لاپتہ افراد کے لیے سینٹ کی کمیٹی برائے انسانی حقوق سے رجوع کا فیصلہ

Image caption وائس فار مسنگ بلوچ پرسنز کا دعویٰ ہے کہ بلوچستان سے جبری طور پر لاپتہ افراد کی تعداد ہزاروں میں ہے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے سینٹ کی کمیٹی برائے انسانی حقوق سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تنظیم کے چیئر مین نصراللہ بلوچ نے بتایا کہ یہ فیصلہ لاپتہ افراد کے رشتہ داروں سے تفصیلی صلاح و مشورہ کے بعد کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کیسز کے حوالے سے ایک جامع رپورٹ سینٹ کی کمیٹی برائے انسانی حقوق کو فراہم کی جائے گی اور اس کے ساتھ وفاقی اور بلوچستان حکومتوں کے ساتھ بھی اس مسئلے کو اٹھایا جائے گا۔

* بلوچستان: لاپتہ افراد یا قبائلی تنازعات؟

* ’لاپتہ افراد کو جعلی مقابلوں میں مارا جا رہا ہے‘

نصراللہ بلوچ نے بتایا کہ اگر ماضی کی طرح اس معاملے کو سرد خانے میں ڈالنے کی کوشش کی گئی تو دوسرے مرحلے میں سیاسی جماعتوں اور حقوق انسانی کی تنظیموں کے ساتھ رابطہ کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا اگر ان اقدامات کے بعد بھی لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے پیش رفت نہیں ہوئی تو تیسرے مرحلے میں مکمل دستاویزات کے ساتھ بین الاقوامی برادری سے رابطہ کرنے کے بعد اقوام متحدہ سے دوبارہ ان کیسز کا جائزہ لینے کے لیے درخواست کی جائے گی۔

تنظیم کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ چوتھے مرحلے میں ان کیسز کو لے کر انصاف کے حصول کے لیے بین الاقوامی عدالت انصاف سے بھی رجوع کیا جائے گا۔

بلوچستان میں لاپتہ افراد کا مسئلہ 2002 میں شروع ہوا تھا۔

وائس فار مسنگ بلوچ پرسنز کا دعویٰ ہے کہ بلوچستان سے جبری طور پر لاپتہ افراد کی تعداد ہزاروں میں ہے۔

تاہم حکومت بلوچستان کے ترجمان انوارالحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ ان کی تعداد 80 سے زیادہ نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت ان کیسز کا جائزہ لے رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بعض عناصر ریاستی اداروں کو بدنام کرنے کے لیے لاپتہ افراد کی تعداد کو بڑھا چڑھا کر پیش کررہے ہیں۔

اسی بارے میں