چیف جسٹس نے طالبعلم مشال خان کے قتل کا نوٹس لے لیا

میاں ثاقب نثار

،تصویر کا ذریعہSUPREME COURT OF PAKISTAN

پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں طالبعلم مشال خان کو مبینہ توہین مذہب کے الزام پر تشدد کر کے قتل کرنے کا نوٹس لے لیا ہے۔

سنیچر کو چیف جسٹس ثاقب نثار نے اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی خیبرپختونخوا سے آئندہ 36 گھنٹوں میں رپورٹ طلب کر لی ہے۔

واضح رہے کہ عبدالولی خان یونیورسٹی میں دو روز قبل مشتعل ہجوم نے شعبہ صحافت کے طالبعلم مشال خان کو توہین مذہب کے الزام میں قتل کر دیا تھا۔ تشدد کے اس واقعے میں دو طالبعلم زخمی ہوئے تھے جنھیں ہسپتال پہنچا دیا گیا تھا۔

چیف جسٹس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس حوالے سے میڈیا پر شائع ہونے والی خبروں اور معلومات پر یہ نوٹس لیا گیا ہے۔

اس سے قبل پولیس نے سنیچر کو ہی ان آٹھ افراد کو عدالت میں پیش کیا جنہیں گذشتہ روز گرفتار کیا گیا تھا۔ عدالت نے ملزمان کو چار روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق اس واقعہ کی تفتیش جاری ہے اور اس حوالے سے تفتیشی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ مردان پولیس کے مطابق سی سی ٹی وی کیمروں اور ویڈیوز کے ذریعے سپیشل آپریشن اور ٹیکنیکل ٹیموں نے مزید ملزمان کی شناخت کی ہے جن میں سے پانچ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشن

عبدالولی خان یونیورسٹی میں پولیس طالبعلم کے قتل کے بعد تلاشی لے رہی ہے

پولیس نے بتایا ہے کہ مشال خان کی پوسٹ مارٹم رپورٹ موصول ہو گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ گولی لگنے سے موت واقع ہوئی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ کے مطابق مردان کے ضلعی ناظم حمایت اللہ مایار نے کہا ہے کہ پولیس بے گناہ افراد کو حراست میں نہ لے۔

ان کا کہنا تھا کہ امن و امان کی ذمہ داری اب ضلعی انتظامیہ یا ناظمین کے پاس نہیں بلکہ ضلعی پولیس افسر کے پاس ہے۔ انھوں نے کہا کہ اب کوششیں جاری ہیں کہ یونیورسٹی بھی جلد از جلد دوبارہ کھولی جائے تاکہ تدریسی عمل شروع کیا جا سکے۔

واضح رہے کہ عبدالولی خان یونیورسٹی میں دو روز قبل مشتعل ہجوم نے شعبہ صحافت کے طالبعلم مشال خان کو توہین مذہب کے الزام میں قتل کر دیا تھا۔ تشدد کے اس واقعے میں دو طالبعلم زخمی ہوئے تھے جنھیں ہسپتال پہنچا دیا گیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد یونیورسٹی غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دی گئی تھی۔ یونیورسٹی انتطامیہ کے مطابق انھیں ایسا کوئی علم نہیں تھا کہ یونیورسٹی میں اس بارے میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