مقتول بلوچ رہنما غلام محمد بلوچ کے بیٹے بالاچ بلوچ لاپتہ

بالاچ بلوچ تصویر کے کاپی رائٹ Balach Baloch
Image caption 21 سالہ بالاچ نے والد کی ہلاکت کے بعد حصولِ تعلیم کا سلسلہ ترک کر دیا تھا

پاکستان کے صوبۂ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں مقیم مقتول بلوچ رہنما غلام محمد بلوچ کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے بالاچ بلوچ مبینہ طور پر لاپتہ ہوگئے ہیں۔

بالاچ کے خاندان کا کہنا ہے کہ چھ دن قبل سادہ لباس میں ملبوس افراد انھیں اپنے ساتھ لے گئے تھے اور تاحال ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔

بالاچ کے کزن سجاد حسین نے بی بی سی اردو کے ریاض سہیل کو بتایا کہ بالاچ ملیر کے علاقے میں اپنے نانا کے گھر پر مقیم تھے اور تین فروری کی رات تقریباً ڈھائی بجے کے قریب سات سے آٹھ گاڑیوں میں سوار سادہ لباس میں ملبوس اہلکاروں نے ان کے گھر کا محاصرہ کیا اور پھر کچھ لوگ اندر داخل ہو گئے۔

'انھوں نے لوگوں کو نیند میں سے اٹھایا اور کمرے میں سے بالاچ کو بھی اٹھا کر لائے اور اس سے شناختی کارڈ لے لیا۔ یہ کارڈ لے کر دو افراد باہر گئے اور کچھ ہی دیر بعد وہ واپس آئے اور بالاچ کو ساتھ لے گئے۔ نانا نے پوچھا کہ کہاں لے جا رہے ہیں تو انھوں نے جواب دیا کہ پوچھ گچھ کے بعد چھوڑ دیں گے۔'

سجاد حسین کے مطابق اس کے بعد باہر سے دروازہ بند کر دیا گیا اور اہل خانہ نے صرف گاڑیوں کے جانے کی آواز سنیں اور جب وہ ملیر پولیس کے پاس گئے تو انھوں نے واقعے سے لاتعلقی کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ کارروائی انھوں نے نہیں کی۔

سجاد کا کہنا ہے کہ پولیس نے شکایت بھی درج کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اگر انھیں کچھ معلوم ہوا تو بتا دیں گے۔

بالاچ کے والد غلام بلوچ اپریل 2009 میں لاپتہ ہوئے تھے اور نو اپریل کو تربت کے علاقے مرگاپ سے ان کی تشدد شدہ لاش ملی تھی۔

21 سالہ بالاچ نے والد کی ہلاکت کے بعد حصولِ تعلیم کا سلسلہ ترک کر دیا تھا۔ ان کی والدہ کا ان کے بچپن میں ہی انتقال ہو گیا تھا وہ نانا کے پاس رہتے تھے لیکن کبھی کبھار اپنے گاؤں مند جاتے رہتے تھے۔

سجاد حسین کا کہنا ہے کہ ان کی کوئی سیاسی وابستگی نہیں تھی اور نہ ہی سیاسی سرگرمیوں میں شریک ہوتے تھے۔

بالاچ بلوچ کی جبری گمشدگی پر انسانی حقوق کمیشن کی رہنما عاصمہ جہانگیر کو بھی درخواست بھیجی گئی ہے۔

کراچی میں انسانی حقوق کمیشن کے دفتر کا کہنا ہے کہ انھیں گذشتہ چھ ماہ میں ڈھائی سو کے قریب افراد کی گمشدگیوں کے خلاف درخواستیں موصول ہوئی ہیں جن میں سیاسی کارکن اور سندھی قوم پرست کارکن بھی شامل ہیں۔

Image caption جئے سندھ متحدہ محاذ کا الزام ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہدری کے خلاف احتجاج پر محمد راہموں کو حراست میں لے کر لاپتہ کیا گیا ہے

سندھ سے قوم پرست جماعت جیے سندھ متحدہ محاذ کے 70 سالہ رہنما محمد راہموں بھی گذشتہ دو ماہ سے لاپتہ ہیں، ان کے اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ بدین کے علاقے کڑیو گھنور سے کئی گاڑیوں میں سوار اہلکاروں نے انھیں حراست میں لیا تھا، جس کے بعد سے وہ لاپتہ ہیں۔

انسانی حقوق کمیشن کے نائب صدر اسد بٹ کا کہنا ہے کہ انٹیلیجنس ادارے لاپتہ افراد کے خاندان سے رابطے میں رہتے ہیں اور انھیں بار بار کہتے ہیں کہ ان افراد کو تفتیش کے بعد رہا کر دیا جائے گا، اس طرح وہ شکایت کرنے بھی نہیں جا سکتے۔

انسانی حقوق کے رہنما اسد بٹ کا کہنا ہے کہ پولیس حکام واقعے سے باخبر ہوتے ہیں اس لیے وہ ایف ائی آر درج نہیں کرتے۔'

کئی بار پولیس نے انھیں فیکٹ فائنڈنگ کے دوران بتایا کہ فلاں شخص فلاں ادارے کے پاس ہے لیکن وہ ایف آئی آر درج نہیں کر سکتے۔ اگر عدالت سے رجوع کیا جائے تو پھر ایف آئی آر درج ہو سکتی ہے لیکن وہ بھی نامعلوم افراد کے خلاف۔'

خیال رہے کہ کراچی میں ہی پولیس نے ابتدا میں لاپتہ ہونے والے انسانی حقوق کے کارکن اور پبلشر واحد بلوچ کی جبری گمشدگی کی ایف آئی آر بھی درج کرنے سے انکار کیا تھا تاہم بعد میں ان کے خاندان نے انسانی حقوق کمیشن کی مدد سے عدالت سے رجوع کیا اور عدالت کے حکم پر ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔

سندھ ہائی کورٹ میں اس وقت 140 سے زائد افراد کی گمشدگی کے خلاف مقدمات زیر سماعت ہیں جن میں مذہبی جماعتوں کے علاوہ ایم کیو ایم کے کارکن بھی شامل ہیں۔

اسی بارے میں