سیہون میں لعل شہباز قلندر کی درگاہ پر خودکش حملے میں 76 افراد ہلاک

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
’سیہون شریف میں لعل شہباز قلندر کے مزار میں دھماکہ‘

پاکستان کے صوبہ سندھ میں سیہون کے مقام پر صوفی بزرگ لعل شہباز قلندر کے مزار کے احاطے میں ہونے والے خود کش دھماکے میں 76 افراد ہلاک اور 250 زخمی ہوئے ہیں۔

ایدھی سروس کے سربراہ فیصل ایدھی کے مطابق ہلاک شدگان میں 43 مرد، نو خواتین اور 20 بچے شامل ہیں۔

’ایسی تباہی زندگی میں کبھی نہیں دیکھی‘

لعل شہباز قلندر کے مزار پر خودکش دھماکہ: لائیو

پاکستان میں مزاروں پر حملوں کی تاریخ

اس حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کی جانب سے قبول کی گئی ہے۔

یہ دھماکہ جمعرات کی شام درگاہ کے اندرونی حصے میں اس وقت ہوا جب وہاں زائرین کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔

اے ایس پی سیہون کے مطابق حملہ آور سنہری دروازے سے مزار کے اندر داخل ہوا اور دھمال کے موقعے پر خود کو اڑا لیا۔

دھماکے کے فوراً بعد امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں اور صوبے کے دیگر شہروں سے ایمبولینسز کو سیہون روانہ کر دیا گیا ہے۔

سیہون کے ہسپتال میں موجود دادو کے ایس ایس پی شبیر سیٹھار نے بی بی سی اردو کے ریاض سہیل کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں متعدد پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

سیہون ہسپتال کے میڈیکل سپرٹینڈنٹ ڈاکٹرمعین الدین صدیقی نے بی بی سی کے نامہ نگار حسن کاظمی کو بتایا کہ ہسپتال میں 250 زخمیوں کو لایا گیا ہے جن میں 40 سے زیادہ کی حالت تشویش ناک ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شدید زخمیوں کو صوبے کے دیگر شہروں میں منتقل کرنے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں

انھوں نے کہا کہ 100 زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کیا جا چکا ہے جبکہ شدید زخمیوں کو صوبے کے دیگر شہروں میں منتقل کرنے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

حیدرآباد سے صحافی علی حسن کو سیہون کے ایس ایچ او نے بتایا کہ مرنے والوں میں کم از کم دو پولیس اہلکار اور درگاہ کا ایک خادم بھی شامل ہے۔ انھوں نے بتایا کہ عموماً مزار کی سکیورٹی کے لیے 25 پولیس اہلکار دن میں اور 25 شام میں تعینات کیے جاتے ہیں۔

سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ان کی توجہ زخمیوں کے لیے فوری طبی امداد ہے۔ مقامی ٹیلی وژن سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے پاس ہیلی کاپٹر نہیں ہیں اس لیے فوج سے ہیلی کاپٹرز کی فراہمی کے لیے بات کی ہے۔‘

دوسری جانب آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے سیہون بم دھماکے کے زخیموں کی امداد کے لیے ہدایات کی ہیں۔ فوج اور رینجرز کے اہلکار طبی امداد کے لیے جائے حادثہ پر روانہ ہو گئے ہیں جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ حیدرآباد سی ایم ایچ زخمیوں کو علاج کی سہولت دینے کے لیے تیار ہے۔

ایدھی سروس کے سعد ایدھی کے مطابق 60 سے زیادہ ایمبولیسنز حیدرآباد اور نوابشاہ سے جائے حادثہ کی جانب روانہ کی گئی ہیں جبکہ 30 وہاں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

انھوں نے کہا کہ کراچی اور سکھر سے مزید ایمبولینسز بھجوائی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سب سے زیادہ زخمی سیہون شریف کے سول ہسپتال بھجوائے گئے ہیں۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
مزار کے اند کانچ کے ٹکڑے، انسانی خون اور لاشیں

دھماکے کے ایک عینی شاہد غلام قادر نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ درگاہ کے سنہری گیٹ پر اپنے چار دوستوں کے ساتھ بیٹھے تھے کہ اس دوران زوردار دھماکہ ہوا اور وہ سب باہر کو بھاگے۔

انھوں نے بتایا کہ تھوڑی دور جا کر رکے تو درگاہ کے اندر سے زخمی حالت میں لوگ باہر نکل رہے تھے اور ساتھ میں چیخ و پکار کر رہے تھے کہ اندر بہت تباہی ہوئی ہے۔

ترجمان سندھ پولیس کے مطابق لعل شہباز قلندر مزار کے احاطے میں دھماکے کے حوالے سے میڈیا رپورٹس پر آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے سخت نوٹس لیتے ہوئے حیدرآباد رینج اور دادو ڈسٹرکٹ میں ایمرجینسی ڈیکلیئر کردی۔

انھوں نے مذکورہ واقعے پر ڈی آئی جی حیدرآباد سے جامع انکوائری رپورٹ طلب کر لی ہے۔

اسی بارے میں