پاکستانی فوج کے کرنل (ر)حبیب ظاہر کی گمشدگی کا معمہ

کرنل (ر)حبیب ظاہر

،تصویر کا ذریعہHABIB ZAHIR (FACEBOOK)

پاکستانی فوج کے سابق فوجی افسر کرنل (ر)حبیب ظاہر کی گمشدگی کا معمہ تاحال حل نہیں ہو سکا۔

اب تک کی معلومات کے مطابق کرنل (ر)حبیب ظاہر چھ اپریل کو نیپال میں لمبینی پہنچے اور فیملی کو مطلع بھی کیا تاہم اس کے بعد ان کا اہلخانہ سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔

پاکستانی فوج کے سابق افسر لیفٹننٹ کرنل ریٹائرڈ محمد حبیب ظاہر نیپال کے علاقے لمبینی سے چھ اپریل کو ’لاپتہ‘ ہوئے۔

آٹھ اپریل کو پاکستان کے دفتر خارجہ نے پہلی بار حبیب ظاہر کی نیپال میں لاپتہ ہونے کی تصدیق کی جبکہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے نیپالی حکومت کے ساتھ رابطہ کیا گیا ہے۔

کرنل (ر)حبیب ظاہر فوج سے 2014 میں ریٹائرڈ ہونے کے بعد سے فیصل آباد میں ملازمت کر رہے تھے۔ چند ماہ قبل انھوں نے اپنا سی وی لنکڈان اور اقوام متحدہ کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیا تھا۔

پاکستانی اداروں کی جانب سے حبیب ظاہر کی ای میلز پر کی گئی ابتدائی تحقیقات کے مطابق انھیں مارچ میں 'سٹارٹ سولوشنز' نامی ویب سائٹ سے ایک ریکروٹر مارک تھامسن نے ای میل کے ذریعے ساڑھے تین ہزار سے ساڑھے آٹھ ہزار ڈالر کی تنخواہ پر نائب صدر/ زونل ڈائریکٹر (سکیورٹی) کی پیشکش کی گئی۔

انھیں ملازمت کنفرم کرنے کے لیے کھٹمنڈو آنے کو کہا گیا اور عمان ایئرلائن کی بزنس کلاس کی ٹکٹ بھی بھجوائی گئی۔

کرنل (ر)حبیب ظاہر چھ اپریل کو نیپال میں لمبینی پہنچے اور فیملی کو مطلع بھی کیا تاہم اس کے بعد ان کا اہلخانہ سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔

اہلخانہ کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے پیغام میں کہا گیا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق رابطہ کیے جانے والے فون نمبرز اور یہ ویب سائٹ انڈیا سے ہوسٹ کی جا رہی تھی جو اب بند ہے۔

جمعرات تک حبیب ظاہر کی گشمدگی کے حوالے سے کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ تاہم ایک دن پہلے بدھ کو نیپالی پولیس کے ایس ایس پی نے ملنے والی ایک ویڈیو فوٹیج کے حوالے سے بتایا کہ بھیروا ہوائی اڈے پر ایک نامعلوم شخص کرنل حبیب کا استقبال کرتے دیکھا گیا اور وہاں کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد دونوں اکٹھے ایئر پورٹ سے باہر چلے گئے لیکن شہر میں ان کے قیام کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں۔

حکام کے مطابق وہ اس نامعلوم شخص کو شناخت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس نے حبیب ظاہر کا استقبال کیا۔

،تصویر کا ذریعہHABIB ZAHIR (FACEBOOK)

،تصویر کا کیپشن

لمبینی کے قریب بھیروا ہوائی اڈے پر ایک نامعلوم شخص نے کرنل حبیب کا استقبال کیا

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ کرنل ریٹائرڈ حبیب کے گشمدگی کے معاملے کے دوران ہی 10 اپریل کو پاکستانی فوج کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق ایک برس قبل بلوچستان سے گرفتاری کیے جانے والے انڈین بحریہ کے افسر اور 'را کے جاسوس کلبھوشن یادو‘ کو فوجی عدالت نے سزائے موت دینے کا حکم دیا۔

اس فیصلے پر انڈیا کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے جبکہ مقامی ذرائع ابلاغ میں قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ کرنل ریٹایڑڈ حبیب کو انڈیا کی خفیہ ایجنسی را نے لاپتہ کیا ہے۔ تاہم اس حوالے سے دونوں جانب سے سرکاری سطح کوئی وضاحت یہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

دوسری جانب سے اگر لاپتہ ہونے والے کرنل ریٹائرڈ حبیب کے فیس بک پر موجود صفحے کو دیکھا جائے تو وہ اس وقت بھی ایکٹیو ہے اور یہاں ان کی یکم فروری کو آخری پوسٹ کو دیکھا جا سکتا ہے جو کالم نگار ایاز میر کا پاناما لیکس اور قطری شہزادے سے متعلق خط کے بارے لکھا گیا کالم ہے۔