تحریک طالبان ٹانک کا امیر کراچی میں ہلاک

کراچی

کراچی پولیس نے ایک مبینہ پولیس مقابلے میں تحریک طالبان کے ٹانک کے امیر کو آٹھ شدت پسندوں سمیت ہلاک کرنے کے علاوہ اسلحہ اور بارود کے ساتھ لیپ ٹاپ بم برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کا دعویٰ ہے کہ انھیں اطلاع ملی تھی کہ کالعدم تحریک طالبان ٹانک کا امیر گل زمان اپنے ساتھیوں کے ہمراہ کراچی میں دہشت گردی کی کارروائی کے لیے موجود ہے۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق راؤ انوار نے بتایا 'پولیس نے جب علاقے کا محاصرہ کیا تو ملزمان نے فائرنگ شروع کر دی۔ جوابی فائرنگ میں آٹھ شدت پسند مارے گئے جن میں کالعدم تحریک طالبان ٹانک کا امیر گل زمان بھی شامل ہے۔'

پولیس کا کہنا ہے کہ شدت افغانستان اور بلوچستان کی تحصیل وڈھ سے آ رہے ہیں اور ان کا تعلق جماعت الاحرار، تحریک طالبان اور جنداللہ سے ہے۔

پولیس نے ملزمان سے چھ پستول، کلاشنکوف اور رپیٹر کے علاوہ ایک لیپ ٹاپ بیگ بھی برآمد کیا ہے جسے 'لیپ ٹاپ بم' قرار دیا گیا ہے۔

بم ڈسپوزل سکواڈ کے انسپیکٹر مقصود آرائیں نے بی بی سی کو بتایا 'یہ بم دراصل لیپ ٹاپ بیگ میں بنایا گیا تھا، بیگ کی نچلی تہہ میں دھماکہ خیز مواد بھرا ہوا تھا جس کے ساتھ سٹیل کی کیلیں اور نٹ بولٹ شامل تھے۔ دوسری تہہ میں بال بیئرنگ لگائے ہوئے تھے جب کہ جیبوں میں دو دیسی ساختہ بیکٹریاں لگائی ہوئی تھیں۔ بیگ سمیت بارود کا وزن 190 گرام ہے جب کہ سٹیل کی کیلوں اور نٹ بولٹ کا وزن ایک کلو کے برابر ہے۔'

واضح رہے کہ کراچی میں اس سے پہلے موٹرسائیکل، کار، پریشر ککر اور ٹینس بال میں بارودی مواد ڈال کر دھماکے کیے جاتے رہے ہیں۔