'مومنہ ایک سیلفی پلیز'

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
اسلام آباد یونائیٹڈ اور سائیکلنگ ایسوسی ایشن نے سائیکلنگ کے فروغ کے لیے ایونٹ کیا۔

پاکستان سپر لیگ کا دوسرا ایڈیشن شروع ہونے میں چند ہی روز باقی ہیں۔ لیگ میں شامل تقریباً تمام ہی ٹیمیں ٹورنامنٹ کے لیے متحدہ عرب امارات روانہ ہونے سے قبل اپنے اپنے شہروں میں مختلف سرگرمیوں کا آغاز کر چکی ہیں۔

پہلی سپر لیگ کی فاتح ٹیم اسلام آباد یونائیٹڈ کے چند کھلاڑیوں نے سنیچر کو وفاقی دارالحکومت میں سائیکلنگ کے فروغ کے لیے منعقد کردہ ایک سائیکل ریلی میں شہر کا چکر لگایا۔

ان کھلاڑیوں میں آف سپنر سعید اجمل، عمران خالد، ذوہیب خان اور چند دیگر نوجوان کرکٹرز بھی شامل تھے۔

یہ ریلی اسلام آباد سائیکلنگ ایسوسی ایشن کی جانب سے شہر میں سائیکلنگ کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنے اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے منعقد کی گئی تھی۔

اس ایونٹ میں کھلاڑیوں کے علاوہ معروف نوجوان گلوکارہ اور اسلام آباد یونائیٹڈ کی ’امپاورمنٹ چیمپیئن‘ مومنہ مستحسن نے بھی شرکت کی۔

زیادہ تر سرکا اپنی سائیکلوں کے ہمراہ آئے تھے اور انھوں نے ایک مقامی کرکٹ گرائونڈ سے اس ریلی کا آغاز کیا اور فیصل مسجد سے ہوتے ہوئے واپس اسی مقام پر واپس پہنچ گئے۔

اس ایونٹ کی سب سے دلچسپ بات یہ دیکھنے کو ملی کہ کھلاڑیوں کے پہنچتے ہی وہاں موجود شرکا میں سے ہر ایک کی کوشش یہ تھی کہ سب سے پہلے انھیں ایک سیلفی مل جائے۔

ویسے تو یہ سیلفیاں کھلاڑیوں سے قبل ایک دوسرے کے ساتھ بھی بنائی جا رہیں تھیں لیکن اس کے بعد تھوڑی بہت نوجوان کھلاڑیوں کے ساتھ بھی بنیں لیکن زیادہ تر کی کوشش سعید اجمل کے ساتھ سیلفی بنوانے کی تھی۔

سعید اجمل مرد حضرات کے ساتھ تو جیسے تیسے سیلفی بنوانے کے لیے تیار ہو ہی جاتے تھے لیکن جب بھی کوئی خاتون ان کے ساتھ سیلفی بنانے کا کہتیں تو وہ صاف الفاظ میں کہتے ’سیلفی نہیں تصویر کھینچنی ہے تو کھینچ لیں۔‘

سٹیڈیم میں موجود کرکٹرز توجہ کا مرکز زیادہ دیر نہ رہے۔ اپنی سیلفیاں لینے اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے کھلاڑیوں کے ساتھ سیلفیاں لینے کے سیشن کا اختتام اس وقت ہوا جب مقامی کرکٹ سٹیڈیم میں مومنہ مستحسن تشریف لائیں۔

پھر کیا تھا، وہاں موجود سب تو نہیں لیکن لڑکوں، لڑکیوں اور بچوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گرد جمع ہوگئی اور ہر طرف سے ایک ہی آواز آنے لگی ’مومنہ ایک سیلفی پلیز۔‘

سائیکل چلاتے ہوئے، گاڑیوں پر سوار اور موٹرسائیکلوں پر بیٹھے ہر شخص کی کوشش مومنہ کے قریب پہنچنے اور ایک سیلفی بنوانے کی تھی۔

جن کے پاس کیمرہ نہیں تھا یا وہ کسی وجہ سے اپنے سمارٹ فون پر تصویر نہیں بنا سکتے تھے، وہ ہم جیسے میڈیا والوں سے کہتے دکھائی دیے ’مومنہ کے ساتھ ایک تصویر تو بنا دیں۔‘

مومنہ مستحسن سارے راستے بڑے ہی تحمل مزاجی اور مسکراتے ہوئے جگہ جگہ سب کے ساتھ سیلفی بنواتی رہیں۔ اس سوال کے جواب میں کہ ہر کوئی آپ کے ساتھ سیلفی بنوانا چاہتے ہیں، کیسا لگتا ہے؟

مومنہ نے کہا ’مجھے تصویریں اور سیلفیاں بالکل پسند نہیں لیکن لوگ بنوانا چاہتے ہیں، تو میں ان کی خواہشات کا احترام کرتی ہوں۔‘

مومنہ نے دیگر خواتین کے ہمراہ سائیکل پر ہی یہ تمام سفر طے کیا، جس پر ان کا کہنا تھا کہ وہ خود سائیکل چلا کر خواتین کو اس جانب راغب کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

اسلام آباد یونائیٹڈ کے کھلاڑیوں نے بھی سائیکلوں پر اپنے نئے آسٹریلوی فیلڈنگ کوچ کے ہمراہ شہر کا چکر لگایا اور اس دوران ان کے کوچ کے ساتھ بھی لوگ سیلفی بنواتی رہے جس پر وہ کافی خوش دکھائی دے رہے تھے۔

اسی بارے میں