ’یہ روایت ہی ابھی شروع ہوئی ہے کہ صفورا جیسے ہائی پروفائل کیسز کے ملزمان پکڑے گئے۔ پہلے تو یہ بھی نہیں تھا، تو کارکردگی بہتر ہوئی ہے۔‘

سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی نے دہشت گرد گروہوں کو فنڈنگ فراہم کرنے والے ممالک کے بارے میں سوال کرتے ہوئے کہا کہ ’کیا فنڈنگ فراہم کرنے میں ہمارے کچھ دوست ممالک بھی شامل ہیں؟ شاید بعض اوقات ہم ان کا نام لیتے ہوئے گھبراتے ہیں۔ کیا ہمارے ادارے انھیں روکنے کے لیے سرگرم ہیں؟

وزیرِ مملکت برائے داخلہ امور بلیغ الرحمان نے اس سوال کا کوئی واضح جواب نہیں دیا البتہ ان کا کہنا تھا کہ’ہمارے ادارے تمام پہلوؤں کو دیکھتے ہیں اور کسی کو نظرانداز نہیں کرتے ہیں۔ تاہم کسی حتمی تنیجے پر پہنچنے سے پہلے کسی ملک کی طرف انگلی اٹھانا بہت نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں