شادی کے نام پر سودا

شادی تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سوات سے تعلق رکھنے والی 16 سالہ بشریٰ (فرضی نام) جب سات ماہ قبل شادی کے بعد پشاور میں اپنی سسرال منتقل ہوئیں تو یہ نہیں جانتی تھیں کہ ان کی منتظر وہ خوشحال زندگی نہیں جس کا خواب انھوں نے دیکھ رکھا تھا بلکہ وہ انسانی سمگلنگ سے تعلق رکھنے والے ایک گروہ کا شکار بننے والی ہیں۔

٭بیٹی کو زندہ جلانے والی ماں کو سزائے موت

٭بندوق کے زور پر زہر کا پیالہ

بشریٰ نے صحافی انور شاہ کو بتایا کہ ان کا رشتہ 20 ہزار روپے کے عوض طے پایا تھا اور یہ رقم ان کے غریب والدین نے ان کی شادی پر خرچ کی تھی۔

وہ کہتی ہیں کہ ہر لڑکی کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی شادی ہو، گھر اور خاندان ہو اور وہ عزت کے ساتھ زندگی گزارے لیکن یہاں تو میرا سودا کیا گیا تھا۔

بشریٰ کا دعویٰ ہے کہ پشاور منتقلی کے بعد پہلے تو ان کے شوہر اور ان کے اہلخانہ نے انھیں لوگوں کے سامنے رقص کرنے اور پھر جسم فروشی پر مجبور کرنے کی کوشش کی اور ان کے انکار پر زہریلی دوا پلا دی گئی۔

اس صورتحال میں وہ واپس اپنے والد کے گھر آ گئیں تاہم سسرال والوں کی منت سماجت پر ایک بار پھر وہ لوٹ گئیں تاہم ایک بار پھر انھیں اسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے وہ پہلی بار اپنے میکے گئی تھیں۔

بشریٰ نے کہا کہ اس صورتحال میں جب انھیں یہ معلوم ہوا کہ ان کے سسرالی انھیں دبئی بھیجنے کی تیاری میں ہیں تو انھوں نے ہمیشہ کے لیے والد کے گھر جانے کا فیصلہ کر لیا اور رشتے کا خاتمہ طلاق پر ہوا۔

سوات کی پولیس سے جب اس معاملے پر بات کی گئی تو حکام کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے سے لاعلم ہیں اور ان کے پاس اس سلسلے میں کوئی درخواست نہیں آئی۔

مینگورہ کے ڈپٹی سپرٹنڈنٹ حبیب اللہ کا کہنا ہے کہ مقامی پولیس کے پاس اب تک اس قسم کے معاملات رپورٹ نہیں ہوئے ہیں جن میں بچیوں کو شادی کے نام پر فروخت کیا گیا ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سوات قومی امن جرگے کے سربراہ اور مینگورہ پولیس سٹیشن میں ڈسٹرکٹ ریزولوشن کونسل کے ممبر حاجی انعام الرحمان کے مطابق چند برسوں کے دوران ان کے پاس 12 سے زیادہ ایسے معاملات آ چکے ہیں جن پیسے کے بدلے میں لڑکیوں کی شادی کی گئی

علاقے میں اس قسم کے معاملات میں پولیس کے بجائے مقامی جرگوں یا پھر غیر سرکاری تنظیموں سے رجوع کرنے کا رجحان زیادہ ہے جیسا کہ بشریٰ کے معاملے میں بھی ہوا جنھوں نے انصاف کی امید لیے سوات میں قائم خواتین جرگے سے رجوع کیا۔

سوات قومی امن جرگے کے سربراہ اور مینگورہ پولیس سٹیشن میں ڈسٹرکٹ ریزولوشن کونسل کے ممبر حاجی انعام الرحمان نے بی بی سی کو بتایا کہ چند برسوں کے دوران ان کے پاس 12 سے زیادہ ایسے معاملات آ چکے ہیں جس کے بعد انھوں نے نیک پی خیل کے علاقے میں ایک آگاہی مہم بھی چلائی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ کچھ ایسی لڑکیوں کو جنھیں پنجاب اور ملک کے دیگر علاقوں میں شادی کے نام پر فروخت کیا گیا تھا واپس لایا گیا ہے جبکہ کچھ معاملات تاحال حل طلب ہیں۔

اطلاعات کے مطابق سوات میں اب تک اس قسم کے واقعات میں کسی بھی ملزم کو سزا نہیں ہوئی ہے۔

خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم خواتین جرگے کے سربراہ تبسم عدنان کہتی ہیں کہ سوات میں پہلے اس قسم کے واقعات کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی لیکن اب اس میں اضافہ ہوا ہے۔

تبسم عدنان نے بتایا کہ اب تک ان کے جرگے کے پاس تقریباً ایک سال سے زیادہ کے عرصے میں انسانی سمگلنگ کے آٹھ کیس آئے ہیں جن میں دو خواتین کو تو بچوں سمیت فروخت کیا گیا تھا اور انھیں عدالت کے ذریعے سوات واپس لایا گیا ہے۔

ان کے مطابق فروخت ہونے والی لڑکیوں کی قیمت بیس ہزارسے ڈیڑھ لاکھ کے درمیان ادا کی گئی تھی۔

تبسم کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس قسم کے کیسز کی تعداد بہت ذیادہ ہے لیکن اکثریت خاندانی بدنامی کے خوف سے رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔

ان کا کہنا ہے کہ سوات میں انسانی جان کی خرید و فروخت کی بڑی وجہ وادی میں عسکریت پسندی اور سماوی آفات کے بعد پیدا ہونے والے حالات بھی ہیں کیونکہ 'طالبانائزیشن، سیلاب اور زلزلوں میں ہزاروں کی تعداد میں گھروں کے سربراہان ہلاک ہوئے اور غربت کے باعث اب مائیں اپنی بیٹیوں کا رشتہ ایسے لوگوں سے کردیتی ہے جن کے بارے میں انہیں مستند معلومات نہیں ہوتیں اور یہی وجہ ہے کہ انسانی سمگلنگ میں ملوث افراد ایسے مجبور لوگوں کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں