نواز، جندل ملاقات: ’دوستیاں سرحدوں کی پابند نہیں ہوتیں‘

جندل

،تصویر کا ذریعہTwitter

پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف سے انڈیئن صنعتکار سجن جندل کی ملاقات پر گرما گرم بحث جاری ہے اور اس ملاقات پر ہونے والی قیاس آرائیوں کے بعد نواز شریف کی بیٹی مریم نواز کو ٹوئٹر پر آ کر اس سلسلے میں وضاحت بھی دینی پڑی ہے۔

مریم نواز شریف نے ٹوئٹر پر لکھا، 'مسٹر جندل وزیر اعظم نواز شریف کے پرانے دوست ہیں۔ اس ملاقات میں کچھ بھی خفیہ نہیں تھا، اس لیے اسے کسی خاص تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہیے، شکریہ۔'

تاہم ان کے اس وضاحتی بیان سے معاملہ ٹھنڈا نہیں ہوا بلکہ سوشل میڈیا پر نواز شریف اور مریم نواز شریف کو مزید تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

پاکستانی میڈیا میں نواز سجن ملاقات کے ساتھ ساتھ سجن جندل کے مبینہ طور پر بغیر ویزا مری جانے کا معاملہ بھی زیرِ بحث ہے۔ سوشل میڈیا پر جندل کے ویزے کا جو عکس شیئر کیا جا رہا ہے اس میں انھیں صرف لاہور اور اسلام آباد کے سفر کی اجازت دی گئی تھی لیکن وہ اسلام آباد کے قریب واقع تفریحی مقام مری بھی گئے جہاں وزیراعظم نواز شریف سے ان کی ملاقات ہوئی۔

ایک طرف ملک میں حزب اختلاف کی جانب سے مری میں ہونے والی اس ملاقات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں تو دوسری جانب ٹوئٹر پر جندل اور مری کے نام سے دو ٹرینڈز بھی چل رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہTwitter

پاکستانی اخبار ایکسپریس ٹریبون اور انڈین اخبار ٹائمز آف انڈیا کی اس حوالے سے خبریں بھی ان ٹرینڈز میں شامل ہیں۔

حزب مخالف کی جماعت پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ ’انڈیا میں سٹیل کی ایک بڑی شخصیت جندل وزیراعظم کے ساتھ کیا کر رہے تھے؟ کئی افراد کے مطابق انہوں نے مودی اور نواز کے درمیان تمام دو طرفہ ملاقاتوں کا انتظام کیا لیکن دفتر خارجہ کے بغیر۔‘

تحریک انصاف کی رہنما عندلیب عباس نے ٹویٹ کی کہ 'قطری خط کے بعد جندل خط جے آئی ٹی کو پیش کیا جائے گا۔۔۔دوستوں کے درمیان چند ارب سے کیا فرق پڑتا ہے۔۔۔مری معاہدہ تاریخ ساز۔'

اسی بارے میں جیو ٹی کے اینکر شاہ زیب خانزادہ نے وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کے ساتھ ایک انٹرویو کو بھی شیئر کیا ہے جس میں وفاقی وزیرِ اطلاعات نے نواز جندل ملاقات کا دفاع کرتے ہوئے ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی ان خبروں کی تردید کی کہ یہ انڈیا پاکستان کے درمیان تعلقات میں بہتری کے لیے ’بیک چینل‘ سفارت کاری کی کوشش ہے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا ہے کہ یہ وزیراعظم کی نجی ملاقات تھی اور یہ دو دوستوں کے درمیان ملاقات تھی کیونکہ دوستیاں سرحدوں کی پابند نہیں ہوتی ہیں۔

ایک صارف فرحان کے ورک نے لکھا کہ' جندل کو مری میں داخل ہونے کی اجازت کس طرح دی گئی جب ان کے پاس صرف لاہور اور اسلام آباد کا ویزہ تھا؟ کیا انڈیا کے لیے مختلف قانون ہے۔'

راشدہ عزیز کی ٹویٹ میں اس خیال کا اظہار کیا گیا ہے کہ نواز شریف اور جندل کی ملاقات کی خبر احسان اللہ کے قبضے کے بعد مہیا کی گئی ہے تاکہ اس معاملے کی شدت کو کم کیا جا سکے۔`

،تصویر کا ذریعہTwitter

اسد فرید نے ٹویٹ کی کہ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے مریم نواز شریف اور ڈی جی آئی ایس آئی کے بارے میں اعتزاز احسن کے بیان پر وضاحت جاری کی لیکن جندل کے دورے پر مکمل خاموشی۔‘

ایک دوسرے صارف عبدالمالک نے لکھا کہ فوج اور آئی ایس آئی سے چھپاتے ہوئے نواز شریف نے مری میں متعدد ملاقاتیں کیں اور اسی وجہ سے فوج ان پر اعتماد نہیں کرتی۔

وقاص گجر نے گذشتہ روز پاکستان کے قبائلی علاقے میں ہونے والے مبینہ ڈرون حملے کے تناظر میں کہا کہ'تو جندل اور ڈرون ایک ساتھ آئے۔'

،تصویر کا ذریعہTwitter

اس کے ساتھ حبیب محمد نے لکھا کہ وزیراعظم نے جندل سے امن پر بات چیت یا اس جیسی کسی بات پر ملاقات نہیں کی بلکہ یہ لازمی طور پر اپنے لیے اور اپنے خاندان کے لیے کوئی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

نصرت انس نے لکھا کہ دفتر خارجہ کلبھوشن کے معاملے پر انڈیا کے خلاف بات کر رہا ہے اسی دوران وزیراعظم جندل سے خفیہ طور پر مری میں ملاقات کر رہے ہیں۔ یہ سال کا بہترین لطیفہ ہو سکتا ہے‘۔