’پاکستان میں مزید پانچ لاکھ بچے لاغر ہو سکتے ہیں‘

پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اکثر والدین اپنے بچوں کو مناسب خوراک فراہم نہ کر پانے کی وجہ اپنی مفلسی کو قرار دیتے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے بچوں کے ادارے یعنی یونیسیف نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں مزید پانچ لاکھ بچے مناسب خوراک کی کمی یا قلت کی وجہ سے لاغر ہو سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان کے 2011 کے سروے کے مطابق ملک میں 44 فیصد بچے سٹنٹڈ یا لاغر ہیں جو اپنی عمر کے اعتبار سے قدرے کم ذہنی و جسمانی نشو نما کا شکار ہیں۔

پاکستان میں مزید پانچ لاکھ بچوں سمیت دنیا بھر 4 کروڑ 80 لاکھ بچوں کے لاغر ہونے کی اِس صورتحال سے بچنے کے لیے یونیسیف نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ دنیا بھر میں نقل مکانی یا قحط سے ممکنہ طور پر متاثر ہونے والوں کے لیے تین ارب 34 کروڑ ڈالرز سے زیادہ عطیات جمع کریں تاکہ اُنھیں خوراک کی کمی کا سامنا کرنے سے بچایا جا سکے۔

راولپنڈی کے رہائشی آٹھ سالہ عاقب پیدائش کے وقت صحت مند تھے لیکن اب وہ اپنی عمر کے لحاظ سے کمزور اور لاغر ہیں۔ اِس کی بڑی وجہ مناسب خوراک کی کمی ہے۔ عاقب صبح سکول جاتے ہیں اور اُس کے بعد سبزی منڈی میں کام کرتے ہیں۔

ڈاکٹر نورین عاقب کے معائنے کے بعد کہتی ہیں کہ اُن میں خون کی کمی ہے جس کی وجہ سے عاقب کا وزن اور قد نہیں بڑھ رہا۔

لیکن عاقب کا کہنا ہے کہ اُن کے چار بھائی بہنوں کے حصے میں بھی یہی خوراک آتی ہے۔

اکثر والدین اپنے بچوں کو مناسب خوراک فراہم نہ کر پانے کی وجہ اپنی مفلسی کو قرار دیتے ہیں۔ عاقب کی والدہ کہتی ہیں ’جب تک یہ میرا دودھ پیتا تھا صحت مند تھا اُس کے بعد یہ عمر کے حساب سے نہیں بڑھ رہا۔ ہم روٹی کے ساتھ ٹماٹر اور پیاز وغیرہ کھاتے ہیں۔ جن کا ایک بندہ کمانے والا ہو اور کھانے والے چھ تو بس یہی کھا سکتے ہیں۔‘

یونیسیف کے مطابق پاکستان میں وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقے اور خیبر پختونخوا میں بچوں کے لاغر ہونے کی وجہ بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور صوبہ سندھ میں شدید قحط ہے۔

ایک عام تاثر ہے کہ جو بچے کمزور یا لاغر نظر آتے ہیں اُن کا کوئی علاج نہیں اور وہ ہمیشہ ایسے ہی رہیں گے۔ لیکن یہ تاثر غلط ہے۔

شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی اسلام آباد کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم نے بی بی سی کو بتایا کہ لاغر ہونے کی چند وجوہات ہوتی ہیں جنھیں اگر دور کر دیا جائے تو علاج ممکن ہے۔

اُنھوں نے بتایا ’پاکستان میں سٹنٹڈ بچوں میں سے 95 فیصد خوراک کی کمی کی وجہ سے لاغر ہوئے ہیں۔ اِس کا علاج یہ کہ وہ وجوہات دور کی جائیں جن کی وجہ سے یہ لاغر ہوئے ہیں یعنی پروٹینز پر مبنی خوراک فراہم کی جائے تو یہ صحت مند ہو سکتے ہیں۔‘

ماہرین سمجھتے ہیں غربت کے باوجود اگر والدین کو بچوں کی خوراک کے بارے میں آگاہی ہو تو یہ اپنے بچوں کو مناسب خوراک فراہم کر سکتے ہیں اور بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشو نما معمول کے مطابق ہو سکتی ہے۔

یونیسیف پاکستان کی سربراہ اینجیلا کیرنی نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان کو خوراک کی کمی اور لاغر ہوجانے والے بچوں کے معاملے میں ایمرجنسی کا سامنا ہے جنھیں مناسب نکاسی میسر نہیں۔

اُنھوں نے بتایا ’عالمی اپیل اور جنوبی ایشیا کی اپیل میں یونیسیف پاکستان پانچ لاکھ بچوں کے لیے عطیات کا مطالبہ کر رہا ہے جن کے بارے میں ہمیں یقین ہے کہ اُنھیں غذائیت میں کمی اور نکاسی کے نظام تک رسائی حاصل نہیں۔‘ اینجیلا کیرنی کے مطابق سندھ میں خاموش ایمرجنسی کا بھی سامنا ہے جہاں شدید قحط کی صورتحال ہے کیونکہ وہ صحرائی علاقہ ہے۔

اسی بارے میں