شانگلہ میں جانوروں اور انسانوں کا علاج ’ایک ہی ڈسپنسری میں‘

Image caption ڈاکٹر تاجور خان نے بتایا کہ بعض اوقات لوگ مریض کو جانوروں کے ڈاکٹر کے کمرے میں لے جاتے ہیں

خیبر پختونخوا کے ضلع شانگلہ میں گذشتہ 12 سالوں سے جانورں اور انسانوں کا علاج ایک ہی ڈسپنسری میں ہو رہا ہے۔

شانگلہ کے محکمہ صحت کے مطابق 2005 کے تباہ کن زلزلے میں علاقے کی واحد سول ڈسپنسری تباہ ہونے کے باعث مجبوراً سول ڈسپنسری جانورں کے اس ہسپتال میں منتقل کرنا پڑ گئی تھی۔ اس کے بعد سے اب تک علاقے کے لوگ جانورں کے ساتھ ساتھ اپنا علاج کروانے بھی اسی ڈسپنسری میں آتے ہیں۔

شاہ پور میں قائم یہ سول ویٹرنری ڈسپنسری دو کمروں پر مشتمل ہے جہاں ایک کمرے میں انسانوں کا معالج جبکہ دوسرے کمرے میں جانوروں کا ڈاکٹر مال مویشیوں کا طبی معائنہ اور علاج کرتے ہیں۔

جانوروں کا علاج کرنے والے ڈاکٹر تاجور خان نے کہا کہ سول ڈسپنسری کی منتقلی سے انھیں بہت مشکلات کا سامنا ہے۔

’اس ویٹرنری سینٹر میں صرف دو کمرے ہیں، ایک کمرہ ڈاکٹر کا ہے جبکہ دوسرا سٹور روم تھا۔ لیکن سول ڈسپنسری کی منتقلی سے ہم ایک کمرے تک محدود ہوگئے ہیں اور دوسرے کمرے میں انسانوں کے ڈاکٹر بیٹھتے ہیں۔‘

ڈاکٹر تاجور خان کا کہنا ہے کہ تعلیمی لحاظ سے یہ علاقہ پسماندہ ہے اور بعض اوقات لوگ مریض کو میرے کمرے میں لے آتے ہیں جسے ہم انسانی معالج کے پاس بھیجتے ہیں۔

اس ویٹرنری سینٹر میں بیمار لوگوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹر سرن زیب نے بتایا کہ بڑا مسئلہ جگہ کی کمی کا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ دس کمروں پر مشتمل سول ڈسپنسری کی نئی عمارت عنقریب تیار ہو جائے گی۔

ضلع شانگلہ کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر شفیع الملک نے بتایا کہ سول ڈسپنسری کی عمارت کی دوبارہ تعمیر میں تاخیر کی بڑی وجہ فنڈز کی عدم دستیابی تھی۔ ’یہ ایرا کا پراجیکٹ تھا اور ایرا کے جتنے بھی پراجیکٹ شانگلہ میں ہیں وہ سب نامکمل ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ سول ڈسپنسری کو اب بنیادی صحت یونٹ کا درجہ دیا گیا ہے اور ڈاکٹر سرن زیب کو میڈیکل آفیسر تعینات کیا گیا ہے جو فی الحال ویٹرنری سینٹر میں بیٹھتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں