کراچی آپریشن بلاامتیاز جاری رہے گا: گورنر سندھ

گورنر سندھ محمد زبیر

صوبہ سندھ کے نئے گورنر محمد زبیر عمر نے کہا ہے کہ ایسے عناصر کو برداشت نہیں کیا جائے گا جو کراچی کا ماحول خراب کرنا چاہتے ہیں اور ان کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں ایسے گروہوں کے خلاف کارروائی کرنے میں تاخیر کی گئی جس سے انہیں پنپنے کا موقع ملا۔

اپنے نئے عہدے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ ترقیاتی ایجنڈے پر کام کرتے ہوئے کراچی میں وفاقی حکومت کے ترقیاتی منصوبوں کو تیزی کے ساتھ مکمل کرنے کے ساتھ نئے منصوبے لائیں گے۔

اس کے علاوہ وہ سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر امن کی بحالی اور ایپکس کمیٹی میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

سندھ میں مسلم لیگ ن کے نامزد گورنر محمد زبیر عمر نے جمعرات کو سندھ کے 32 ویں گورنر کا حلف اٹھا لیا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ نے گورنر ہاؤس میں ایک تقریب میں ان سے حلف لیا۔

سندھ کے نئے گورنر محمد زبیر عمر، میجر جنرل غلام عمر کے فرزند ہیں جنھیں پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں برطرف کر کے قید کر دیا گیا تھا۔ کیا ماضی کی یہ تلخی سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ راہ میں رکاوٹ تو نہیں بن سکتی؟ اس کے جواب میں محمد زبیر کا کہنا تھا کہ وہ اس کا ذکر کرنا نہیں چاہتے کیونکہ یہ 1971 کی بات ہے۔

'قوموں کو آگے بڑھنا چاہیے نہ کہ انفرادی یا خاندانی بنیادوں پر، آج بھی کہتا ہوں کہ ذوالفقار علی بھٹو حکومت نے بہت غلطیاں کیں اور خاص طور پر معاشی شعبے میں قومیائے گئے اداروں کی پالیسی تباہ کن تھی جس کو خود بےنظیر بھٹو نے نجکاری کے ذریعے ریورس کیا، لیکن ذوالفقار علی بھٹو نے بہت اچھے کام بھی کیے جن میں سب سے بڑا کام 1973 کا آئین ہے۔'

انھوں نے حکومت سندھ سے ٹکراؤ کے امکانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی حدود سے تجاوز نہیں کریں گے اور نہ ہی کوئی مقابلہ کریں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ 2018 کے انتخابات میں دیگر جماعتوں کی طرح مسلم لیگ ن بھی حصہ لے گی اور اگر کراچی کی صورت حال بہتر ہوئی تو وہ بھی اس کا کریڈٹ لے گی۔

'سب کو پتہ ہے کہ میں مسلم لیگ ن کا نامزد کردہ (گورنر) ہوں، کراچی میں معاشی فائدہ اور ترقی آئے گی تو یہاں کی قیادت اور کارکنوں کو طریقہ آنا چاہیے کہ اس سے کس طرح فائدہ حاصل کرتے ہیں۔'

محمد زبیر کا کہنا تھا کہ 'کراچی میں سیاسی خلا موجود ہے جس کو پر کرنا ہے، کیونکہ ایم کیو ایم تین یا چار حصوں میں تقسیم ہو گئی ہے، ایک ایم کیو ایم لندن ہے، ایک ایم کیو ایم پاکستان، اور ایک پاک سرزمین پارٹی ہے۔ عشرت العباد کس طرف ہیں پتہ نہیں، لیکن وہ بھی ایک گروپ ہے۔'

’ایم کیو ایم وہ جماعت ہے جس کے پاس کراچی کے عوام کا 30 سال سے مینڈیٹ تھا، اس سیاسی خلا کو کوئی نہ کوئی سیاسی جماعت تو پُر کرے گی۔'

انھوں نے کراچی آپریشن کو جاری رکھنے کی حمایت کی اور کہا کہ 'ایسے عناصر جو یہ سمجھتے ہیں کہ دوبارہ اس قسم کا ماحول پیدا کیا جائے، ان کے لیے یہ واضح پیغام ہے کہ ہم دیکھ رہے ہیں اور اس کو بالکل برداشت نہیں کریں گے۔

