گوادر میں سکیورٹی فورسز پر حملہ، ایک اہلکار ہلاک اور ایک زخمی

گوادر
،تصویر کا کیپشن

گذشتہ 30 گھنٹوں کے دوران مکران ڈویژن کے کسی علاقے میں یہ سیکورٹی فورسز پر دوسرا حملہ ہے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ساحلی ضلعے گوادر میں سیکورٹی فورسز پر حملے میں ایک اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا ہے۔

نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق کوئٹہ میں سرکاری ذرائع نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حملہ ضلع کی تحصیل پسنی کے علاقے کلگ میں کیا گیا۔

ان ذرائع نے بتایا کہ ضلع میں مردم شماری کی ٹیموں کے تحفظ کے لیے سیکورٹی فورسز کا ایک قافلہ اس علاقے سے گزررہا تھا۔

اس علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے قافلے پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں سیکورٹی فورسز کا ایک اہلکار ہلاک اورایک زخمی ہوا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی بزدلانہ کاروائی کے ذریعے حکومت اور سیکورٹی فورسزکے حوصلے پست نہیں کیے جا سکتے۔

اپنے ایک بیان میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ دشمنوں کو ان کے بلوں سے نکال کر کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

گوادر بلوچستان کا ایران سے متصل سرحدی ضلع ہے اور گذشتہ 30 گھنٹوں کے دوران مکران ڈویژن کے کسی علاقے میں یہ سیکورٹی فورسز پر دوسرا حملہ ہے۔

گذشتہ روز ضلع کیچ میں مند کے علاقے گواک میں سیکورٹی فورسز پر بم حملے میں چار اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوئے تھے۔

گوادر اور کیچ کی طرح مکران ڈویژن کے تیسرے ضلع پنجگور میں بھی بد امنی کے واقعات کمی و بیشی کے ساتھ پیش آرہے ہیں تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ پہلے کے مقابلے میں مکران ڈویژن میں حالات میں بہتری آئی ہے۔