لاہور: غیر قانونی تجاوزات کے خلاف کارروائی کے دوران دھماکہ، 26 افراد ہلاک 50 سے زیادہ زخمی

،ویڈیو کیپشن

لاہور میں دھماکے کے بعد کے مناظر

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور میں حکام کا کہنا ہے کہ غیر قانونی تجاوزات ہٹانے کے دوران ہونے والے دھماکے میں کم از کم 26 افراد ہلاک اور 50 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔

پولیس کے مطابق غیر قانونی تجاوزات کو ہٹائے جانے کا کام ارفع کریم آئی ٹی ٹاور کے قریب سبزی منڈی میں کیا جا رہا تھا جب یہ دھماکہ ہوا۔

صوبائی وزیر صحت سلمان رفیق نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دھماکے میں اب تک 26 افراد ہلاک اور 50 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق ہلاک شدگان میں نو پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

اس سے قبل وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی نے کہا تھا کہ دھماکے کی نوعیت کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔‘

تاہم برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو ڈی آئی جی پولیس حیدر اشرف نے بتایا کہ یہ خودکش دھماکہ تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP

کمشنر لاہور نے بھی کہا کہ یہ خودکش دھماکہ لگتا ہے لیکن اس کی تصدیق محکمہ انسداد دہشت گردی کرے گا۔

جس جگہ یہ دھماکہ ہوا ہے وہ مصروف علاقہ ہے جبکہ حکومت پنجاب کے ترجمان ملک احمد کے مطابق یہ علاقہ ریڈ زون میں آتا ہے جہاں پر وی آئی پی موومنٹ ہوتی ہے۔

دھماکے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

دھماکے کی ذمہ داری

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے لاہور میں دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کےترجمان محمد خراسانی نے دعویٰ کیا ہے کہ تنظیم کے خودکش بمبار نے لاہور میں موٹر سائیکل خودکش دھماکہ کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

عینی شاہد

ارفع ٹاور میں کام کرنے والے ذیشان نے بی بی سی کے نامہ نگار عمر ننگیانہ کو بتایا کہ ’دھماکہ اتنا شدید تھا کہ ارفع ٹاور کے کچھ شیشوں میں کریک آ گئے۔ میں نے باہر دیکھا تو ایک موٹر سائیکل اور ایک گاڑی تباہ حالت میں کھڑی تھی۔ میرا خیال تو ہے کہ یہ خودکش دھماکہ نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ دھماکہ بہت شدید تھا۔‘

ایک پولیس اہلکار کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھے تھے کہ اچانک دھماکہ ہوا۔ ’پھر گرد و غبار تھا اور لاشیں پڑی ہوئی تھیں۔ ‘

ارفع ٹاور کا علاقہ

،تصویر کا ذریعہAFP

نامہ نگار عمر ننگیانہ نے بتایا کہ جس جگہ یہ دھماکہ ہوا ہے یہ کوٹ لکھپت کا علاقہ ہے جس کے بہت بڑے حصے پر غیر قانونی تجاوزات تھیں۔

جس جگہ ماڈل ٹاؤن ختم ہوتا ہے وہاں سے کوٹ لکھپت شروع ہوتی ہے اور جہاں یہ دھماکہ ہوا ہے اس کے سامنے کچہری بھی واقع ہے۔

لاہور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی ان غیر قانونی تجاوزات کے خلاف کچھ عرصے سے کارروائی کر رہی تھی اور اسی سلسلے میں اس علاقے میں پولیس کا ایک کیمپ بھی قائم کیا گیا تھا۔