چارسدہ میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کا مدرسہ سِیل

مدرسہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption قومی ایکشن پلان کے تحت ملک بھر میں تمام دینی مدرسوں کی رجسٹریشن اور ان پر نظر رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا (فائل فوٹو)

خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں حکام کا کہنا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمان گروپ) کے ایک دینی مدرسے سے مشکوک شدت پسندوں کی گرفتاری اور مدرسہ انتظامیہ کی جانب سے اس کے لائسنس کی تجدید نہ کرانے پر اسے سیل کر دیا گیا ہے۔

چارسدہ کے ضلعی پولیس سربراہ سہیل خالد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ شہر کے نواحی علاقے تنگی میں واقع جے یو آئی ف کے دینی مدرسے کے خلاف کارروائی صوبائی حکومت کی حکم پر کی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ تعلیم القران والسنت نامی اس دینی مدرسے پر کچھ عرصہ پہلے خفیہ اداروں کی جانب سے دو مرتبہ چھاپے مارے گئے اور دونوں مرتبہ وہاں سے مشکوک شدت پسند گرفتار کیے گئے۔

ان کے مطابق مذکورہ مدرسے کی لائسنس کی معیاد بھی ختم ہو گئی تھی جس کی تجدید ابھی تک نہیں کرائی گئی اسی وجہ سے اسے حکومتی احکامات کے تناظر میں بند کیا گیا ہے۔

دینی درس گاہ تعلیم القران والسنت چارسدہ میں چار سو کے قریب طلبہ زیرتعلیم ہیں۔ یہ مدرسہ تقریباً 19 سال قبل قائم کیا گیا تھا۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مدرسے کی بندش کے بعد وہاں زیرتعلیم تمام طلبہ اپنے گھروں کو چلے گئے ہیں۔

بعض سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مدرسے کی بندش کا فیصلہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے سلسلے میں کیا گیا ہے۔

اس مدرسے کے مہتمم اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ضلعی رہنما مفتی گوہرعلی شاہ کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ نے بغیر کسی ثبوت کے مدرسے کے خلاف کارروائی کی اور جس کے خلاف ان کی جماعت بھرپور احتجاج کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ جے یو آئی کی ضلعی شوریٰ کا اجلاس پیر کو چارسدہ میں منعقد کیا جا رہا ہے جس میں مدرسے کی بندش سے پیدا ہونے والی صورت حال کے حوالے سے آئندہ لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

مفتی گوہر علی شاہ کے مطابق چارسدہ میں اس سے پہلے دس دیگر دینی مدرسوں پر چھاپے مارے گئے تھے اور وہاں سے بھی مشکوک افراد کو حراست میں لیا گیا لیکن ان میں کسی دینی مدرسے کو سیل نہیں کیا گیا۔

انھوں نے تصدیق کی کہ ان کے مدرسے سے مشکوک افراد گرفتار ہوئے اور اس ضمن میں مدرسہ انتظامیہ کے تعاون سے ان افراد کو مقامی انتظامیہ اور خفیہ اداروں کے حوالے کیا گیا۔

انھوں نے مزید کہا کہ ان کا مدرسہ تقریباً 20 دن پہلے سیل کیا گیا تھا تاہم ان کی مقامی انتظامیہ سے مذاکرات چل رہے تھے لیکن ان کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا لہٰذا اب اس معاملے کو پارٹی کی سطح پر اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

مفتی گوہر علی شاہ نے الزام لگایا کہ چارسدہ میں ایک سیاسی جماعت کےلیے راہ ہموار کرنے کےلیے یہ سب ڈراما کیا جارہا ہے تا کہ ان جماعت کو آنے والے الیکشن سے دور رکھا جائے۔

خیال رہے کہ قومی ایکشن پلان کے تحت ملک بھر میں تمام دینی مدرسوں کی رجسٹریشن اور ان پر نظر رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ خیبر پختونخوا حکومت نے صوبائی کابینہ کے گذشتہ اجلاس میں صوبے میں قائم تمام دینی مدارس پر نظر رکھنے کے لیے طریقہ کار طے کرنے کا فیصلہ کیا تھا، تاہم اس کی کوئی وضاحت نہیں کی گئی تھی۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہےکہ مذہبی جماعتیں وقتاً فوقتاً حکومت اور خفیہ اداروں کی جانب سے دینی مدارس پر چھاپوں کی مذمت کرتی رہی ہے جس میں جے یو آئی ف پیش پیش رہی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں