’نیب کے چیئرمین اپیل دائر نہ کرنے کی تجویز سے متفق تھے‘

سپریم کورٹ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سپریم کورٹ نے نیب کے حکام سے اس اجلاس کی رپورٹ طلب کی تھی جس میں حدیبیہ پیپرز ملز کے مقدمے میں اسحاق ڈار کی بریت کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

قومی احتساب بیورو نے سپریم کورٹ میں ادارے کے اُس اجلاس کی تفصیلات جمع کروا دی ہیں جس میں حدیبیہ پیپرز ملز کے مقدمے میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی بریت کے ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

یہ تفصیلات نیب نے منگل کو پاناما لیکس سے متعلق آئینی درخواستوں کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ کے سامنے پیش کی ہیں۔

٭’آپ بہت بڑا جوا کھیل رہے ہیں‘

پاناما لیکس، نیا سال اور پرانی بحث

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت کے پراسیکیوٹر جنرل نے چیئرمین نیب کو ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر نہ کرنے کی تجویز دی تھی جس سے نیب کے چیئرمین نے اتفاق کیا تھا۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق بینچ میں موجود جسٹس گلزار احمد نے نیب کے پراسیکیوٹر جنرل سے استفسار کیا کہ ایسے کتنے مقدمات ہیں جن میں نیب نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر نہیں کی، جس پر نیب کے پراسیکیوٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ بہت سے ایسے مقدمات ہیں جن کے فیصلوں میں ججوں کے مابین اختلاف رائے کی وجہ سے اپیل دائر نہیں کی گئی۔

بینچ میں موجود جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے ایسے بھی مقدمات ہیں جن کے فیصلوں میں اختلاف نہ ہونے کے باوجود بھی نیب کے حکام نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے اس کیس کی گذشتہ سماعت کے دوران نیب کے حکام سے اس اجلاس کی رپورٹ طلب کی تھی جس میں حدیبیہ پیپر ملز کے مقدمے میں اسحاق ڈار کی بریت کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

منگل کو وزیر اعظم کے صاحبزادوں حسن اور حسین نواز کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سنہ 1993 میں لندن میں اُن کے فلیٹس ان کی ملکیت نہیں تھے بلکہ یہ فلیٹس قطری خاندان کی ملکیت تھے اور اُنھیں ان فلیٹس کا کرایہ ادا کیا جاتا تھا۔

بینچ میں موجود جسٹس اعجاز افضل نے وزیر اعظم کے صاحبزادوں کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا یہ فلیٹس التوفیق ٹرسٹ کے مقدمے میں رقم کی واپسی کے لیے گروی رکھوائے گئے تھے، جس پر سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں تھا بلکہ اس مقدمے میں اُنھیں آٹھ ملین ڈالر کی رقم ادا کی گئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نیب کے پراسیکیوٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ 20 اپریل کو اسحاق ڈار نے درخواست دی تھی جس کے اگلے روز ہی اُن کا بیان ریکارڈ کیا گیا تھا

اُنھوں نے کہا کہ ان فلیٹس کی ملکیت شریف خاندان کی ہونے کا دعویٰ شہری شیزی نقوی نے اس وقت کے ایف آئی اے کے ڈائریکٹر رحمان ملک کی رپورٹ کی بنیاد کی روشنی میں کیا تھا۔

اُنھوں نے کہا کہ سنہ 2006 میں ان چاروں فلیٹس کی ملکیت وزیراعظم کے صاحبزادوں کے نام ہوئی ہے۔ اس پر بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’آپ 13 سال سے ان فلیٹوں میں رہ رہے ہیں تو انگلیاں تو آپ پر اُٹھیں گی۔‘

بینچ میں موجود جسٹس عظمت سعید نے وزیر اعظم کے صاحبزادوں کے وکیل سے استفسار کیا کہ التوفیق کیس میں پیسوں کی رقم کا معاملہ کیسے طے ہوا، جس پر سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ اُن کے موکل کو اس رقم کی ادائیگی کا علم نہیں ہے کیونکہ حسن نواز لندن میں تھے جبکہ حسین نواز پاکستان میں زیر حراست تھے۔

بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کو بتایا گیا تھا کہ التوفیق مقدمے میں 16 ملین ڈالر کی بات کی گئی تھی۔

جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 12 اکتوبر سنہ 1999 سے لے کر دسمبر2000 تک پوری فیملی حراست میں تھی، اس کا مطلب ہے کہ آٹھ ملین ڈالر کی رقم شریف فیملی نے ادا نہیں کی۔

جسٹس گلزار نے استفسار کیا کہ گلف سٹیل ملز میں جو بینک کا قرضہ تھا وہ کیسے ادا ہوا، جس پر سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ یہ قرضہ فیکٹری کے منافعے سے ادا کیا گیا ہوگا۔ اُنھوں نے کہا کہ گلف سٹیل کے 75 فیصد حصص فروخت کر کے بینک کا 21 ملین درہم کا قرضہ ادا کیا گیا۔

بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کی تقریر میں قطر میں کاروبار کا ذکر نہیں تھا اور اس کے علاوہ گلف سٹیل ملز میں پارٹنر طارق شفیع کے بیان حلفی میں بھی اس کا کوئی ذکر نہیں آیا تو پھر اچانک قطر میں سرمایہ کاری کا ذکر کیسے آیا۔

سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ اُن کا اپنا ٹرائل ہو رہا ہے۔

اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر اُن کے موکل نے کچھ غلط کیا ہے یا حقائق چھپائے ہیں تو اس کی سزا ان کے والد یعنی وزیراعظم کو کیسے دی جاسکتی ہے۔

ان درخواستوں کی سماعت یکم فروری تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

اسی بارے میں