’امریکہ کی دلچسپی اور مفاد انڈیا میں ہے‘

پاکستان کی نامور تاریخ نویس اور سکالر عائشہ جلال نے نریندر مودی حکومت سے نا امیدی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک ان کی حکومت موجود ہے دونوں میں کوئی بریک تھرو نہیں ہوسکتا۔ امریکہ کی دلچسپی اور مفاد انڈیا میں ہے پاکستان میں نہیں۔

پاکستان کی سیاسی، معاشی تاریخ اور تقسیم ہند کے موضوعات پر آٹھ سے زائد کتب کی مصنفہ عائشہ جلال نے ان خیالات کا اظہار بی بی سی اردو سے خصوصی گفتگو میں کیا۔

عائشہ جلال کا کہنا تھا کہ جو امید تھی کہ پاکستان اور انڈیا میں تجارت اور کاروباری تعلقات قائم ہوں گے وہ پوری نہیں ہوئی۔ دونوں ممالک میں کچھ لوگ ہیں جو یہ چاہتے ہیں کہ کوئی بریک تھرو نہ ہو۔ 'میں تو کافی نا امید ہوں جب تک مودی سرکار رہتی ہے پاکستان اور انڈیا میں کوئی بریک تھرو ہونا بہت مشکل ہے۔'

عائشہ جلال نے بتایا کہ انڈیا کے تین سابق وزرائے اعظم کا پاکستان کے ساتھ کوئی نہ کوئی رشتہ تھا۔ جیسے کہ اے کے گجرال، من موہن سنگھ یا اٹل بھاری واجپائی لیکن مودی کا پاکستان کے ساتھ کوئی رشتہ نہیں ہے، وہ پاکستان کو غیر اہم قوم تصور کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ نظر انداز کرکے آگے جا سکتے ہیں جو ان کی غلط فہمی ہے۔

جماعت الدعوۃ پر پابندی اور حافظ سعید کی گرفتاری پر تبصرہ کرتے ہوئے عائشہ جلال کا کہنا تھا کہ یہ صحیح ہے کہ حکومت نے ایکشن لیا ہے لیکن یہ کافی نہیں کیوں کہ امریکہ اور انڈیا چاہتے ہیں کہ ان پر مقدمہ کیا جائے تاہم ہمارے حکمران یہ بھی نہیں چاہتے کہ یہ تاثر سامنے آئے کہ یہ سب انڈیا کے دباؤ میں کیا گیا ہے۔

پاکستان اور امریکہ تعلقات کے ماضی اور مستقبل پر بات کرتے ہوئے عائشہ جلال کا کہنا تھا کہ دونوں کا رشتہ کافی بدل گیا ہے، سرد جنگ کے زمانے میں الگ رشتہ تھا، سرد جنگ سے پہلے ایک رہا لیکن اوباما کے دور میں کافی بدلا ہے۔

'پاکستان اب امریکیوں کی نہیں سنتا، اب وہ چین کے قریب ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کی پالیسی اوباما کی پالیسی کا تسلسل ہوگا یعنی انڈیا کے ساتھ سٹریجٹک پارٹنرشپ۔ وہ ادھر ہی دیکھیں گے کیونکہ وہ بزنس مین بھی ہیں۔ امریکہ کو پاکستان کے ساتھ اتنی دلچسپی نہیں ہے اس کا پاکستان کے ساتھ مفاد آپریشنل تھا سٹریجٹک تو کبھی نہیں رہا جب کہ انڈیا کے ساتھ وہ دوستی کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ان کی مارکیٹ بڑی ہے۔'

پاکستان کے قیام کی تاریخ نویسی پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تاریخ اور نظریات دو الگ چیزیں ہیں لیکن ان کو مکس کردیا گیا۔

'ہم نے ایک نظریے کو لے کر اسی میں رہنا چاہا لیکن جو تاریخ ہے وہ زیادہ کامپلیکس ہے۔ پاکستانیوں کے لیے یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ وہ دنیا میں کچھ بھی اکیلے نہیں کر رہے ہوتے ہمارا کوئی بھی تاریخی پہلو ایسا نہیں جو ہم نے اکیلے کیا ہو یہ سب مل کر ہوتا ہے۔ ہم اپنی سوچ میں رہتے رہتے تنگ نظر ہو گئے ہیں اسی وجہ سے ایک خود ساختہ اہمیت بنا لی ہے صرف یہ کہنا کہ ہم جیو سٹریجٹک اہم ہیں۔ یہ تبدیل کرنا ہو گا۔'

پاکستان میں جاری جلوسوں اور دھرنوں کی سیاست کے بارے میں عائشہ جلال کا کہنا تھا کہ صرف جلوس نکالنا جمہوریت کو تقویت دینے کے لیے کافی نہیں ہے، اگر یہ احتجاج پارلیمان میں موثر انداز میں کیا جائے تو وہ زیادہ موثر ہے۔

'پارلیمان کو مضبوط کرنا ضروری ہے۔ پارلیمان کو بائی پاس کرکے اتنا سب کچھ سڑک پر کرنا اور کہہ دینا کہ حکومت مستعفی ہو جائےجمہوریت کے لیے نیک شگون نہیں ہے۔ ہمیں سیکھنا پڑے گا کہ حکومتیں پانچ سال کے لیے منتخب ہوتی ہیں اداروں کی مدد سے انھیں درست کریں۔'

عائشہ جلال کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اس وقت کوئی وفاقی جماعت نہیں رہی۔ پاکستان پیپلز پارٹی جو کبھی وفاقی پارٹی سمجھی جاتی تھی۔

'پنجاب میں مسلم لیگ نواز ہے دوسری جگہ دوسری جماعتیں ہیں اس وقت اتحادی حکومت کا زمانہ لگتا ہے شاید آگے جاکر کبھی یہ تبدیل ہو جائے آئندہ انتخابات میں بھی کوئی بھی پارٹی نہیں ابھرے گی اتحادی حکومت ہی بنے گی۔'