'ماضی میں یہ کہہ کر وقت ضائع کیا گیا کہ یہ سرگرمیاں چھوٹی ہیں یا ان کے خلاف ایکشن لیں گے تو بڑا رد عمل ہو گا، بہت بڑا طوفان برپا کر سکتے ہیں، اسی طرح یہ کہہ کہہ کر ہم نے انھیں اتنا پنپنے دیا۔ ہم نے ایک چیز سیکھی ہے کہ چاہے ان عناصر کا تعلق کسی بھی گروپ سے ہو اس کے خلاف بے رحمانہ ایکشن ہونا چاہیے۔'

سندھ اور وفاقی حکومتوں میں رینجرز کے اختیارات میں توسیع کے معاملے پر اختلافات اور کشیدگی سامنے آتی رہی ہے۔ اس بارے محمد زبیر کہتے ہیں کہ وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ آنے والے دنوں میں سب کچھ اچھا ہو گا اور ہر چیز پر اتفاق ہو گا 'کیونکہ ایک خاندان یا میاں بیوی میں بھی ہر چیز پر اتفاق نہیں ہوتا، یہاں تو اعلیٰ سطح کے مفادات ہیں۔'

انھوں نے کہا کہ 'ہم چاہتے ہیں کہ امن وامان ہو، اس مقصد کو حاصل کرنے اور مستحکم کرنے کے لیے کیا رینجرز کا ہونا ضروری ہے، اس کے اختیارات کتنے ہونے چاہییں، اس کو کنٹرول کرنے کا اختیار کس کے پاس ہو، ان تمام چیزوں پر اختلاف رائے ہو سکتا ہے۔ وفاقی حکومت کے نمائندے کی حیثیت سے میرا یہ اولین فرض ہوگا کہ جو بنیادی مقصد ہے اس کو چھوٹے چھوٹے سیاسی مفادات کی وجہ سے نظر انداز نہ کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کا معاشی مرکز بنے اس کے لیے معاشی اور مالی سرگرمیوں کے مواقع پیدا کرنے پڑیں گے۔ گذشتہ 20 سال کا عرصہ ایسا تھا کہ کراچی کو دس منٹ کے نوٹس پر بند کر دیا جاتا تھا، یہ پرامن شٹ ڈاؤن نہیں ہوتا تھا بلکہ اس کے ساتھ جلاؤ گھیراؤ بھی ہوتا تھا، رکشے بسیں اور کھوکھے بھی جلائے جاتے تھے۔

'کراچی جو صنعتی مرکز تھا وہ صنعتیں یہاں سے پنجاب اور خیرپختونخوا منتقل ہونا شروع ہو گئیں، جو نئی سرمایہ کاری تھی وہ بند ہوگئی۔ آپریشن کے بعد اس وقت معاشی اور مالی سرگرمی شروع کرنے کا ایک زبردست وقت ہے، ترقی کے اہداف جو سب چاہتے ہیں کہ چھ سے سات فیصد ہوں، یہ ممکن ہے۔'

سندھ کے نئے گورنر محمد زبیر عمر، میجر جنرل غلام عمر کے فرزند ہیں جنھیں پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں برطرف کر کے قید کر دیا گیا تھا۔ کیا ماضی کی یہ تلخی سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ راہ میں رکاوٹ تو نہیں بن سکتی؟ اس کے جواب میں محمد زبیر کا کہنا تھا کہ وہ اس کا ذکر کرنا نہیں چاہتے کیونکہ یہ 1971 کی بات ہے۔

'قوموں کو آگے بڑھنا چاہیے نہ کہ انفرادی یا خاندانی بنیادوں پر، آج بھی کہتا ہوں کہ ذوالفقار علی بھٹو حکومت نے بہت غلطیاں کیں اور خاص طور پر معاشی شعبے میں قومیائے گئے اداروں کی پالیسی تباہ کن تھی جس کو خود بےنظیر بھٹو نے نجکاری کے ذریعے ریورس کیا، لیکن ذوالفقار علی بھٹو نے بہت اچھے کام بھی کیے جن میں سب سے بڑا کام 1973 کا آئین ہے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں