جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو گھر میں نظر بند کر دیا گیا

Image caption میڈیا سے گفتگو میں حافظ سعید نے کہا کہ انھیں بیرونی ممالک کے دباؤ کی وجہ سے نظر بند کیا جا رہا ہے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں فلاح انسانیت فاؤنڈیشن اور جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید کو جوہر ٹاؤن میں واقع ان کے گھر میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔

حافظ سعید کو جماعت الدعوۃ کے چوبرجی میں واقع مرکزی دفتر جامعہ قادسیہ سے پیر کی رات تحویل میں لیا گیا تھا۔

حافظ سعید سمیت تمام غیر ریاستی عناصر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

جماعت الدعوۃ سمیت چار تنظیمیں دہشت گرد قرار

بی بی سی کے نامہ نگار عمر دراز کے مطابق حافظ سعید نے نظری بندی کا نوٹیفکیشن موصول ہونے کے بعد اصرار کیا کہ انھیں میڈیا سے گفتگو کی اجازت دی جائے۔

بعد ازاں انھوں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ انھیں بیرونی ممالک کے دباؤ کی وجہ سے نظر بند کیا جا رہا ہے۔

’میری نظربندی کے آرڈر انڈیا اور واشنگٹن سے ہوتے ہوئے پاکستان آئے ہیں اور پاکستان کی اپنی کچھ مجبوریاں ہیں۔‘

حافظ سعید نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ ’اگر ہمارے دشمن عناصر یہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح ہم تحریک کشمیر کی حمایت سے پیچھے ہٹ جائیں گے تو ایسا نہیں ہوگا۔‘

Image caption جماعت الدعوہ کے سربراہ کی نظربندی کے موقع پر تنظیم کے اراکین بھی بڑی تعداد میں موجود تھے

پولیس کی بھاری نفری کی موجودگی میں حافظ سعید کو جامعہ قادسیہ سے جوہر ٹاؤن میں ان کی رہائش گاہ پر نظر بند کرنے کے لیے منتقل کیا گیا۔ اس موقع پر ان کی جماعت کے اراکین کی جانب سے اس اقدام کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق صوبہ پنجاب کے وزاتِ داخلہ حکام کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق فلاح انسانیت اور جماعت الدعوۃ کو واچ لسٹ میں شامل کیا گیا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ تنظیم کے پانچ رہنماؤں حافظ سعید، عبداللہ عبید، ظفر اقبال، عبدالرحمن عابد اور قاضی کاشف نیاز کو اے ٹی اے 1997 کے سیکشن 11 ای ای ای کے تحت حفاظتی تحویل میں لینے کا حکم بھی جاری ہوا تھا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت کو سکینڈ شیڈیول میں شامل کیا گیا ہے۔

اس سے قبل پاکستان کے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ امریکہ اور اقوام متحدہ کی جانب سے دہشت گرد قرار دی جانے والی تنظیم جماعت الدعوۃ کے خلاف اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

صحافیوں سے گفتگو کے دوران جب ان سے پاکستان میں جماعت الدعوۃ پر پابندی کے حوالے سے زیرِ گردش خبروں کے بارے میں دریافت کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ 'اس حوالے سے کل (منگل) تک تمام صورتحال واضح ہوجائے گی۔‘

چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ 'یہ جماعت سنہ 2010/11 سے زیرِ نگرانی ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں بھی لسٹڈ‌ ہے۔‘

ان کے مطابق ’لسٹنگ کے بعد کسی بھی ریاست کو کچھ اقدام کرنا ہوتے ہیں اور وہ نہیں ہو پائے تھے تاہم اب کچھ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔‘

خیال رہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے نومبر 2008 میں بھارتی شہر ممبئی میں ہونے والے حملوں کے بعد جماعت الدعوۃ پر پابندیاں لگائی تھیں اور اسے دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔

بھارت اور امریکہ کے مطابق جماعت الدعوۃ ان حملوں کی ذمہ دار تھی جس میں 174 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ interior ministry of Punjab

اس کے بعد سنہ 2014 میں امریکہ نے بھی جماعت الدعوۃ کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے مالیاتی پابندیاں عائد کی تھیں۔ امریکی حکام کی جانب سے جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر ایک کروڑ ڈالر کے انعام کی پیش کش بھی کی گئی تھی۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ نے جنوری 2015 میں اعلان کیا تھا کہ جماعت الدعوۃ سمیت ان تمام دہشت گرد تنظیموں کے اثاثوں کو منجمد کیا جا چکا ہے جن پر اقوامِ متحدہ نے پابندی لگائی ہوئی ہے۔

اس وقت جماعت الدعوۃ پاکستان کے ترجمان محمد یحییٰ مجاہد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی دباؤ پر بھارت کو خوش کرنے کے لیے جماعت الدعوۃ کے خلاف ایسے بیانات دیے جا رہے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں