یمن میں قید سات پاکستانی ماہی گیروں کی دس برس بعد وطن واپسی

ماہی گیر تصویر کے کاپی رائٹ ICRC

یمن کے دارالحکومت صنعا کی جیل میں گذشتہ تقریباً دس برس سے قید سات پاکستانی ماہی گیر واپس کراچی پہنچ گئے ہیں۔

عالمی ریڈ کراس (آئی سی آر سی) کے ترجمان نجم عباسی نے بی بی سی کو بتایا کہ سات ماہی گیروں کو صنعا کے حکام سے بات چیت کے بعد رہا کروایا گیا اور اس کے بعد انھیں وہاں سے جبوتی اور پھر ایک خصوصی طیارہے کے ذریعے کراچی منتقل کیا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ ان میں سے چار ماہی گیروں کا تعلق بلوچستان سے اور تین کا تعلق کراچی سے ہے۔

نامہ نگار ذیشان ظفر سے بات کرتے ہوئے نجم عباسی نے بتایا کہ آئی سی آر سی کو گذشتہ برس اپریل میں تنظیم کے کارکنان کے صنعا کی سینٹرل جیل کے دورے کے دوران ان ماہی گیروں کے بارے میں معلوم ہوا تھا جبکہ پاکستانی دفتر خارجہ کے حکام پہلے ان کے بارے میں جانتے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ پاکستانی دفتر خارجہ کو اس بارے میں آگاہ کیا تو انھوں نے ماہی گیروں کی واپسی میں تعاون کرنے کا کہا تھا جس کے بعد یمن میں ان کے دفتر نے صنعا میں حکام سے مذاکرات کے بعد انھیں رہا کرایا۔

انھوں نے بتایا کہ سات افراد تقریباً دس برس پہلے دو مختلف واقعات میں یمن کی سمندری حدود میں داخل ہونے پر حراست میں لیے گئے اور بعد میں انھیں قید کی سزا سنا کر صنعا کی جیل میں منتقل کر دیا گیا تھا۔

نجم کے مطابق ماہی گیروں نے انھیں بتایا ہے کہ مزید تین پاکستانی ماہی گیر اس وقت یمن میں قید ہیں تاہم اس کی تصدیق کرنے کو کوشش کی جا رہی ہے۔

ماہی گیروں میں سے ایک عمر رسیدہ ہیں اور انھیں ویل چیئر پر واپس لایا گیا ہے۔

بقول ماہی گیروں کے ان کی کشیتیاں خراب ہو گئی تھیں جس کی وجہ سے انھیں یمن کے ساحل پر جانا پڑا اور وہاں حکام نے انھیں گرفتار کر لیا۔

خیال رہے کہ پاکستانی ماہی گیروں کی بین الاقوامی سمندری پانیوں کی خلاف ورزی کے واقعات اکثر اوقات سامنے آتے رہتے ہیں اور اس وقت بھی سینکڑوں کی تعداد میں ماہی گیر انڈیا کی جیلوں میں قید ہیں۔

ماہرین کے مطابق ماہی گیروں کی بین الاقوامی قوانین سے لاعلمی اور جدید آلات کی عدم دستیابی کی وجہ سے یہ اکثر سمندری حدود کی خلاف ورزیوں پر مشکل میں گھر جاتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں