آپریشن اور رینجرز کی تعیناتی: ’فیصلہ وزیراعظم ہاؤس میں ہوا‘

نواز شریف
،تصویر کا کیپشن

آپرپیشن رد الفساد کا اعلان ایک ایسے وقت میں ہوا جب وزیراعظم نواز شریف ترکی کے دورے پر ہیں

پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ سکیورٹی آپریشن رد الفساد اور پنجاب میں رینجرز کی تعیناتی کا فیصلہ وزیراعظم ہاؤس میں چند دن پہلے ہوا تھا۔

خیال رہے کہ پاکستانی فوج نے گذشتہ روز ملک بھر میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن رد الفساد شروع کرنے کا اعلان کیا جبکہ ملکی وفاقی کابینہ نے پنجاب میں رینجرز کو پولیس کی معاونت کے لیے اختیارات دینے کا اعلان کیا۔

ترکی کے دورے کے دوران میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ کچھ ایسی قوتیں ہیں جو غیر ملکی بھی ہوسکتی ہیں جو پاکستان کو ترقی کرتا ہوا نہیں دیکھ سکتی ان میں دہشت گرد بھی شامل ہیں انتہاپسند بھی شامل ہیں۔

انھوں نے کہا کہ حکومت نے بہت سوچ سمجھ کر ڈھائی سال پہلے فیصلہ کیا تھا کہ انتھاپسندی اور دہشت گردی کے ساتھ ایک جنگ لڑنی ہے۔

آپریشن رد الفساد کے حوالے سے کیے جانے والے سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ 'ہم نے وزیراعظم ہاؤس میں بیٹھ کر ہی اس کا فیصلہ کیا ہے، چند دن پہلے کیا ہے، اور ہم نے کہا کہ جہاں جہاں بھی ملک کے اندر اس طرح کے عناصر ہیں ان کو بالکل ختم کیا جانا چاہیے، ان کے خلاف آپریشن ہونا چاہیے۔'

ان کا کہنا تھا کہ رینجرز کو پنجاب میں بلانے کا فیصلہ وزیراعظم ہاؤس میں ہوا اور اس کے بعد پھر پنجاب حکومت نے اس حوالے سے میٹنگ کی اور فیصلے کی توثیق کی۔

،تصویر کا کیپشن

وزیراعظم نے کہا کہ ای سی او اور پی سی ایل اپنے مقررہ وقت پر ہوں گے

انھوں نے کہا کہ پاکستان کی ترقی دشمن عناصر کو ہضم نہیں ہوتی اس لیے وہ کسی نہ کسی طریقے سے اسے ثبوتاژ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

’آپ جانتے ہیں کہ 2013 میں جب ہم نے حکومت سنبھالی تھی تو حالات کیا تھے۔ ہم کامیابی سے ساتھ لڑے جس کے اچھے نتائج ملے، لیکن پھر ایک لہر آئی ہوئی ہے میرا خیال ہے کہ جن لوگوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے وہ اپنا جوہر پھر دکھا رہے ہیں لیکن مجھے بہت یقین ہے کہ جس عزم کے ساتھ ہم آگے بڑھ رہے ہیں اس سے بہت جلد ہم اس لہر پر بھی قابو پا لیں گے، عوام حوصلے میں رہیں کہ ہم یہ جنگ جیتیں گے۔'

ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ ای سی او اور پی سی ایل اپنے مقررہ وقت پر ہوں گے۔

ہمسایہ ملک افغانستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان میں استحکام ہو اور وہاں کی زمین پاکستان کے حلاف استعمال نہ ہو لیکن بدقسمتی سے ایسا ہورہا ہے اور ہم نے اس کی شکایت افغان حکومت کو پہنچائی ہے اور مجھے یقین ہے کہ وہ اس کا ضرور حساب لیں گے اور اسے روکیں گے۔‘

انڈیا کے ساتھ تعلقات کے بارے پوچھے گئے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ الیکشن سے پہلے بھی ان کی خواہش تھی کہ ہندوستان کے ساتھ اچھے ہمسائے کی طرح رہیں اور تجارتی تعلقات ہوں۔