آٹھ سوالوں کے جواب میں گیارہ سوال

سپریم کورٹ
Image caption پاناما درخواستوں میں دو ہفتوں کےوقفے کے بعد فریقین اپنی پہلی والی پوزیشن پر آگئےہیں

پاناما لیکس کی دستاویزات کے بارے میں دائر درخواستوں کی سماعت دو ہفتوں کے وقفے کے بعد بدھ کے روز دوبارہ شروع ہوئی۔

یہ سماعت سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ میں شامل جسٹس عظمت سعید کی بیماری کی وجہ سے التوا کا شکار تھی۔ سماعت کے آغاز میں درخواست گزاروں اور وزیر اعظم کے صاحبزادوں کے وکلا نے جسٹس عظمت سعید کی بینچ میں واپسی پر خوشی کا اظہار کیا۔

اس پانچ رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعد کھوسہ نے تمام اُن لوگوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے جسٹس عظمت سعید کی جلد صحت یابی کے لیے دعائیں کیں۔

وزیر اعظم کے صاحبزادوں حسن اور حسین نواز کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے عدالت میں ایک فیکٹ شیٹ جمع کروائی جس میں سپریم کورٹ کے اس پانچ رکنی بینچ کی طرف سے پوچھے گئے سوالوں کے مختصر جواب دیے گئے ہیں۔

سوالات کے جواب میں سوالات

جہاں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے وزیر اعظم کے صاحبزادوں کے وکیل سے آٹھ سوالوں کا جواب طلب کیا تھا وہیں اُن کی طرف سے سپریم کورٹ سے بھی گیارہ سوالات پوچھ لیے۔

جو سوالات عدالت سے پوچھے گئے ہیں اس میں یہ کہا گیا ہے کہ کیا معزز عدالت حقائق تک پہنچے بغیر کسی بھی نتیجے پر پہنچ سکتی ہے؟ اس کے علاوہ یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ کیا عدالت کسی بھی مبینہ جرم کی تحقیقات خود کر سکتی ہے جبکہ تحقیقات کے لیے ادارے پہلے سے ہی موجود ہیں؟

Image caption سماعت کے دوران عدالت کے بارہا اصرار کے باوجود وزیر اعظم کے صاحب زادوں کے وکیل کی طرف سے فلیٹوں کی ملکیت کے بارے میں ثبوت فراہم نہیں کیے گئے

یہ سوال بھی اُٹھایا گیا ہے کہ کیا عدالت کی طرف سے قائم کردہ کمیشن فوجداری مقدمات کی طرح کیس کا ٹرائل کر سکتا ہے؟

سماعت کے دوران عدالت کے بار ہا اصرار کے باوجود جب وزیر اعظم کے صاحب زادوں کے وکیل کی طرف سے فلیٹوں کی ملکیت کے بارے میں ثبوت فراہم نہیں کیے گئے تو اس بینچ میں موجود ججز کے چہروں پر بظاہر مایوسی دکھائی دیتی تھی۔

بینچ میں موجود جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیے کہ ’اس دلدل میں دھنستے چلے جا رہے ہیں اور کہیں سے سچ سامنے نہیں آ رہا۔‘ اُنھوں نے کہا کہ فریقین پورا سچ سامنے نہیں لے کر آ رہے۔

جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ ’کہیں سے تو سچ سامنے آئے۔‘

پاناما درخواستوں میں دو ہفتوں کےوقفے کے بعد فریقین اپنی پہلی والی پوزیشن پر آ گئےہیں۔

درخواست گزار بالخصوص پاکستان تحریک انصاف اور حکمراں جماعت کی ’بی‘ ٹیم ان درخواستوں کی سماعت میں وقفے کے دوران میڈیا کے سامنے آتی ہیں اور پھر اس کے بعد سینیئر قیادت سپریم کورٹ کے باہر صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہیں۔

آج دونوں جماعتوں کی ’بی‘ ٹیم کے ارکان کے درمیان دلچپسپ مکالمہ بھی ہوا۔

پانامالیکس سے متعلق پی ٹی آئی کے ترجمان فواد چوہدری میڈیا سے بات چیت کرنے کے بعد واپس کمرہ عدالت میں جا رہے تھے تو کیڈ کے وزیر مملکت ڈاکٹر فضل چوہدری نے طنزیہ کہا کہ چوہدری صاحب ایک گھنٹے سے آپ باتیں کر رہے ہیں اور مائیک ہاتھ میں آجائے تو چھوڑتے ہی نہیں ہیں جس پر فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ آپ کو موقع دیں رہے ہیں کہ میڈیا سے بات کر لیں اور جلدی چلیں جائیں کیونکہ بارش ہونے والی ہے۔

راولپنڈی سے سابق رکن قومی اسمبلی شکیل اعوان نے فواد چوہدری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’جھوٹ بولنا بند کریں گے تو بارش ہوگی‘ جس پر زرودار قہقہ بلند ہوا۔

اسی بارے میں