’عورت ہو تو عورت کی طرح کپڑے پہنو‘

ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف احتجاج تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف احتجاج

سوشلستان میں ان دنوں سکون ہے کیونکہ ایک تو پاکستان سپر لیگ کی وجہ سے عوام کی توجہ کا مرکز دبئی ہے اور دوسرا سپریم کورٹ میں پانامہ کیس کی سماعت میں تعطل کی وجہ سے لوگوں نے سُکھ کا سانس لیا ہے کہ انھیں ’روز کی سماعت کے بعد کے سیاسی ڈرامے‘ سے نجات ملی۔

وزارتِ اطلاعات کے ایک افسر نے تو خوشی سے پھولے نہ سماتے ہوئے فون پر بتایا کہ کیس کی سماعت اور مریم نواز کے لندن جانے کے نتیجے میں ایک عرصے بعد وزرا نے دفتر بیٹھنا شروع کیا ہے اور فائلوں کے انبار پر کارروائیاں شروع ہوئی ہیں۔ کیونکہ چند وزرا کا تو سارا وقت سپریم کورٹ، مریم نواز کے ساتھ گفت و شنید اور بعد میں ٹی وی چینلز پر گزرتا ہے تو کام کہاں سے ہوتا ہو گا۔ مگر پہلے بات کرتے ہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی۔

'عورت ہو تو عورت کی طرح کپڑے پہنو'

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption امریکی فوج میں کام کرنے والی وکٹوریہ کا ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے پیغام

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے کام کرنے والی خواتین میں سے جب یہ خبریں سامنے آئیں کہ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ خواتین زنانہ نوعیت کے کپڑے پہنیں جس کے بعد ان پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

اس کے جواب میں ٹرینڈ سامنے آیا کہ عورت کی طرح کپڑے پہنو جس میں سوشل میڈیا پر ٹرمپ اور خواتین کے لباس کے حوالے سے جاری بحث پر بات کی گئی۔

اس ساری ٹرینڈ میں عوام نے خواتین کی مختلف لباس میں کام کرتے ہوئے تصاویر شیئر کیں جن سے یہ پیغام دیا گیا کہ اس جدید دور میں خواتین ہر شعبے میں فعال ہیں اور ان کے کام کرنے کا یا عام زندگی کا لباس ان کی مرضی سے ہونا چاہیے نہ کہ کسی کی پسند یا نا پسند پر مبنی۔

سیاستدانوں، صحافیوں، سائنسدانوں، پولیس اہلکاروں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی تعلق رکھنے والے افراد نے ڈونلڈ ٹرمپ کو مخاطب کر کے ٹویٹس کیں۔

نصف متحد

انڈیا میں خواتین کے حوالے سے ایک انتہائی دلچسپ ٹرینڈ اس وقت صفِ اول پر ہے جس میں خواتین کی برابری کی بات کی جا رہی ہے جس کی عنوان بہت خواتین جو کہ نصف ہیں اور متحد ہیں۔

پریال نے لکھا ’تمام خواتین اور لڑکیوں کو ملازمتوں اور فیصلہ سازی میں برابری کے مواقع ملنے چاہیں۔‘

اس مہم کا آغاز بالی وڈ اداکارہ کالکی کوچلن کے ساتھ مل کر ایک ملبوسات کے برینڈ نے کیا۔ جس کے آغاز میں انہوں نے کہا کہ ’میری جلد سفید ہے اور میرا دل بھورا ہے۔‘

سوریش جین نے لکھا کہ تمام خواتین کو تعلیم تک رسائی حاصل ہونی چاہیے جو ان کی دسترس میں ہو جس میں تکنیکی تعلیم بھی ہے۔'

اس ہفتے کا تعارف

تصویر کے کاپی رائٹ Shahriyar Ahmad
Image caption ماہ نور کی تصویر جو شہریار احمد نے سری پائے میں کھینچی

اس ہفتے ہم ایک ایسی شخصیت کا تعارف پیش کر رہی ہیں جو اس دنیا میں نہیں ہیں مگر ان کی پروفائل ان کی جدوجہد کی یادگار کے طور پر زندہ ہے۔

ماہ نور شبیر نے کینسر کا مقابلہ کیا مگر کینسر دوبارہ لوٹ آیا اور اس بار وہ یہ جنگ ہار گئیں۔ ماہ نور لمز میں پڑھتی تھیں اور ان کی عمر صرف اکیس برس تھی۔ 18 جنوری کو انھوں نے اپنی پروفائل پر لکھا ’میں ایک لڑائی جیتی مگر کینسر کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔‘ ان کی یہ تحریر بہت پر اثر ہے اور اس موذی مرض سے لڑنے والوں کے لیے ایک حوصلے کا پیغام بھی۔ ان کے اہلِ خانہ نے اُن کی پروفائل کو یادگاری پروفائل کی حیثیت سے فیس بُک پر زندہ رکھا ہے جسے آپ اس لنک پر کلک کر کے وزٹ کر سکتے ہیں۔

اس ہفتے کی تصاویر

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پشاور میں مقامی پشتو گلوکارہ ملالہ گُل اپنا گانا ریکارڈ کروا رہی ہیں۔