کشمیر: لائن آف کنٹرول میں بٹنے والا بچہ ماں سے آن ملا

روحینہ تصویر کے کاپی رائٹ AURANGZAIB JARRAL

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر سے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر لے جائے جانے والے بچے کو انڈیا کے حکام نے واپس پاکستان کے حوالے کر دیا ہے۔

پانچ سالہ افتخار احمد کو سنیچر کو واہگہ بارڈر کے راستے پاکستانی حکام کے حوالے کیا گیا۔

11 ماہ بعد بیٹے سے ملنے پر اس کی والدہ روحینہ کیانی کا کہنا تھا کہ انھوں نے لگ بھگ تمام امیدیں ہی چھوڑ دیں تھیں اور یہ ان کے لیے کسی معجزے سے کم نہیں۔

* بچے کی واپسی کے لیے 'وزیرِ اعظم کی یقین دہانی'

* کشمیری بچہ لائن آف کنٹرول میں 'بٹ' گیا

افتخار کو ان کے سوتیلے والد گلزار تانترے گذشتہ برس اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

پاکستان نے بچے کی واپسی پر انڈیا کا شکریہ ادا کیا۔

روحینہ کیانی نے اس موقعے پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ’میں پاکستانی حکومت کا اس مدد کے لیے شکریہ ادا کرتی ہوں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ ANSAR BURNEY TRUST

افتخار اس وقت انڈیا اور پاکستان کے درمیان ایک تنازعے کا مرکز بنا جب گلزار تانرے کو مارچ 2016 میں گرفتار کیا گیا۔

وہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے گاؤں گاندربل کے رہائشی ہیں۔ وہ 1990 میں مسلح شورش کے وقت پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر آ گئے تھے۔

جب وہ واپس انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر گئے تو انھیں پولیس نے حراست میں لے لیا۔

تبھی روحینہ نے اپنے شوہر پر بچے کے اغوا اور اسے بغیر بتائے انڈیا کے زیرِانتظام کشمیر لے جانے کا الزام عائد کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Rohina Kiyani

تانرے اور ان کے خاندان کے اغوا کے الزامات سے انکار کیا ہے۔

اس سلسلے میں انڈیا میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط نے کہا کہ ’یہ خوشی کا موقع ہے کہ افتخار بالآخر پاکستان اپنی والدہ کے پاس پہنچ گیا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’بچے کی حوالگی کے لیے تعاون پر انڈین حکومت کے شکر گزار ہیں۔‘