کِتنی زمین مِلی جناب راحیل شریف صاحب کو؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کِتنی زمین مِلی جناب راحیل شریف صاحب کو؟ 90 ایکڑ۔ آپ کو کئی پنجابی کاشت کار بتائیں گے یہ بھی کوئی رقبہ ہوا چار مربعے بھی پورے نہیں بنتے۔ اِسی پنجاب میں ایک پولیس افسر کے صاحبزادے ہیں جن کا نام ہے جہانگیر ترین اُن کے کتنے مربعے ہیں، صبح گھوڑا دوڑانا شروع کرو، شام ہو جائے گی اُن کے مربعے ختم نہیں ہوں گے۔

ہماری قوم کی عجیب عادت ہے جِس کو عرش پر بٹھاتے ہیں اُسی کو فرش پر لمّا کر لیتے ہیں۔ ابھی چند دِن پہلے کی بات ہے وُہ پوری قوم کے نجات دہندہ تھے کراچی سے خیبر تک چوراہوں پر اُن کی تصویریں تھیں، آج جانے کی ضِد نہ کرو کے ترانے گائے جا رہے تھے، طالبان اُن کے خوف سے غاروں میں کانپ رہے تھے، مودی کی نیندیں حرام تھیں۔ تمام اُمت مسلمہ اُن کی طرف دیکھ رہی تھی کہ وُہ کب خلافت کا اعلان کریں اور لوگ بیعت کرنا شروع کریں ہمارے ٹرک اور ٹینکروں والے بھائیوں کو دہائیوں کے بعد ایسا ہیرو مِلا جس کی قدم آدم تصویر لگا کر وُہ گوادر سے کابل تک بِلا خوف و خطر گھوم سکیں۔

کوئی اُنہیں فیلڈ مارشل بنانے کی بات کرتا تھا۔ کِتنے ہی سروے ہوئے دُنیا میں جہاں اُنہیں سارے جہاں کی افواج کے سپہ سالاروں میں سب سے بہترین سالار قرار دیا گیا۔ اِسرائیل کانپتا تھا کہ مسلمانوں کو ایک اور صلاح الدین ایوبی مِل گیا ہے اب میرا کیا ہو گا۔

ابھی چند دِن پہلے ہی کی بات ہے اخباری کالم نویس اور ٹی وی پر بیٹھے جغادری تجزیہ نگار ہمیں بتاتے تھے کہ پہلے تو پاکستان کا بننا ایک معجزہ تھا اور دوسرا معجزہ یہ ہوا کہ جنرل راحیل شریف میں قائداعظم ، علامہ اقبال اور گاما پہلوان کی ساری صفات اکٹھی ہو گئی ہیں۔

اور اب یہی صاحبان کانوں کو ہاتھ لگا کر ہمیں بتا رہے ہیں کہ 90 ایکڑ زمین ، وُہ بھی بیدیاں روڈ پر، الاٹ بھی ایک ایسے وقت ہوئی جب ہمارے بچے ہمارے دشمن کے ہاتھوں مر رہے تھے۔

اِن موسمی مرثیہ نگاروں کے بارے میں اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ پہلے تو یہ جیلسی کا شکار ہیں کہ اللہ نے اِن کو اِتنی توفیق نہیں دی کہ اِن کا بھی بیدیاں روڈ پر کوئی چھوٹا موٹا فارم ہاؤس ہو۔ دوسرا کوئی یہ ثابت کر دے کہ کِسی قانون، کِسی ضابطے کی خلاف ورزی ہوئی ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

فوج ایک ایسا ادارہ ہے جہاں پر درختوں کے تنوں پر سفیدی کب اور کیسے ہونی ہے اور بوٹ پالش کرنے کے بعد برش رکھنا کہاں ہے اِس کے بارے میں بھی قانون موجود ہیں تو اِس ادارے میں کیا اربوں کی زمین بغیر کِسی قانون کے الاٹ ہو گئی؟

اگر اِن اعتراض کونے والوں کا یہ خیال ہے کہ کوئی ادارے کا سربراہ اپنے ہی آپ کو سرکاری زمین کیسے الاٹ کر سکتا ہے تو اِنہوں نے ملک کے طول و عرض میں پھیلی ایسی جاگیریں نہیں دیکھیں جو بڑے بیورو کریٹوں نے ایک دوسرے کو الاٹ کر رکھی ہیں۔ کوئی سندھ کے چانڈیو اور جتوئی سرداروں سے پوچھتا ہے کہ یہ ہزاروں ایکڑ کہاں سے آئے اور تمہیں اِن کی کیا ضرورت ہے؟

جنرل راحیل شریف کو طالبان اور پاکستان کے باقی دشمنوں کو شکست فاش دینے کا کریڈٹ تودیا جاتا ہے لیکن فوجی افسران کے لیے رہائشی سکیموں کے لیے اُن کی جدوجہد کا کوئی ذکر نہیں کرتا۔ حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ اُنہوں نے ملک میں ڈی ایچ اے کی ترویج کے لیے جتنی کاوشیں کیں اُن سے پہلے کبھی کِسی نے نہیں کیں۔

اُنہوں نے تو گوجرانوالہ میں فضائیہ کالونی بنوا ڈالی حالانکہ گوجرانوالہ میں فضائیہ کا کوئی مستقر نہیں تھا۔ اور گوجرانوالہ والوں نے شاید فضائیہ کے شاہین صِرف ٹی وی پر چلنے والے آئی ایس پی آر کے گانوں میں ہی دیکھے ہوں گے۔

جنرل راحیل شریف وُہ مرد مومن تھے جو ایک ہاتھ سے ہمارے دُشمن کے ساتھ تیخ آزمائی کرتے تھے اور دوسرے ہاتھ سے ڈی ایچ اے کی فائلوں پر دستخط کرتے جاتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اور یہ بھی یاد رکھیں کہ اُن کا مشن ابھی ختم نہیں ہوا۔ اُنہوں نے دوسرے جرنیلوں کی طرح چولستان میں یا سندھ میں زمین نہیں لی بلکہ عین ہندوستان کے ساتھ بارڈر پر۔ دشمن کی ناک کے عین نیچے۔ اب سوچیں کہ جب اِس زمین پر اُن کا فارم ہاؤس بن جائے گا، اور وُہ چارپائی ڈالے دھوپ سینک رہے ہوں گے تو کیا کوئی بھارتی فوجی اپنے ناپاک ارادوں کے ساتھ بیدیاں روڈ کراس کرنے کی جرات کرے گا۔

اگر آپ جُھگی میں رہتے ہیں تو شاید 90 ایکڑ آپ کو جاگیر لگے لیکن تنقید کرنے والے ڈرائنگ، ڈائننگ ٹائپ گھروں میں رہتے ہیں۔ دِل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کیا پاکستان کی تاریخ کا مقبول جنرل اپنی ریٹائرمنٹ کی زندگی ایک اوسط درجے کے پنجابی زمیندار کی طرح گزارے۔

اور جو یہ کہتے ہیں کہ زرعی زمین تو بہانہ آخرکار وہاں پلاٹ بنیں گے تو مومنو اپنے شہروں اور دیہاتوں پر نظر دوڑاؤ۔ یہ ملک بنا تو اِسلام کے نام پر تھا لیکن آخر چل تو پلاٹوں کے کاروبار پر ہی رہا ہے۔

اسی بارے میں