'ڈیجیٹل دور میں دہشت گردی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

اسی ہفتے کے دوران پاکستانی فوج کے سابق سربراە اور وزیر اعظم نواز شریف ڈیووس سوئٹزرلینڈ میں ہیں جہاں عالمی اقتصادی فورم جاری ہے۔ جنرل راحیل شریف کے پرستار میڈیا اور خصوصاً سوشل میڈیا پر جنرل راحیل شریف کی اہم گفتگو کا زیادە چرچا نہیں ہوا اسی لیے اس پر پہلے بات کرتے ہیں۔

'ڈیجیٹل دور میں دہشت گردی

پاکستانی فوج کے سابق سربراہ جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف نے گذشتہ ہفتے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیوس میں عالمی اقتصادی فورم سے خطاب کیا۔

جہاں وزیرِاعظم پاکستان بهی ڈیوس میں موجود تهے مگر دہشت گردی کے خلاف جنگ جیسے اہم موضوع پر بات کرنے کے لیے جنرل راحیل شریف موجود تهے۔

جنرل راحیل کا موضوع بهی انتہائی اہم تها جوکہ 'ڈیجیٹل دور میں دہشت گردی‘ تها جس پر انهوں نے اظہارِ خیال کیا۔

بطور چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف میڈیا کی توجہ کا مرکز تو رہے مگر انهوں نے بہت کم اس طرح پبلک فورم پر اظہارِ خیال کیا یا سوالات کے جواب دیے جیسے ڈیووس میں صورتحال تهی۔

جنرل راحیل نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف ایک جوابی بیانیے کی ضرورت ہے۔

انهوں نے کہا کہ 'دہشت گردوں کے پاس کو ڈیجیٹل دور میں جو پلیٹ فارم دستیاب ہیں چاہے وہ سوشل میڈیا ہو یا کوئی بهی اور پلیٹ فارم ہو۔ وہ اسے بہت ہی موثر طریقے سے استعمال کرتے ہیں۔'

انهوں نے کہا کہ 'نہ صرف اس پر بهرتی کا کام ہوتا ہے بلکہ مالی معاونت کرنے والے، امداد کرنے والے، سہولت کار، سلیپر سیل اور ان سے ہمدردی رکهنے والے سب اس میں ملوث ہیں۔'

جنرل راحیل نے کہا کہ 'آزاد دنیا کو چاہیے کہ وہ متحد ہو کر اس فتنے کے خلاف اتنی تیزی سے کارروائی کریں۔ بلکہ ہمیں اس فتنے سے نجات حاصل کرنے کے لیے یلغار کرنی چاہیے۔'

دہشت گردوں کے حوالے سے انهوں نے کہا کہ 'ایسا نہیں کہ کوئی غاروں سے کوئی بیٹه کر ایسے کر رہا ہے بلکہ اس پاگل پن کے پیچهے ایک نظام ہے اور دنیا پہلے ہی اس کے خلاف کارروائی کرنے میں دیر کر چکی ہے۔'

فیس بُک سنسرشپ کے حوالے سے معاملات کو شفاف بنائے

دنیا کے ستر سے زیادہ انسانی حقوق کے کلیدی گروپس نے فیس بُک پر الزام لگایا ہے کہ وہ سفید فام لوگوں کے علاوہ 'دوسروں کے ساتھ امتیازی سلوک برتتے ہیں'۔

ان گروپس نے فیس بُک کے بانی مارک زکربرگ کو خط لکھا ہے اور اس میں مطالبہ کیا ہے کہ فیس بُک جب کسی پوسٹ کو ہٹاتی ہے تو اس کی وجہ بیان کرے اور یہ بھی واضح کرے کہ اس نے کون سا قاعدہ توڑا ہے اور اس پر اپیل کا حق بھی دے۔

اس خط میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ فیس بُک ایک رپورٹ شائع کر کے عام عوام کے لیے مہیا کرے جس میں یہ بتایا جائے کہ اس نے کتنی پوسٹس ہٹائیں اور ان میں سے کتنی نفرت پر مبنی مواد کے زمرے میں آتی ہیں۔

اس ہفتے کا تعارف

گذشتہ ہفتے ہم نے دہلی کے ایک فوٹوگرافر کا ذکر کیا تو اس ہفتے پاکستان سے ایک فوٹوگرافر خمیس کا ذکر کریں گے جنھوں نے اپنی تصاویر میں بلوچستان کے حسین علاقوں کے مناظر پیش کیے ہیں۔ آپ اُن کی تصاویر ان کے انسٹاگرام پر دیکھ سکتے ہیں

اس ہفتے کی تصاویر

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جب سردی آجائے مگر گیس نہ آئے۔ اسلام آباد کے مضافات سے لی گئی یہ تصویر
تصویر کے کاپی رائٹ Muqeem Baig
Image caption ہنزہ کے گاؤں شمشال سے تعلق رکپنے والے کوہ پیما مقیم بیگ نے یورپیئن ایلپس کے پہاڑی چوٹی ٹور روندے سر کی

متعلقہ عنوانات