20 جنوری کے بعد آنے والے دنوں میں دنیا کی کیا شکل ہو گی؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

میرے چاروں طرف جسم ہی جسم تھے اور میں ان کے درمیان یوں گھرا ہوا تھا جیسے کسی دلدل میں ناک تک دھنس گیا ہوں۔

کھوے سے کھوا چھلنے کا محاورہ تو سن رکھا تھا، اس کا عملی مظاہرہ آج دیکھا کہ یہاں صرف کھوے (کندھے) سے کھوا نہیں، بلکہ سر، ہاتھ، پاؤں، سب کچھ جسموں کے لامتناہی سلسلے میں یوں الجھ گئے تھے گویا ایک ہی جسم ہے جس کی ہزاروں ٹانگیں، ہاتھ، اور سر ہیں اور وہ لہراتا، بل کھاتا ہوا شمال کی سمت بڑھے چلے جا رہا ہے۔

یہ 20 جنوری 2009 کی چمکیلی، نکھری، نتھری صبح تھی۔ میں معمول کے مطابق اپنا چھوٹا سا سیاہ بیگ کندھے سے لٹکا کر تیار ہو کر اپارٹمنٹ سے نکلا تھا۔ دفتر پہنچنے میں ٹھیک 17 منٹ لگتے تھے، لیکن میں واشنگٹن ڈی سی کے ساؤتھ ویسٹ کے علاقے میں جب پوٹومک پلیس سے گزر کر ہائی سکول کے آگے پہنچا تو یکایک ٹھاٹھیں مارتے ہوئے دریا نے کسی فلیش فلڈ کی طرح اچانک مجھے گھیر لیا اور تنکے کی طرح بہاتا ہوا ساتھ لے گیا۔

مجھے معلوم تھا کہ پچھلی رات واشنگٹن ڈی سی میں نہ صرف ملک کے مختلف شہروں بلکہ دنیا کے مختلف ملکوں سے تاریخ کے اس خاص موڑ میں شرکت کرنے 20 لاکھ لوگ غول در غول اترے ہیں اور اب ان کی منزل کیپیٹل ہل کے سامنے پھیلا وسیع و عریض سبزہ زار ہے جہاں کچھ ہی دیر بعد امریکہ کے پہلے سیاہ فام صدر براک حسین اوباما کا جشنِ حلف برداری شروع ہو رہا ہے۔

آج خود میری امیدوں کا پارہ چھت کو چھو رہا تھا۔ صبح اٹھ کر جب مجھے یاد آیا کہ آج 20 جنوری ہے تو وہی کیفیت طاری ہوئی جب بچپن میں عید کی صبح آنکھ کھلنے کے بعد پہلی بار احساس ہوتا تھا کہ آج کون سا دن ہے تو دل بےاختیار مسرت سے لبالب ہو جایا کرتا تھا۔ مجھے امید تھی کہ آج کے بعد سے حالات پہلے جیسے نہیں رہیں گے، دنیا کو لگے ہوئے دائمی روگ اگر مکمل طور پر ختم نہیں ہوتے تو ان کی علامات میں کمی ضرور واقع ہو جائے گی، عالمِ انسانیت اگر منزل پر پہنچا نہیں تب بھی کم از کم درست راستے پر رواں ضرور ہو گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکہ جیسے ملک نے ایک سیاہ فام کو صدر بنا لیا جس کا باپ مسلمان تھا اور خود اس کے بارے میں شک ہے کہ وہ بھی اندر سے کہیں مسلمان نہ ہو۔ اس سے بڑھ کر دنیا کےروشن مستقبل کی کیا دلیل ہو سکتی ہے؟

لیکن تھوڑی ہی دیر بعد اس سیلِ بے پناہ کے تھپیڑوں میں میرا دم گھٹنے لگا۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ مجھے یہ پتہ نہیں چل رہا تھا کہ میں کہاں ہوں اور کدھر جا رہا ہوں۔ جیسے کوئی آپ کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر زور سے گھما دے اور آپ سمتوں کا تعین کھو بیٹھیں۔

میں پچھلے ڈھائی سال سے ہر روز اسی راستے پر چل کر دفتر جایا کرتا تھا۔ مجھے زبانی یاد تھا کہ بیس بال گراؤنڈ کے بعد جی سٹریٹ آئے گی، پھر فری وے کے نیچے سے ہوتے ہوئے انسدادِ امراض کا محکمہ سی ڈی سی، اس کے بعد میکڈانلڈز سے بائیں مڑ کر سی سٹریٹ، اور سی سٹریٹ پر اپنا دفتر۔ لیکن اب میرے آگے، پیچھے، دائیں، بائیں لوگوں کی متحرک فصیلیں تھیں، جنھوں نے تمام منظر اوجھل کر دیے تھے۔ ان لوگوں کے چہرے جوش، ولولے اور مسرت سے تمتما رہے تھے اور آنکھوں میں امنگوں کے قمقمے روشن تھے۔ یہ سب کسی قدیم مذہبی عبادت میں حصہ لینے والے زائرین کی طرح پرعزم قدم بڑھائے چلے جا رہے تھے۔

آج پھر 20 جنوری ہے۔ ان دو 20 جنوریوں کے بیچ بہت سا پانی ہی پلوں کے نیچے سے نہیں گزرا، بلکہ کئی پل بھی پانی ہو چکے ہیں۔ لوگ پوچھ رہے ہیں کہ اس دوران دنیا کو اوباما سے کیا ملا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

لیکن میرے خیال سے آج سوال یہ نہیں رہا۔ اصل سوال یہ ہے کہ آج جب اوباما اپنا بوریا بستر لپیٹ کر ٹرک میں لاد کر وائٹ ہاؤس سے رخصت ہو جائیں گے تو اس کے بعد آنے والے دنوں میں دنیا کی کیا شکل ہو گی؟

اس دن تو مجھے خاصی دیر دھکے کھانے، لڑکھڑانے اور پیر کچلوانے کے بعد بالآخر سی سٹریٹ پر موقع مل گیا کہ میں اس بلوے میں اچانک کھلنے والی ایک چھوٹی سی کھڑکی پھلانگ کر دفتر کی طرف دوڑ لگا دوں۔

لیکن میڈیا پر عوام کے تاثرات جان کر اور امریکہ میں مقیم دوستوں سے بات کر کے اندازہ ہو رہا ہے کہ امریکیوں کی اکثریت محسوس کر رہی ہے جیسے انھیں بھی راستے پر چلتے چلتے کسی سیلابی ریلے نے یک لخت دبوچ لیا ہے۔ آج کے دن وہ اسی گھٹن، بےسمتی اور وحشت کی کیفیت سے دوچار ہیں جس کا میں آٹھ برس قبل شکار ہوا تھا۔

اور مجھے لگتا ہے کہ انھیں اس سے نکلنے کے لیے اپنی سی سٹریٹ کے انتظار میں ایک لمبا، بہت لمبا وقت کاٹنا پڑے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں