نجی ٹی وی چینل بول کے میزبان عامر لیاقت اور ان کے پروگرام پر پیمرا کی پابندی

پیمرا
Image caption بول چینل پر نشر ہونے والا عامر لیاقت کا پروگرام ’ایسے نہیں چلے گا‘ جسے پیمرا نے بند کرنے کا حکم دیا ہے

پاکستان کی الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے نجی ٹی وی چینل بول پر نشر ہونے والے پروگرام 'ایسے نہیں چلے گا' اور اس کے میزبان عامر لیاقت پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

جمعرات کو پیمرا کی جانب سے جاری ہونے والے حکم نامے کے مطابق عامر لیاقت اپنے پروگرام میں ضابطہ اخلاق کی متعدد خلاف ورزیوں کے مرتکب ہوئے اور یہی ان پر پابندی کی وجہ ہے۔

کیا ٹی وی بھی آلہِ قتل ہے؟

پیمرا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ فیصلہ مذکورہ پروگرام کی کافی عرصے تک نگرانی کرنے کے بعد کیا گیا ہے اور اس سلسلے میں ادارے کو 'سینکڑوں شکایات‘ بھی موصول ہوئی تھیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ عامر لیاقت کے پروگرام کی نگرانی کے دوران واضح ہوا کہ انھوں نے پیمرا کے ضابطہ اخلاق کی مختلف شقوں کی مسلسل خلاف ورزی کی ہے۔

پیمرا نے بول چینل کو جاری حکمنامہ میں کہا ہے کہ: 'عامر لیاقت بول نیوز کے کسی پروگرام (نئے یا نشر مکرر) میں بطور میزبان، مہمان، تبصرہ نگار، رپورٹر، ایکٹر، اینکر پرسن، آڈیو یا ویڈیو بیپر یا کسی بھی حیثیت میں شرکت نہیں کر سکیں گے نہ ہی انہیں اس چینل پر چلنے والی کسی اشتہاری مہم، آڈیو یا ویڈیو ریکارڈنگ کی اجازت ہوگی۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption پیمرا کا حکم نامہ

پیمرا نے بول کو تنبیہ کی ہے کہ اس حکم کی خلاف ورزی کی صورت میں چینل کی نشریات معطل کر دی جائیں گی۔

پیمرا نے حکمنامے میں اس بات کا اعادہ بھی کیا ہے کہ اگر عامر لیاقت کسی بھی اور چینل پر اظہار آزادی کا غلط استعمال کرتے ہوئے یا پیمرا کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پائے گئے تو اس چینل کے خلاف بھی کاروائی کا جائے گی۔

پیمرا نے اپنے حکم نامے میں مزید کہا ہے کہ: 'عامر لیاقت کو کسی چینل پر نفرت انگیز مواد کا پرچار کرنے یا کسی شخص کو 'کافر'، 'غدار'، 'توہین رسالت' یا 'توہین مذہب' کا مرتکب قرار دینے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ پاکستانی قانون اور آئین کے مطابق اس طرح کے فیصلے کا اختیار صرف پارلیمان یا اعلیٰ عدلیہ کے پاس ہے۔'

پیمرا کے بیان کے مطابق عامر لیاقت اور ان کے پروگرام پر یہ پابندی اس وقت تک عائد رہے گی جب تک ادارہ ان کے خلاف درج شکایات پر 'متعلقہ شکایات کونسلز کی سفارشات کی روشنی میں کسی حتمی فیصلے پر نہیں پہنچ جاتا۔'

اسی بارے میں