سندھ کے نامزد گورنر معاشی ماہر لیکن غیر متحرک سیاستدان

Image caption زبیر عمر میجر جنرل غلام عمر کے فرزند ہیں جنھیں اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے برطرف کردیا تھا

پاکستان کے صوبہ سندھ کے لیے نامزد گورنر زبیر عمر کا ماضی میں ایک متحرک سیاسی کردار ہونے کی کوئی تاریخ نہیں اور وہ معاشی امور کے ماہر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

وہ میجر جنرل غلام عمر کے فرزند ہیں جنھیں اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے برطرف کر دیا تھا۔

سندھ کے معمر گورنر سعید الزمان صدیقی کے انتقال کی وجہ سے گورنر کا منصب خالی ہوا تھا اور مسلم لیگ ن کی قیادت نے طویل مشاورت کے بعد شریف خاندان کے قریب سمجھے جانے والے زبیر عمر کو اس منصب کے لیے نامزد کیا گيا ہے۔

گورنر ہاؤس کا کہنا ہے کہ ابھی تک حلف برداری کے لیے کوئی پروگرام طے نہیں ہے تاہم زبیر عمر صوبے کے 32 ویں گورنر ہوں گے۔ ان کے بھائی اسد عمر تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اور رکن قومی اسمبلی ہیں۔

زبیر عمر 1956 میں ایبٹ آباد میں پیدا ہوئے تھے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم ایبٹ آباد اور راولپنڈی سے حاصل کی۔ کراچی آئی بی اے سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی اور اس کے بعد مختلف ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں میں ملازم رہے۔

زبیر عمر نے 2012 میں مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کی تھی۔ یہ وہی سال تھا جب ان کے بھائی اسد عمر بھی نجی کمپنی کی ملازمت چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہوئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سعید الزماں صدیقی کے انتقال کے بعد زبیر عمر کو سندھ کی گورنری کے لیے نامزد کیا گيا ہے

مسلم لیگ ن نے وفاق میں اقتدار سنبھالنے کے بعد انھیں پہلے بورڈ آف انوسیٹمنٹ کا چیئرمین بنایا تھا بعد میں 2013 میں وزیر مملکت کا درجہ دیکر نجکاری کمیشن کا چیئرمین تعینات کردیا۔ پاناما لیکس معاملے میں وہ کھل کر شریف خاندان کا دفاع کرتے رہے ہیں۔

زبیر عمر کے والد میجر جنرل غلام عمر متنازع فوجی افسر رہے ہیں۔ وہ یحییٰ خان کی نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری تھے۔ اس کے علاوہ ڈی جی ملٹری آپریشن کے عہدے پر بھی فائز ہوئے تھے۔ مشرقی پاکستان یعنی موجودہ بنگلہ دیش میں فوجی ایکشن کے متعلق قائم کیے جانے والے تحقیقاتی حمود الرحمان کمیشن میں بھی ان کا نام شامل تھا لیکن جنرل زبیر نے ان الزامات کو مسترد کیا تھا اور مطالبہ کیا تھا کہ ان کا اوپن ٹرائیل کیا جائے۔

سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے جنرل غلام عمر کو برطرف کردیا تھا، اس کے علاوہ وہ 5 سال قید بھی رہے۔ بھٹو حکومت کی برطرفی کے بعد جنرل ضیاالحق نے انھیں حکومتی معاملات میں شامل کیا۔

زبیر عمر نے گذشتہ روز ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ جب پنجاب کے گورنر کے لیے ان کا نام سامنے آیا تو اس وقت کہا گیا تھا کہ میرا پنجاب سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اب کہا جارہا ہے کہ سندھ سے تعلق نہیں ہے۔

انھوں نے کہا ’میرے والد نے انبالہ سے ہجرت کی تھی جو پنجاب میں اردو بولنے والوں کا شہر تھا۔ میرا خاندان بھی اردو سپیکنگ ہے، والد کی برطرفی کے بعد ہم کراچی منتقل ہوگئے تھے، پورا گھرانہ یہاں ہی موجود ہے۔‘

سندھ میں موجود پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کے ایم کیو ایم کے حمایت یافتہ گورنر عشرت العباد اور بعد میں مسلم لیگ ن کے گورنر جسٹس ریٹائرڈ سعید الزمان صدیقی سے تعلق خوشگوار رہے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سینیئر صوبائی وزیر نثار کھوڑو کا کہنا ہے کہ گورنر کی تعیناتی کے لیے سندھ حکومت سے مشورہ نہیں کیا گیا ہے جبکہ یہ ایک روایت رہی ہے۔ یہ ایک آئینی عہدہ ہے اور صدر مملکت وزیر اعظم کے مشورے سے تعیناتی کرتا ہے۔

ایم کیو ایم کے صوبائی اسمبلی میں پارلیمانی رہنما خواجہ اظہار الحسن کا کہنا ہے کہ ایک روز قبل انھیں آگاہ کیا گيا تھا کہ زبیر عمر کو تعینات کیا جارہا ہے۔ وہ انہیں مبارک باد دیتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ غیر جانبدارانہ کردار ادا کریں گے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں