’الطاف حسین کے خلاف شواہد فراہم کیے جائیں‘

سکاٹ لینڈ یارڈ تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption سکاٹ لینڈ یارڈ نے گذشتہ سال 13 اکتوبر کو تصدیق کی تھی کہ منی لانڈرنگ کیس میں ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین سمیت چھ افراد کے خلاف تحقیقات ختم کر دی گئی ہیں

پاکستان نے برطانیہ سے متحدہ قومی موومنٹ کے بانی الطاف حسین کے خلاف تحقیقات کے دوران حاصل کیے گئے شواہد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی اردو کو بتایا کہ یہ بات حکومتِ پاکستان کی جانب سے حکومت برطانیہ کو بھیجے گئے ایک مراسلے میں کہی گئی ہے۔

الطاف حسین گاڑی سے نہ اترے

’ایم کیو ایم وہی جس کے قائد الطاف حسین ہیں‘

الطاف حسین کے خلاف منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات ختم

وزارتِ داخلہ کی جانب سے بھیجے جانے والے مراسلے میں الطاف حسین کے خلاف برطانیہ میں منی لانڈرنگ کے مقدمے کے خاتمے پر تشویش بھی ظاہر کی گئی ہے۔

سکاٹ لینڈ یارڈ نے گذشتہ سال 13 اکتوبر کو تصدیق کی تھی کہ منی لانڈرنگ کیس میں ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین سمیت چھ افراد کے خلاف تحقیقات ختم کر دی گئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption الطاف حسین کے خلاف مقدمے کے خاتمے کے بعد ان کی جماعت ایم کیو ایم لندن اور ایم کیو ایم پاکستان نامی دو دھڑوں میں بٹ چکی ہے

اس وقت سکاٹ لینڈ یارڈ کے ترجمان نے بی بی سی اردو کو بتایا تھا کہ تمام ثبوتوں کی تحقیقات کے بعد سکاٹ لینڈ یارڈ اس نتیجے پر پہنچی کہ اس بات کے ناکافی ثبوت ہیں کہ 2012 اور 2014 کے درمیان ملنے والی پانچ لاکھ پاؤنڈ کی رقم جرائم کے ذریعے حاصل کی گئی تھی یا یہ کہ اس رقم کو غیر قانونی کاموں کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔

وزارتِ داخلہ کے مراسلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان میں الطاف حسین کے خلاف جو مقدمات درج ہیں ان میں پیش رفت کے لیے ضروری ہے کہ برطانیہ میں حاصل کردہ شواہد حکومتِ پاکستان کو بھی فراہم کیے جائیں۔

وزارتِ داخلہ نے برطانوی حکومت سے منی لانڈرنگ کے مقدمات کے خاتمے کے فیصلے پر نظرِثانی کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سلسلے میں پاکستانی حکومت کی جانب سے فراہم کردہ شواہد کو زیرِ غور لایا جائے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں