اے آر وائی کی برطانیہ میں نشریات بند

اے آر وائی تصویر کے کاپی رائٹ ARY

برطانیہ میں میڈیا کے نگران ادارے آف کوم نے اے آر وائی کی برطانیہ میں نشریات بند کر دی ہیں جبکہ چھ چینلوں کے لائسنس منسوخ کر دیے ہیں۔

برطانوی ادارے نےایک پریس ریلیز میں کہا ہے کہ اس نے یہ فیصلہ اے آر وائی کے خلاف برطانوی ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد کیا ہے۔

خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق دو ماہ قبل برطانیہ کی ایک ہائی کورٹ میں جنگ اور جیو گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمٰن کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ ہارنے کے بعد اے آر وائی کے برطانیہ میں چیف آپریٹنگ آفیسر نے تین ہفتے قبل دیوالیے کی درخواست دائر کی تھی۔

اے پی پی کے مطابق اے آر وائی کی بندش لندن کی ایک ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے بعد ہوئی ہے جس میں عدالت نے اے آر وائی سے کہا تھا کہ وہ میر شکیل الرحمٰن کے خلاف سنگین نوعیت کے الزامات کے بعد ایک لاکھ 85 ہزار برطانوی پاؤنڈ جرمانہ ادا کریں۔

اس کے علاوہ جسٹس سر ایڈی نے اے آر وائی سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ میر شکیل الرحمٰن کے وکلا کا خرچ بھی دیں۔ اس طرح اے آر وائی کو کل 30 لاکھ پاؤنڈ ادا کرنا ہوں گے۔

اے آر وائی نے عدالت میں تسلیم کیا کہ اس کے پاس ان الزامات کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے، جس کے بعد عدالت نے یہ فیصلہ کیا۔

اے آر وائی کے پاس برطانیہ میں براڈ کاسٹنگ ایکٹ مجریہ 1990 کے تحت چھ چینلوں کے لائسنس تھے، جن سے اے آر وائی ڈیجیٹل، اے آر وائی کیو ٹی وی، اے آر وائی نیوز، اے آر وائی ورلڈ نیوز، کیو ٹی وی اسلامک ایجوکیشن چینل اور اے آر وائی انٹرٹینمنٹ چلائے جا رہے تھے۔

اے آر وائی کو 12 جنوری 2017 سے رضاکارانہ دیوالیے کے زمرے میں ڈال دیا گیا تھا۔

آف کوم کو تشویش تھی کہ کمپنی کے دیوالیہ ہونے کے باوجود اس کے تین چینلوں کے پروگرام نشر کیے جا رہے ہیں۔ آف کوم نے کہا ہے کہ بقیہ تین چینلوں کی نشریات مکمل طور پر بند ہیں۔

یاد رہے کہ جیو ٹیلی ویژن پر چلنے والی خبروں کے مطابق اے آر وائی کی نشریات اس لیے بند کی جا رہی ہیں کہ وہ برطانیہ میں جیو اور جنگ گروپ کے خلاف ایک مقدمہ ہار گیا ہے، اور یہ قدم اے آر وائی کے خلاف برطانوی ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد اٹھایا گیا ہے۔

دوسری جانب اے آر وائی نے ایک پریس ریلیز کے ذریعے وضاحت کی ہے کہ برطانیہ میں دکھایا جانے والا اے آروائی کا مواد دبئی کی ایک کمپنی اے آر وائی ڈیجیٹل ایف زیڈ ایل ایل سی کی ملکیت ہے، جس نے اسے سیلز اور مارکیٹنگ کی ایک فرم کو آوٹ سورس کیا تھا جو اس مواد کو دکھانے کی مکمل طور پر ذمہ دار تھی۔

پریس ریلیز کے مطابق برطانیہ میں کیا گیا مقدمہ اسی آوٹ سورس کمپنی کے خلاف تھا نہ کہ اے آر وائی پاکستان کے خلاف، اور اس نے نے برطانوی عدالت کے فیصلے کے بعد برطانیہ میں اپنے آپریشن بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں