کالعدم تنظیموں کے دعوے کتنے حقیقی؟

پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption آپریشن ضرب عضب کے بعد بیشتر کالعدم تنظیمیں کافی حد تک کمزور ہوچکی ہیں۔

پاکستان میں آپریشن ضرب عضب کے بعد شروع ہونے والی سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کی وجہ سے بیشتر کالعدم تنظیمیں کافی حد تک کمزور ہوچکی ہیں۔

ان کی حملے کرنے کی صلاحیتیں تو کم ہوگئی ہیں تاہم ان تنظیموں نے شدت پسند حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کے ضمن میں ذرائع ابلاغ میں خود کو زندہ رکھنے کے لیے صحافیوں سے مسلسل اپنا رابطہ برقرار رکھا ہوا ہے۔

بنوں میں پولیس سٹیشن پر باردو سے بھری گاڑی سے حملہ

کچھ عرصے سے بعض شدت پسند تنظیموں نے میڈیا میں خود کو زندہ رکھنے کے لیے ایک حکمت عملی اختیار کی ہوئی ہے جس کے تحت وہ ہر دوسرے تیسرے دھماکے یا حملے کی ذمہ داری قبول لیتی ہیں۔

دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں یہ سلسلہ تو پہلے سے چلا آرہا ہے لیکن حالیہ دنوں میں اس میں ایک نیا رحجان سامنے آرہا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ بعض اوقات ایک حملے کی ذمہ داری کئی تنظیمیں ایک ہی وقت میں قبول کر رہی ہیں اور منگل کو بنوں میں ہونے والا حملہ بھی اسی رحجان کی ایک مثال ہے۔

شدت پسندی پر تحقیق کرنے والے سینیئر تجزیہ نگار عامر رانا کا کہنا ہے کہ اکثر اوقات کالعدم تنظیمیں کریڈٹ لینے کے لیے ’بلف‘ کھیلتی ہیں اور جس کا مقصد خود کو عوام کی نظروں میں زندہ رکھنا ہے۔

انھوں نے کہا کہ گذشتہ سال دنیا بھر میں ہونے والے بعض بڑے حملوں میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ جیسی بڑی تنظیم براہ راست طور پر منصوبہ بندی میں شامل نہیں تھی لیکن وہ پھر بھی ان واقعات کی ذمہ داری قبول کرتی رہی ہے۔

ان کے بقول ’چونکہ زیادہ تر کالعدم تنظیمیں آپریشنوں کی وجہ سے کمزور ہو چکی ہیں اور ان کی حملہ کرنے کی صلاحیت بھی نہیں رہی، لہٰذا کریڈٹ لینے اور خود کو زندہ رکھنے کی خاطر وہ ذمہ داری قبول کر لیتی ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کالعدم تنظیمیں خود کو زندہ رکھنے کے لیے ہر دوسرے تیسرے دھماکے یا حملے کی ذمہ داری قبول لر لیتی ہیں۔

عامر رانا کے مطابق پاکستان میں سرگرم بیشتر شدت پسند گروہ کمزور ضرور ہو چکے ہیں لیکن وہ اب بھی ریاست کے لیے ایک بڑا خطرہ بنے ہوئے ہیں اور بعض علاقوں میں تو کچھ تنظیموں کا اثر رسوخ بدستور پایا جاتا ہے لہٰذا ایسی تنظیموں پر مسلسل نظر رکھنا سکیورٹی فورسز کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔

بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ شاید آپریشن ضرب عضب کے بعد ملک کے اندر اور سرحد پار موجود کالعدم تنظیموں کو اپنی بقا کا خطرہ در پیش ہے لہٰذا وہ اب تمام مسلکی اختلافات ایک طرف رکھ کر یکجا ہوگئے ہیں تاکہ اکھٹا ہو کر مقابلہ کیا جاسکے۔

گذشتہ کچھ عرصے کے دوران پنجاب،خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہونے والے بعض واقعات سے ظاہر ہوا ہے کہ دولتِ اسلامیہ سمیت تمام اہم کالعدم تنظیمیں آپس میں مل چکی ہیں تاہم شدت پسندوں کی طرف سے باضابطہ طور پر اس کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی ہے۔

محسود طالبان کے خالد سجنا گروپ نے بھی حال ہی میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان میں دوبارہ شمولیت کا اعلان کیا ہے۔ اس سے پہلے یہ دونوں تنظیمیں ایک دوسرے کے خلاف سنگین نوعیت کے الزامات لگاتی رہی ہیں۔

ادھر کئی شدت پسند گروہوں کی طرف سے ایک ہی وقت میں کسی ایک واقعے کی ذمہ داری قبول کرنے کے ضمن میں ان تنظیموں کے موقف میں بھی کوئی واضح سچ نظر نہیں آتا بلکہ بعض اوقات یہ دعوے جھوٹے بھی ثابت ہوتے رہے ہیں۔ اکثر اوقات یہ تنظیمیں ایک دوسرے پر جھوٹ بولنے کے الزامات لگاتی رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کئی مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ کسی ایک گروپ کے مرکزی ترجمان ایک حملے سے لاتعلقی کا اظہار کرتا ہے تو دوسری طرف اسی گروپ کا ایک کمانڈر اسی واقعے کی ذمہ داری قبول کرلیتا ہے۔

عام طورپر زیادہ تر کالعدم تنظیمیں کسی واقعے کی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے صحافیوں سے براہ راست رابطہ کرتی ہیں یا ای میل کے ذریعے سے انھیں پیغام بھیجا جاتا ہے۔ تاہم اکثر اوقات جب ان کے ترجمانوں سے جب پوچھا جاتا ہے کہ فلاں واقعے کی ذمہ داری تو دوسری تنظیم پہلے ہی قبول کرچکی ہے تو کہا جاتا ہے کہ ان کا دعویٰ جھوٹ پر مبنی ہے، ہمارا دعویٰ سچ ہے۔

کئی مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ کسی ایک گروپ کے مرکزی ترجمان ایک حملے سے لاتعلقی کا اظہار کرتا ہے تو دوسری طرف اسی گروپ کا ایک کمانڈر اسی واقعے کی ذمہ داری قبول کرلیتا ہے۔

بنوں میں منگل کو پولیس سٹیشن پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری بھی تین مختلف تنظیموں کی طرف سے قبول کی گئی ہے جن میں تحریک طالبان پاکستان، خالد سجنا گروپ کے محسود طالبان اور القاعدہ برصغیر شامل ہے۔

تاہم اس سلسلے میں بات کرتے ہوئے تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان محمد خراسانی کا کہنا ہے کہ بعض اوقات ایک حملے کےلیے تین گروپ تشکیل دیے جاتے ہیں اور یہ تمام گروپس اپنے اپنے طورپر ذمہ داری لے لیتے ہیں جس کی وجہ سے بیشتر اوقات غلط فہمی پیدا ہو جاتی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں