حزب اختلاف کی خواتین بھی نالاں

خاتون رکن اسمبلی نصرت سحر عباسی
Image caption امداد پتافی نے نصرت سحر عباسی کو مخاطب ہو کر کہا: ’ڈراما کوین، آپ بیٹھ جائیں، میں آپ کو جواب دیتا ہوں‘

سندھ اسمبلی میں صوبائی وزیر امداد پتافی نے خاتون رکن نصرت سحر عباسی سے متعلق اپنے الفاظ کے لیے معافی مانگ لی ہے، تاہم اس واقعے نے پارلیمان جیسے بااختیار اور پروقار ادارے میں خواتین کو ہراساں کیے جانے کے معاملہ پر بحث چھیڑ دی ہے۔

سوشل میڈیا پر بہت سی خواتین نے اسمبلیوں میں خواتین کے ساتھ بدتہذیبی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور پھر اس پر معافی تلافی سے جان چھڑوانے کے رحجان پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ہم نے لاہور میں پنجاب اسمبلی کی خواتین ارکان سے اسی معاملے پر بات کی اور پارلیمنٹ میں خواتین کو ہراساں کیے جانے سے متعلق ان کے خیالات جانے۔

٭ ’چیمبر میں آئیں‘ وزیر کے تخاطب پر خاتون رکن ناراض

پاکستان میں پارلیمان کے ایوانوں میں اراکین کے درمیان جھڑپوں اور ایک دوسرے پر جملے کسنے کی روایت کوئی نئی نہیں ہے، پارلیمانی آداب کے دائرے میں رہتے ہوئے تنقید اور جملے بازی کو جمہوری عمل کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔

لیکن خواتین ارکان اسمبلی کا خیال ہے کہ جب وہ بحثیت رکن اپنے فرائض کی ادائیگی کے لیے کوئی نکتہ اٹھائیں، کسی وزیر سے کارکردگی پر سوال کریں یا پھر عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے ایوان میں اپنی رائے کے اظہار کی کوشش کریں تو اکثر اوقات انھیں مرد ارکان کے تعصب پر مبنی رویے اور منفی تبصروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اس کی حالیہ مثال سندھ اسمبلی میں صوبائی وزیر امداد پتافی اور خاتون رکن اسمبلی نصرت سحر عباسی کے درمیان ہونے والی تلخ کلامی ہے۔ معافی تلافی سے یہ معاملہ وقتی طور پر رفع دفع تو ہو گیا لیکن کیا اس معافی سے اسمبلیوں میں خواتین کو ہراساں کیے جانے کا معاملہ حل ہو گیا ہے؟

ہم نے یہ سوال پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کی رکن سعدیہ سہیل کے سامنے رکھا۔

انھوں نے کہا: 'میں سمجھتی ہوں کہ یہاں خواتین کو ہر سطح پر ہراساں کیا جا رہا ہےـ ایک تو معنی خیز جملے ہوتے ہیں، جن کا تبادلہ یہاں (پنجاب اسمبلی میں) بھی کیا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے لوگ بےشک ایوان تک پہنچ جائیں لیکن خواتین کی عزت کرنا اور دماغی طور پر ان کو اپنے برابر تسلیم کرنا ان مردوں کے لیے ممکن نہیں۔

'اور دوسرا خواتین کو کام کرنے سے روکنا، جیسے بطور رکنِ پنجاب اسمبلی میرے اختیارات پر روک لگانا۔ دراصل یہ سوچ کہ عورتوں کے اختیارات مردوں کے مقابلے کم ہیں، یہ بھی ہراساں کرنے کے زمرے میں آتا ہے۔'

گذشتہ سال جون میں قومی اسمبلی کے اجلاس میں خاتون رکن اسمبلی شیریں مزاری کو بھی ایسی ہی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا تھا جب پانی و بجلی کے وفاقی وزیر خواجہ آصف نے کچھ غیر پارلیمانی الفاظ استعمال کر کے ایوان میں ان کا مذاق اڑایا تھا۔

نصرت سحر عباسی کے معاملے کی طرح یہاں بھی معافی سے بات نمٹا دی گئی۔ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے رکن پنجاب اسمبلی راحیلہ انور کہتی ہیں کہ حال ہی میں ان کی بھی اسی طرز کی ایک شکایت کو نظر انداز کر دیا گیا اور اسمبلی میں ان کی کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔

'کل ہی میرے ساتھ ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس کی مجھے بالکل توقع نہیں تھی ـ مجھے بھی ایسی (ہراساں کیے جانے سے متعلق) شکایت تھی۔ رکن پنجاب اسمبلی ہونے کے باوجود میری نہیں سنی گئی۔ وزیر قانون نے اسے سنے بغیر، دیکھے مسترد کر دیا ـ عوام دیکھ رہے ہیں کہ اس حکومت میں نہ خواتین کا تحفظ ہے نہ بچوں کاـ اس حکومت نے ایسا ماحول ہی نہیں بنایا جہاں پر عورتیں اپنے آپ کو محفوظ سمجھیں، اس سب کے باوجود ہم خواتین نے سٹینڈ لیا ہے اور اپنی کاوشیں جاری رکھیں گے۔'

دوسری جانب پنجاب میں حکمران جماعت مسلم لیگ ن کی رکن اسمبلی عائشہ جاوید نے اسمبلی میں مرد ارکان کی جانب سے خواتین کی تضحیک کا اعتراف کیا لیکن ان واقعات کے لیے مردوں کے ساتھ خواتین کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا۔

تصویر کے کاپی رائٹ APP
Image caption پتافی کے ان جملوں پر نصرت عباسی احتجاج کرتی رہیں جب کہ وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ اور دیگر صوبائی وزرا مسکراتے رہے

'ہمیں یہ توقع نہیں کرنی چاہیے کہ بطورخواتین ہمیں کوئی استحقاق حاصل ہوـ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری عزت ہو تو ہمیں بھی عزت کرنی پڑے گی۔ اپنے کردار اور رویے سے کسی مرد رکن کی اتنی ہتک نہ کریں کہ وہ مجبور ہو کر ایوان یا اس کے باہر ہمارے لیے نازیبا الفاظ کا استعمال کرےـ (نوک جھوک میں) قصور اگر مرد ارکان کا ہے تو خواتین ارکان کا بھی ہے ـ پچھلے دور میں تو یہاں کچھ خواتین نے جوتیاں بھی چلا دی تھیں، میں نام نہیں لوں گی لیکن پھر ان کو معطل کر دیا گیاـ جن مرد ارکان نے یہ بات شروع کی تھی یا بڑھائی تھی، ان کو بھی معطل کردیا گیاـ پھر معافی تلافی سے معاملہ رفع دفع ہو گیا۔'

اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے اور ایوان میں بحث مباحثہ اور تنقید جاری رہتی ہے لیکن پنجاب اسمبلی میں خواتین کی اکثریت کا مطالبہ ہے کہ اسمبلیوں میں خواتین ارکان سے ہونے والے نازیبا رویے کو صرف معافی تلافی سے نہ دبایا جائے بلکہ ایسے واقعات کے مرتکب افراد کو سزا دی جائے تاکہ آئندہ خواتین کو ہراساں کرنے کے رویے کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں