’دولت اسلامیہ کی پاکستان میں کارروائیوں کی دھمکی‘

دولت اسلامیہ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ (داعش) کی جانب سے ایک پمفلٹ پھینکا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کے بعد اب وہ پاکستان میں اپنی کارروائیاں کرے گی۔

پشتو زبان میں تحریر دو صفحات پر مشتمل یہ پمفلٹ پاک افغان سرحد پر واقع علاقوں میں پھینکے گئے ہیں۔

نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق کرم ایجنسی سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی ساجد طوری نے بی بی سی کو بتایا کہ اگرچہ اس طرح کی دھمکیاں پہلے بھی موصول ہوتی رہی ہیں لیکن اب اس مرتبہ لوگوں میں زیادہ تشویش پائی جاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کرم ایجنسی کے ساتھ افغانستان کے مختلف علاقے ملتے ہیں جن میں ننگرہار شامل ہے جو دولت اسلامیہ کا مرکز بتایا جاتا ہے ۔

اس پمفلٹ میں لکھا گیا ہے کہ اب دولتِ اسلامیہ پاکستان کے قبائلی علاقوں کرم ایجنسی، اورکزئی ایجنسی، ہنگو اور ڈیرہ اسماعیل خان میں اپنی کارروائیاں شروع کرے گی۔

ساجد طوری کا کہنا ہے کہ ’سنہ 2007 میں جب طالبان اس علاقے میں آ رہے تھے تو اس وقت ان کا طریقۂ کار بھی یہی تھا اور اب داعش نے بھی وہی طریقہ کار اپنایا ہے لیکن اب صورتحال مختلف ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ فوجی آپریشن ضرب عضب کے بعد سکیورٹی فورسز علاقے میں موجود ہیں اور ان کی اس علاقے میں کڑی نظر ہے اس لیے اس طرح کے عناصر اس علاقے میں اب آسانی سے داخل نہیں ہو سکتے۔ انھوں نے کہا کہ علاقے میں لوگ بھی فورسز کے ساتھ کھڑے ہیں ۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ گذشتہ سال جنوری کے مہینے میں بھی دولت اسلامیہ کی جانب سے ہی کرم ایجنسی کے علاقے پاڑہ چنار میں پمفلٹ تقسیم کیے گئے تھے۔

گذشتہ ماہ پاڑہ چنار کی سبزی مارکیٹ میں ایک دھماکے میں 24 افراد ہلاک ہو گئے تھے اور اس دھماکے کے بعد مقامی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ علاقے میں دولت اسلامیہ کی جانب سے دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں