راحیل شریف نے اب تک ’این او سی‘ نہیں مانگا: خواجہ آصف

سعودی فورسز

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

سعودی عرب کی قیادت میں بننے والے اتحاد میں 41 اسلامی ملکوں کے دستے شامل ہوں گے

پاکستان کے وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے منگل کو سینیٹ کو بتایا کہ فوج کے سابق سربراہ جنرل راحیل شریف کی طرف سے سعودی عرب کی قیادت میں بننے والے عسکری اتحاد کی کمان سنبھلنے کے لیے انھوں نے حکومت سے کوئی اجازت طلب نہیں کی ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ جنرل راحیل شریف نے حکومت سے این او سی نہیں مانگا اور جب تک ان کی طرف سے اجازت طلب نہیں کی جاتی انھیں اجازت دینے کا سوال نہیں اٹھتا۔

جنرل راحیل شریف کے اکتالیس اسلامی ملکوں پر مشتمل فوج کی قیادت سنبھالنے کے معاملے پر بات کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان کسی بھی مُسلم ملک کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کا حصہ نہیں بنےگا۔

خواجہ محمد آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان آج سے پہلے بھی کبھی کسی اسلامی مُلک کے خلاف جارحیت کا حصہ نہیں بنا۔ سعودی قیادت میں بننے والے اتحاد کے بارے میں پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بنائے جانے والے مُسلم مُمالک کے اتحاد کا حصہ بننے جا رہا ہے۔

خواجہ محمد آصف کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی سربراہی میں بنائی جانے والی کثیر القومی اسلامی فوجی اتحاد میں پاکستان کی شمولیت کن شرائط کار کے مطابق ہوں گی اس کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔

'اتحادی افواج کے حوالے سے مئی میں سعودی عرب میں تمام ممبر مُمالک کے وزرائے دفاع شرائط کار طے کریں گے جنھیں حکومت پارلیمان کے سامنے رکھے گی جن پر بحث کے بعد ہی فیصلہ کیا جائے گا۔'

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

خواجہ آصف نے پاکستان کی پارلیمان کو اعتماد میں لینے کا عندیہ دیا

شرائط کار کے حوالے سے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ جب بھی اس معاملے میں یا سابق آرمی چیف کو اسلامی اتحاد کی سربراہی کے لیے اجازت نامہ جاری کرنے کے حوالے سے پیش رفت ہوگی تو سینیٹ کو اس حوالے سے آگاہ کیا جائے گا اور ایسا نہیں ہوگا کہ بنا بتائے معاملات تہہ کیے جائیں۔

وزیر دفاع کے سینیٹ میں اس بیان کے بعد چیئرمین سینٹ رضا ربانی کا کہنا تھا کہ 'آپ نے یہ کہہ دیا ہے کہ مئی میں جو بھی شرائط کار طے کی جائیں گی اُنھیں ایوان کے سامنے رکھا جائے گا مگر پھر بھی میں یہ واضح طور پر ریکارڈ میں یہ لانا چاہتا ہوں اور کہنا چاہتا ہوں کہ حکومت کی جانب سے اُن پر رضا مندی سے قبل حتمی قرار دیے جانے والی شرائط کار کو ایوان بالا اور ایوان زیرین میں بحث کے لیے ضرور پیش کیا جائے۔'

سینیٹر فرحت اللہ بابر کی جانب سے اس معاملے پر توجہ مبذول کرواتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اس اتحاد میں شامل تمام مُلک سُنی فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں اور اگر آنے والے وقت میں اہل تشیع کی جانب سے کوئی اسلامی اتحاد بنایا جاتا ہے تو کیا پاکستان کی جانب سے کوئی جنرل اُس اتحاد کی سربراہی کریں گے؟ جس پر وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ پاکستان کسی بھی فرقے کے خلاف یا کسی بھی اسلامی مُلک کے خلاف جنگ کا حصہ نہیں بننے جا رہا بلکہ پاکستان دہشت گردی کی خلاف بننے والے ایک اسلامی مُمالک کے اتحاد کا حصہ بن رہا ہے۔

اُن کا اسی حوالے سے مزید یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان کے ایران کی ساتھ بہت درینہ اور دوستانہ تعلقات ہیں اور ایران بھی پاکستان کے لئے خیر سگالی کے جذبات رکھتے ہیں۔

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کا کہنا تھا کہ جہاں تک بات ہے سعودی عرب کی سیکورٹی کی تو اس معاملے میں پاکستان کی مسلح افواج ایک لمبے عرصے سے سعودی عرب میں موجود ہیں اور سیکورٹی کے معاملات میں مدد فراہم کر رہی ہیں۔