حدیبیہ پیپرز ملز مقدمہ: وزیر خزانہ کے اعترافی بیان سے متعلق ریکارڈ طلب

اسحاق ڈار تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاناما لیکس دستاویزات سے متعلق آئینی درخواستوں کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے قومی احتساب بیورو کے پراسیکیوٹر جنرل سے حدیبیہ پیپرز ملز کے مقدمے میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے اعترافی بیان سے متعلق ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔

سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں اس مقدمے میں لیے گئے اسحاق ڈار کے بیان میں کہا گیا تھا کہ اُنھوں نے ایک کروڑ 40 لاکھ ڈالرز کی منی لانڈرنگ کا اعتراف کیا تھا۔

’انصاف کے ترازو میں سب کو تولیں‘

’ضرورت پڑنے پر وزیر اعظم کو بھی طلب کیا جاسکتا ہے‘

جمعے کو ان درخواستوں کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ کیسے نیب نے اس مقدمے میں اسحاق ڈار کی رہائی کے بعد فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر نہیں کی؟ اُنھوں نے کہا کہ نیب کے اس چیئرمین نے اپیل کیوں نہیں کی جسے حکومت اور حزب مخالف نے مل کر مقرر کیا۔

ان درخواستوں کی سماعت کے دوران وفاقی وزیر خزانہ کے وکیل شاہد حامد نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اُن کے موکل سے زبردستی اعترافی بیان لیا گیا اور بعد ازاں انھوں نے اس اعترافی بیان کی تردید کی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اسحاق ڈار کو 15 اکتوبر سنہ 1999 میں حراست میں لیا گیا تھا اور وہ ایک سال سے زائد عرصہ فوج کی تحویل میں رہے۔

اُنھوں نے کہا کہ حدیبیہ پیپرز ملز کا ابتدائی ریفرنس 27 مارچ 2000 کو بنایا گیا جبکہ حتمی ریفرنس 16 نومبر 2000 کو بنایا گیا۔

شاہد حامد کا کہنا تھا کہ اُن کے موکل پر الزام ہے کہ انھوں نے 25 اپریل سنہ 2000 کو مجسٹریٹ کے سامنے اعترافی بیان دیا جس میں اُنھوں نے ایک کروڑ 40 لاکھ ڈالرز کی منی لانڈرنگ کا اعتراف کیا۔

بینچ میں موجود جسٹس گلزار احمد نے اسحاق ڈار کے وکیل سے استفسار کیا کہ اُن کے موکل اپنے بیان حلفی سے انکاری ہیں جس پر شاہد حامد کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار اپنے بیان کی مکمل تردید کرتے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ پہلے سے لکھے گئے بیان پر زبردستی دستخط کروائے گئے اور اس کے بعد اُنھیں گھر میں نظر بند کر دیا گیا اس کے علاوہ تعاون کرنے پر حکومت میں شامل ہونے کی پیشکش بھی کی گئی۔

بینچ میں شامل جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر بیان ریکارڈ کرنے والا مجسٹریٹ اس بیان کی تصدیق نہیں کرتا تو اس کی حیثیت کاغذ کے ٹکڑے سے زیادہ نہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ یہ اعترافی بیان ہائی کورٹ پہلے ہی مسترد کر چکی ہے۔

بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ یہ کاغذ کا ٹکڑا نہیں، شواہد کا حصہ ہے جس پر کبھی کارروائی نہیں ہوئی۔ اُنھوں نے کہا کہ نیب کا ریفرنس تحقیقات قانون کے مطابق نہ ہونے کی بنا پر خارج کیا گیا۔

عدالت کے استفسار پر وزیر خزانہ کے وکیل کا کہنا تھا کہ اُن کے موکل کو پہلے وعدہ معاف بنا کر اعترافی بیان پر دستخط کروائے گئے۔

آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ اسحاق ڈار کے خلاف کیس میں دو ججز نے انٹراکورٹ اپیل سنی جو عموماً پانچ ججز سنتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سماعت کے دوران بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ کیس کو آہستہ سنا جا رہا ہے

اسحاق ڈار کے وکیل نے کہا کہ تین دسمبر 2012 کو اس ریفرنس کو ہائی کورٹ کے دو ججز نے ختم کیا اور اس کے ساتھ ساتھ دوبارہ تفتیش پر اختلاف کیا۔

اُنھوں نے کہا کہ 1992 کے پروٹیکشن قانون کے تحت ایک الزام میں بری ہونے پر دوبارہ کارروائی نہیں ہو سکتی۔

اس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے استفسار کیا کہ جب یہ پروٹیکشن قانون بنا تو نواز شریف وزیراعظم اور اسحاق ڈار وزیر خزانہ تھے جس پر شاہد حامد نے کہا کہ اُن کے موکل نہ ہی رکن اسمبلی تھے اور نہ ہی وزیر خزانہ۔

بینچ میں شامل جسٹس اعجاز افصل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر چیئرمین نیب ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف اپیل میں سپریم کورٹ آتے تو عدالت عظمیٰ دوبارہ تفتیش کرنے کا حکم دے دیتی۔

اُنھوں نے کہا کہ اوگرا کے چیئرمین توقیر صادق کے مقدمے میں کسی نے سپریم کورٹ سے رجوع نہیں کیا تھا لیکن اس کے باوجود دوبارہ تحقیقات کا حکم دیا گیا۔

سماعت کے دوران بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ کیس کو آہستہ سنا جا رہا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ اس وقت تک ان درخواستوں کی سماعت کرے گی جب تک عدالت مطمئن نہیں ہوتی اور انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوتے۔

اُنھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ لوگوں کی خواہشات پر نہیں چلے گی۔

پاناما لیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت 30جنوری کو دوبارہ ہوگی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں