خیبر پختونخوا: فنی تعلیمی ادارے پاک فضائیہ کے حوالے کرنے کے خلاف حکم امتناعی

تصویر کے کاپی رائٹ KPTEVTA

خیبر پختونخوا حکومت نے فنی تعلیم کے 11 ادارے پاکستان ائیر فورس کے حوالے کر دیے ہیں لیکن اس ادارے کے ملازمین کی درخواست پر پشاور ہائی کورٹ نے حکومتی فیصلے کے خلاف حکم امتناعی جاری کر دیا ہے۔

پشاور ہائی کورٹ نے سماعت کے لیے اب 29 مارچ کی تاریخ مقرر کی ہے۔

تحریک انصاف کی حکومت نے قانون سازی کر کے فنی تعلیم کے محکمے کو ایک اتھارٹی بنایا اور اس کا نام ٹیوٹا(ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی) رکھا گیا اور اس کے لیے بھاری فنڈز مقرر کیے۔

اتھارٹی کے قیام کے بعد یہ فیصلہ کر دیا گیا کہ اب یہ ادارے صوبائی حکومت خود نہیں بلکہ پاکستان ایئر فورس کے حوالے کر دیے جائیں گے۔

ابتدا میں 11 ایسے ادارے پاکستان فضائیہ کے حوالے کیے گئے اور اس اقدام کے خلاف ٹیوٹا کے ملازمین نے پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دی جس کی سماعت دو روز پہلے ہوئی۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس اکرام اللہ پر مشتمل ڈویژن بینچ نے ٹیکنیکل ایجوکیشن ملازمین کی رٹ پٹیشن کی سماعت کرتے ہوئے حکومت کے فیصلے کےخلاف حکم امتناعی (سٹے آرڈر) جاری کر دیا ہے۔

پشاور ہائی کورٹ میں دائر پٹیشن میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ صوبائی حکومت نے ’ٹیوٹا ایکٹ‘ اور قواعد و ضوابط کے منافی اقدامات کرتے ہوئے خیبر پختونخوا کے فنی تعلیمی ادارے اور (اثاثہ جات) ایئر فورس کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

فنی اور تکنیکی محکمے کے ملازمین کا کہنا ہے کہ جو ادارے ایئر فورس کو دیے گئے ہیں وہاں سرکاری ملازمین کے ساتھ بہتر سلوک نہیں کیا جا رہا، جو صوبائی قوانین ’ٹیوٹا ایکٹ اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔‘

رکن صوبائی اسمبلی اور ٹیوٹا کے چیئرمین ارشد عمر زئی نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ ادارہ ایئر فورس کو دینے کا مقصد ان کی کارکردگی بڑھانا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں یہ ادارے ایک عرصے سے قائم ہیں اور ان کے لیے فنڈز بھی تھے لیکن ان کی بہتری کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ KPTEVTA

ارشد عمر زئی نے کہا کہ اب ان فنی تعلیمی اداروں کے لیے مشینری فرنیچر اور ٹریننگ میٹیریل خریدا جا رہا ہے۔

خیبر پختونخوا کے فنی تعلیم کے وزیر ارشد علی عمرزئی نے کہا ہے کہ صوبے میں پہلی مرتبہ ٹیکنکل یونیورسٹی قائم کی جا رہی ہے جبکہ فنی تعلیم کے ادارے پاک فضائیہ کے حوالے کرنے کا مقصد موجودہ دور کے لیے ہنر مند افراد تیار کرنا ہے۔

ایئر فورس کے حوالے کیے جانے والے فنی تربیت کے 11 مراکز میں ہری پور، ایبٹ آباد، مردان، جہانگیرہ، خاکی، یار حسین سمیت ویمن تربیتی مراکز بھی شامل ہیں۔

ملازمین کے رہنما اظہار الحق نے بتایا کہ ان کے محکمے کی انتظامیہ کے غلط فیصلوں کی وجہ سے فنی تعلیمی اداروں میں فرنیچر اور تربیتی مواد نہیں ہے اور ان اداروں کا بجٹ بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔

پشاور کے ایک فنی تعلیمی ادارے کو تربیتی مواد کے لیے سالانہ دو لاکھ 90 ہزار روپے دیے جا رہے تھے اور اس ادارے میں 1200 طالب علم رجسٹرڈ ہیں، جبکہ اب پی اے ایف کو بھاری فنڈز دیے جا رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ جو 11 فنی تعلیمی ادارے ائیر فورس کو دیے جا رہے ہیں اس کے لیے دس کروڑ روپے سے زیادہ کے فنڈز رکھے گئے ہیں۔

خیبر پختونخوا میں اطلاعات کے مطابق فنی تعلیم کے لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے 88 ادارے ہیں۔

متعلقہ عنوانات