’کراچی میں پیپلز پارٹی کی نظریں اردو بولنے والوں کے ووٹ بینک پر‘

مراد علی شاہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کراچی کے اردو سپیکنگ ووٹ بینک کو اپنی طرف کھینچنے کی کوشش میں پی پی بھی سرفہرست ہے

کراچی میں اتوار کو ویسے تو کاروبار زندگی معطل اور سرکاری دفاتر بند ہوتے ہیں لیکن وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ بغیر پیشگی اطلاع کے طارق روڈ سمیت شہر کے ان علاقوں میں پہنچ گئے جہاں ترقیاتی کام جاری ہے۔

یہ سلسلہ اس وقت سے شروع ہے جب سے انھوں نے سید قائم علی شاہ کی جگہ یہ منصب سنبھالا ہے۔

سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی 2008 سے مسلسل اقتدار میں ہے، متحدہ قومی موومنٹ پہلی حکومت میں اتحادی رہی، نتیجے میں پی پی پی نے کراچی کے انتظامی امور سے فاصلہ رکھا اور جب پی پی پی دوسری بار حکومت میں آئی تو ایم کیو ایم حکومت میں شامل نہیں تھی، اس کے علاوہ اس کو اندرونی اور بیرونی تبدیلیوں کے علاوہ ٹارگٹڈ آپریشن کا سامنا تھا۔

الطاف حسین کی گذشتہ سال متنازع تقریر کے بعد جب ایم کیو ایم کا پاکستان اور لندن کے دھڑوں میں بٹوارہ ہوا تو کئی سیاسی جماعتوں نے اس ووٹ بینک کو اپنی طرف کھینچنے کی کوشش شروع کر دی، جس میں پی پی بھی سرفہرست رہی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے سیکریٹری جنرل سعید غنی کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کے اتحاد سے انھوں نے کراچی میں بہت کچھ گنوایا ہے، اور اب انھیں ایک موقعہ نظر آ رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا 'شہر میں گذشتہ 20،25 سالوں میں جو بھی انتخابات ہوئے ہیں وہ اصل مینڈیٹ کی عکاسی نہیں کرتے، لوگوں کی خواہشات کچھ تھیں اور نتائج کچھ اور ہی سامنے آتے تھے۔'

کراچی میں ماضی کے انتخابات کے نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ اکثریتی ووٹ ایم کیو ایم کو ملا لیکن جماعت اسلامی، سنی تحریک اور پی پی پی بھی ووٹ لیتی رہی ہیں۔

قائداعظم یونیورسٹی کے استاد فرحان صدیقی کا کہنا ہے کہ اردو سپیکنگ ووٹ بینک اس وقت تقسیم ہے، ایم کیو ایم میں بحران کے بعد جو خلا پیدا ہوا ہے، پی پی پی کے علاوہ پاک سرزمین پارٹی اور تحریک انصاف کی بھی کوشش ہے کہ وہ اس ووٹ کو حاصل کریں۔

پی پی پی اپنے قیام سے لیکر آج تک بلوچ اور سندھی آبادی کے علاقوں لیاری اور ملیر سے نشست لیتی رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption الطاف حسین کی گذشتہ سال متنازع تقریر کے بعد جب ایم کیو ایم کا پاکستان اور لندن کے دھڑوں میں بٹوارہ ہوا

تجزیہ نگار ڈاکٹر جعفر احمد کا کہنا ہے کہ اردو بولنے والوں کو پی پی پی میں شامل کرنے کے لیے کبھی سنجیدہ کوششیں نہیں کی گئیں، ماسوائے 1970 کہ جب معراج محمد خان کو لالو کھیت سے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے کہا گیا تھا لیکن انہوں نے انکار کردیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اُس وقت طلبہ تنظیموں کا زور تھا، مزدور تنظیمیں بھی فعال تھیں، اتنا سیاسی میٹیریئل موجود تھا جو کراچی میں پی پی پی کے کام آ سکتا تھا لیکن معاملے کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔'

سنہ 1977 کے انتخابات میں پی پی پی نے حکیم محمد سعید اور جمیل الدین عالی کو نامزد کیا لیکن پاکستان نیشنل الائنس یعنی پی این اے کی تحریک حاوی رہی اور وہ دونوں ہار گئے۔

صحافی اور تجزیہ نگار مظہر عباس کا کہنا ہے کہ بھٹو اردو دانشوروں کو لیکر آئے تھے لیکن ’لینگوئج بل‘ کے بعد کافی فاصلے آگئے، اس کے باوجود پی پی پی کا کراچی میں مضبوط اثر رہا ہے، لیکن اس کی توجہ کراچی کے دیہی علاقوں یا لیاری پر زیادہ رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ'پہلی مرتبہ وہ کوشش کر رہے ہیں کہ وسطی شہر میں بھی وہ اپنا اثر و رسوخ پیدا کریں۔ پی پی پی صرف ترقیاتی سکیم پر کام کرے گی، اس سے یقیناً فرق پڑے گا مگر وہ سیاسی طور پر اردو بولنے والوں کو کتنی گنجائش دیتے ہیں، یہ بہت اہم ہو گا۔'

کراچی میں تاج حیدر، شہلا رضا، راشد ربانی، وقار مہدی، نفیس صدیقی اور فیصل رضا عابدی پی پی پی میں اردو بولنے والوں کے کوٹے پر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ڈاکٹر جعفر احمد کا کہنا ہے کہ شہلا رضا، وقار مہدی، راشد ربانی اچھے لوگ ہیں لیکن ان کا انتخابی حلقہ نہیں ہے۔ انتخابی الیکشن میں یہ ضروری ہے کہ آپ نچلی سطح پر موجود ہوں۔ اگر آپ صرف میڈیا مہم کے ذریعے یہ سمجھیں کہ ان علاقوں میں داخل ہو جائیں گے تو ایسا نہیں ہو گا۔

کراچی میں صوبائی حکومت نے بلدیاتی اداروں کو اپنی گرفت میں رکھا ہے، ایم کیو ایم کے پاس بلدیاتی اداروں میں بھرپور نمائندگی تو ہے لیکن اختیار نہیں۔

تجزیہ نگار مظہر عباس کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم اس کو اس انداز سے دیکھ رہی ہے کہ پیپلز پارٹی نے بلدیاتی اداروں کو غیر فعال کردیا ہے، جو کام بلدیاتی اداروں کو کرنے ہیں وہ صوبائی حکومت نے اپنے ہاتھوں میں لے لیے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ 'پیپلز پارٹی جب ایم کیو ایم کو ٹارگٹ کرتی ہے تو اسے اردو سپیکنگ پر حملے کے طور پر لیا جاتا تھا۔'

اسی بارے میں