لاہور: ’پاکستانی ہینڈلر گرفتار، خودکش بمبار افغان تھا‘

لاہور دھماکہ

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف نے کہا ہے کہ لاہور میں 13 فروری کو ہونے والی دہشت گردی کی کارروائی میں ملوث دہشت گرد گرفتار ہو گئے ہیں اور دہشت گردوں کا مرکز افغانستان میں ہے۔

لاہور میں جمعے کی شام پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میاں شہباز شریف نے بتایا کہ اب تک ہونے والی تفتیش کے مطابق دہشت گرد گروہ کا مرکز افغانستان میں ہے۔

’دہشت گردوں کا یہ نیٹ ورک افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرتا ہے۔ لاہور میں ہونے والی دہشت گردی کا ذمہ دار بھی یہی نیٹ ورک ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’ہلاک ہونے والے خودکش بمبار کا تعلق افغانستان سے ہے جب کہ دوسرے حملہ آور کا تعلق پاکستان کے علاقے باجوڑ ایجنسی سے تھا‘۔

،تصویر کا کیپشن

شہباز شریف نے کامیابی پر پولیس اور متعلقہ اداروں کو مبارکباد دی

انھوں نے پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کا نام لیے بغیر لاہور دھماکے کے بعد ان کی جانب سے دیے جانے والے بیان پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ’دہشتگردی پورے پاکستان اور اس کے عوام کا مشترکہ مسئلہ ہے۔‘

انھوں نے سیاسی رہنماؤں سے اپیل کی کہ ان سانحات کو ہمیں سیاسی مسئلہ سمجھنا چاہیے۔

پریس کانفرنس کے بعد میڈیا کے اراکین کو حملے سے پہلے کی فوٹیجز بھی دکھائیں گئیں۔

بتایا کہ انوارالحق نامی دہشت گرد جو کہ اس حملے کا مبینہ طور پر سہولت کار تھا کو گرفتار کیا گیا ہے جس کے بعد اس سے ہونے والی گفتگو کو بھی میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا۔

خیال رہے کہ پیر کی شب چیئرنگ کراس کے مقام پر ہونے والے خودکش دھماکے میں ڈی آئی جی ٹریفک احمد مبین اور ایس ایس پی آپریشنز زاہد گوندل سمیت 13 افراد ہلاک ہوئے تھے۔