’کلبھوشن پاکستان میں دہشت گردی کا مرتکب پایا گیا‘

سرتاج عزیز

،تصویر کا ذریعہAFP

پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ انڈیا سے کلبھوشن یادو کے خلاف تحقیقات کے لیے رابطہ کیا گیا تھا لیکن اس کا کوئی جواب نہیں ملا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے کلبھوشن یادو کے خلاف مقدمے کی تمام تفصیلات فراہم کیں اور کہا 'ہم انڈیا کے بے بنیاد الزامات کی مزمت کرتے ہیں۔ کلبھوشن یادو کو قانونی مدد فراہم کرنے کے لیے پاکستان کی درخواست پر انڈیا نے جواب نہیں دیا اور عدم تعاون کا مظاہرہ کیا جس کی وجہ سے انھیں قونصلر سروسز فراہم نہیں کی جا سکیں۔'

سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ کلبھوشن بھارتی نیوی کا حاضر سروس افسر ہے، وہ پاکستان میں دہشت گردی کا مرتکب پایا گیا ہے۔

نامہ نگار ہارون رشید کے مطابق سرتاج عزیز کے مطابق کلبھوشن یادو کا قانون کے مطابق کورٹ مارشل کیا گیا، کورٹ مارشل میں کلبھوشن کا اعترافی بیان پیش کیا گیا، ان کا اعترافی بیان ضابطہ فوجداری کے تحت ریکارڈ کیا گیا جب کہ کلبھوشن کو صفائی کے لیے قانونی مشیر کی سہولت فراہم کی گئی۔

امور خارجہ کے مشیر کا مزید کہنا تھا کہ کلبھوشن کو ایک قانونی مشیر فراہم کیا گیا اور تمام گواہوں کے بیانات بھی ملزم کے سامنے ہی ریکارڈ ہوئے جب کہ انھیں بھی سوالات کرنے کی اجازت دی گئی۔

سرتاج عزیز نے کہا کہ ہم انڈیا سے یہ سوال پوچھیں گے کہ کلبھوشن ایک مسلمان کے نام سے پاسپورٹ بنا کر جعلی شناخت کے ساتھ کیا کر رہا تھا، اگر وہ بے گناہ تھا تو وہ دو پاسپورٹ لے کر کیوں گھوم رہا تھا، جس میں ایک میں اس کا ہندو نام تھا جبکہ دوسرا مسلمان کے نام سے تھا۔

سرتاج عزیز نے کہا کہ انڈیا کے پاس کوئی وضاحت موجود نہیں کہ ان کا ایک حاضر سروس کمانڈر بلوچستان میں کیوں موجود تھا۔

نئی دہلی کی کلبھوشن تک قونصلر کی رسائی مسترد کرنے کے ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ انڈیا گذشتہ کئی سالوں سے متعدد پاکستانیوں تک اسلام آباد کی قونصلر رسائی کی درخواست مسترد کرتا رہا ہے۔

انھوں نے امید ظاہر کی کہ انڈیا اب ذمہ داری کا مظاہرہ کرے گا اور غیر ذمہ دارانہ بیانات کا سلسلہ ختم ہو گا۔